ٹوکیو(عرفان صدیقی/نمائندہ جنگ) جاپان کی ایک نیوز ویب سائیٹ میں پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے صوبہ سندھ میں موجود تھر میں کوئلے کے ذخائر کا حجم آٹھ سو پچاس ٹریلین کیوبک فٹ ہے جس سے ایران اور سعودی عرب میں موجود تیل کے مجموعی ذخائر سے پیدا ہونے والی بجلی سے بھی زائد بجلی پیدا کی جاسکتی ہے،سعودی عرب اور ایران کے مشترکہ تیل کے ذخائر تین سو پچھتر آرب بیرل ہیں۔ ویب سائیٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تھر کول میں بجلی پیدا کرنے کے لیئے چارسو دس آرب روپے کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے لیکن حکومت دو سو آرب روپے خرچ کرکے کرائے کی بجلی حاصل کررہی ہے، لیکن تھر کول پر مکمل سرمایہ کاری سے گریزاں ہے جس کی وجہ پیٹرولیم لابی کے مفادات کا تحفظ ہے جو نہیں چاہتے کہ پاکستان میں پیٹرولیم کی امپورٹ کم ہوسکے۔سندھ کے تھر کول سے پیدا ہونے والی قدرتی گیس کا اندازہ آٹھ سو ٹریلین کیوبک فٹ ہے جو پاکستان کے موجودہ گیس کے ذخائر سے تیس گنازیادہ ہیں۔ ویب سائیٹ کے مطابق پاکستان میں تھر کول کے ذخائر کی قیمت پچیس ۵۲ ٹریلین امریکی ڈالر کے برابر ہوسکتی ہے۔کوئلے کے ان ذخائر سے نہ صرف پاکستا ن کی اگلے سو سال کی بجلی کی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں بلکہ ہر سال چار آرب ڈالر کے تیل کا امپورٹ بل بھی بچایا جاسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تھرکول سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمت تقریباّّ پانچ روپے فی یونٹ پڑے گی جبکہ فرنس آئل سے پیدا ہونے والی بجلی خصوصاّّ آئی پی پی سے خریدی جانیوالی بجلی پاکستان کو ساڑھے نو روپے فی یونٹ پڑرہی ہے۔  

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=370750

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha