یہ کہانی صرف ایک لڑکی کی نہیں بلکہ ایک طبقے کی کہانی ہے۔ اس کہانی کا آغاز بھی درد اور انجام بھی درد ہے۔ دکھ درد میں ڈوبا ہوا یہ طبقہ پاکستان کی اصل اکثریت ہے۔ اس طبقے سے تعلق رکھنے والے گھرانوں کی آمدنی چھ سات ہزار روپے سے دس بارہ ہزار روپے ماہانہ کے درمیان ہے۔ کسی زمانے میں آمدنی کے لحاظ سے یہ طبقہ لوئر مڈل کلاس کہلاتا تھا لیکن بڑھتی ہوئی مہنگائی اور افراط زر نے اس طبقے کو لوئر کلاس یعنی غریب طبقے کی طرف دھکیل دیا ہے۔ اس طبقے کیلئے پاکستان میں عزت کے ساتھ رہنا مشکل ہو چکا ہے حالانکہ یہ طبقہ ہی اصل میں پاکستان ہے۔
اس طبقے کی مجبوریوں کا اندازہ اس بات سے لگایئے کہ پچھلے دنوں فیڈرل بورڈ کے انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں ایک طالبہ نے اول پوزیشن حاصل کی۔ تقریب تقسیم انعامات میں اس ہونہار طالبہ نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے گزارش کی کہ وہ غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اسے میرٹ پر داخلہ تو مل جائیگا لیکن اس ادارے کی سالانہ فیس لاکھوں روپے ہے جو اس کا غریب باپ ادا نہیں کر سکتا لہٰذا اسے اسکالرشپ دیا جائے۔ وزیراعظم نے موقع پر موجود ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ایک بڑے افسر کو ہدایت کی کہ وہ اس ہونہار طالبہ کی مدد کرے۔ افسر صاحب نے طالبہ کو اپنا ای میل ایڈریس دیدیا۔ یہ طالبہ افسر صاحب کو ای میلیں بھیج بھیج کر تھک چکی ہے۔ اسے کوئی جواب نہ ملا تو اس نے میرے ساتھ رابطہ کیا۔ سب سے پہلے تو اس نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ کے امتحان میں 1100 میں سے 1030نمبر حاصل کر کے اس نے بورڈ میں ریکارڈ قائم کیا تو میرے منہ سے فوراً نکلا شاباش بیٹی۔ اس نے اپنی محرومیوں کی کہانی شروع کی تو اس کے باپ کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے۔ لیکن مجھے آپ کو اس ہونہار طالبہ کی محرومیوں کی کہانی نہیں سنانی کیونکہ یہ کہانی ادھوری ہے۔ آج مجھے آپ کو ایک ایسی طالبہ کی کہانی سنانی ہے جس کی موت اس کی کہانی کو مکمل کر چکی ہے۔
یہ کہانی سبین یوسف کی ہے جو انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں ایم ایس سی ریاضی کی طالبہ تھی۔ سبین صرف دو سال کی تھی جب وہ باپ کی شفقت کے سائے سے محروم ہوگئی۔ سبین کی بہادر ماں نے غربت و افلاس کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی بجائے جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔ اس نے محنت مزدوری کی اور اپنے چار بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی کوششوں میں مصروف رہی۔ اپنے محدود وسائل کے باوجود وہ اپنی بیٹی سبین کو میٹرک تک تعلیم دلانے میں کامیاب رہی۔ میٹرک کے بعد سبین کو کالج بھیجنا اس کیلئے مشکل تھا لیکن اس مشکل کا حل خود سبین نے تلاش کرلیا۔ وہ بچوں کو پرائیویٹ ٹیوشن پڑھانے لگی اور یوں اپنی تعلیم کے اخراجات برداشت کرتے ہوئے یونیورسٹی تک جا پہنچی۔ کچھ عرصہ قبل یہ غریب لڑکی ایک انتہائی مہلک اور مہنگی بیماری میں مبتلا ہوگئی۔ ڈاکٹروں نے اسے بتایا کہ اس کے جگر نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ یہ خبر سننے کے بعد بھی سبین نے ٹیوشنیں پڑھانا اور یونیورسٹی جانا نہ چھوڑا۔ وہ تعلیمی اخراجات کے ساتھ ساتھ اپنے طبی اخراجات بھی خود برداشت کر رہی تھی۔ اسے امید تھی کہ وہ صحت یاب ہو جائیگی۔ پھر ایک دن ڈاکٹر نے اسے بتایا کہ پاکستان میں اس کا علاج ممکن نہیں۔ اسے کہا گیا کہ اسے جگر کے ٹرانس پلانٹ کی ضرورت ہے اور یہ صرف چین یا بھارت میں ممکن ہے اور اس کی مکمل صحت یابی کی قیمت کم از کم 45لاکھ روپے ہے۔
سبین کے غریب خاندان کا واحد اثاثہ راولپنڈی میں صرف دو مرلے کا ایک مکان تھا۔ اس کی غریب ماں اور بھائی علاج کے اخراجات پورے کرنے کیلئے دو مرلے کا مکان بیچنے کیلئے تیار تھے لیکن اس غریب خاندان کے خستہ مکان کی قیمت علاج کے اخراجات سے بہت کم تھی۔ بہادر اور باہمت سبین یوسف نے مدد کیلئے صدر آصف علی زرداری کو خط لکھا۔ ایوان صدر میں بیٹھے ہوئے ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ سلمان فاروقی نے اس کا خط وفاقی وزارت صحت کو بھیج دیا۔ وفاقی وزارت صحت نے صرف یہ مہربانی کی کہ سبین کو خط کا جواب دیدیا اور بتایا کہ حکومت اسے علاج کیلئے بیرون ملک بھیجنے سے قاصر ہے۔
حکومت کا جواب ملنے کے بعد سبین یوسف نے مجھے خط لکھا۔ اپنے ہاتھ سے خوبصورت انگریزی میں لکھے گئے خط کے ساتھ سبین نے اپنی بیماری اور علاج سے متعلق دستاویزات کی نقول بھی منسلک کی تھیں۔ میں نے اس کے ڈاکٹر سے فون پر خود بات کی اوراپنی تسلی کرنے کے بعد اس کالم میں سبین کی مدد کیلئے درخواست کی۔ یہ کالم 6اگست بروز جمعرات شائع ہوا۔ اسی روز صبح صبح سبین نے مجھے ہولی فیملی ہاسپٹل راولپنڈی سے فون کیا اور بتایا کہ کئی درد مند حضرات نے اسے فون کیا ہے اور مدد کا وعدہ کیا ہے۔ وہ اپنی تھکی تھکی اور نحیف آواز میں میرا شکریہ ادا کر رہی تھی لیکن اسے یقین نہ تھا کہ اس کیلئے اتنی بھاری رقم اکٹھی ہو سکے گی۔ اگلے دن اس نے فون کیا تو بہت خوش تھی۔ اس نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اس کے علاج کیلئے ہدایات جاری کر دی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی توجہ کے علاوہ دنیا بھر سے ”جنگ“ کے قارئین نے بھی سبین کے ساتھ رابطہ کیا اور اسے خوب حوصلہ دیا۔ وہ معصومیت میں خود ہی لوگوں کو بتانے لگی کہ اسے وزیراعلیٰ پنجاب علاج کیلئے چین بھجوا رہے ہیں اور وہ بہت جلد صحت یاب ہو کر واپس آئیگی۔ ایک دن مجھے فون کر کے کہنے لگی کہ جن لوگوں نے میری مدد کیلئے مجھے رقم بھجوائی ہے ان سب کا شکریہ ادا کر دیجئے گا اور اگر یہ رقم مجھ پر خرچ نہ ہو سکی آپ کسی اور مستحق مریض پر خرچ کر دیجئے گا۔ اس دوران پاسپورٹ، ویزے اور دیگر کاغذی کارروائیوں میں دو ہفتے گزر گئے۔ گزشتہ جمعرات کو اس کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی فیصلہ کیا گیا کہ صوبائی حکومت کے انتظامات کا انتظار نہ کیا جائے اور سبین کو امدادی رقم کے ذریعہ چین بھجوا دیا جائے۔ یہ رقم مطلوبہ رقم کا نصف بھی نہ تھی لیکن سبین کو یقین تھا کہ مطلوبہ رقم پوری ہو جائیگی۔ اس یقین کے سہارے وہ موت سے لڑتی رہی لیکن جمعہ کی صبح جب درد بڑھ گیا تو اپنی والدہ سے بولی کہ وہ قرآن پاک کی تلاوت کریں۔ والدہ نے قرآن کی تلاوت شروع کی اور کچھ دیر میں یہ بہادر لڑکی اللہ تعالیٰ کو پیاری ہوگئی۔
21اگست کی صبح سبین کی بڑی بہن نے زاروقطار روتے ہوئے مجھے اس کی موت کی اطلاع دی اور کہا کہ اس کی بہن اس خوشی سے مر گئی جو کچھ لوگوں کی ہمدردی کے ذریعہ اسے ملی۔ اس کی والدہ نے مجھے کہا کہ جو رقم سبین کے علاج کیلئے اکھٹی ہوئی وہ اب انہیں بالکل نہیں چاہئے اور سبین کی وصیت کے مطابق آپ یہ رقم کسی اور مریض پر خرچ کر دیں۔ انشاء اللہ ایسا ہی ہوگا۔ ہم ایک سبین کو نہ بچا سکے تو کسی دوسری سبین کو بچانے کی کوشش کریں گے۔ سبین کی کہانی کا سبق یہ ہے کہ پاکستانی قوم میں بہت خامیاں ہیں لیکن یہ قوم بے حس نہیں ہے۔ یہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کے کام آنے والی قوم ہے۔ ہم غور کریں تو ہمارے اردگرد سبین جیسی بہت سی لڑکیاں اور لڑکے خاموشی کے ساتھ غربت اور بیماری سے لڑتے رہتے ہیں۔ ہمیں ایسے مستحق نوجوانوں کی مل جل کر مدد کرنی چاہئے۔ ہماری تھوڑی سی توجہ اور ہمدردی سے سبین جیسی کئی لڑکیاں اور لڑکے مایوسیوں اور موت سے بچ سکتے ہیں۔ آج ہمیں اس ملک کے غریب طبقے کو مایوسیوں اور موت سے بچانے کے لئے ایک دوسرے کی خود ہی مدد کرنا ہوگی کیونکہ یہ غریب طبقہ ہی پاکستان کی اصل اکثریت ہے اور یہی طبقہ اصلی پاکستان ہے۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=369994

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha