Aug 202009
| لندن(نمائندہ جنگ) برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے مبینہ طور پر بینظیر بھٹو اور عمران خان کے درمیان تعلقات کی خبر کو قطعی بے بنیاد،اسکینڈل پر مبنی اور بدنام کرنے کی سوچی سمجھی سازش قراردیا ہے۔لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے بدھ کو جاری ایک پریس ریلیز میں اس اسٹوری پر تبصرہ کرتے ہوئے ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ پاکستان کی شہید وزیراعظم کا عمران خان کے ساتھ کبھی بھی ایسا کوئی معاملہ نہیں نہیں رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے خود سے منسوب اس مبینہ اسٹوری کی سختی سے تردید کی ہے۔ پاکستانی ہائی کمشنر نے کہاکہ وہ 60ء کی دہائی سے بھٹو خاندان سے منسلک ہیں اوروہ 1979ء سے بینظیر بھٹو کے قریبی معتمد رہے ہیں اوروہ یہ بات ریکارڈ پر لاسکتے ہیں کہ بینظیر بھٹو کا کبھی بھی کسی سے بھی کوئی افیئر نہیں رہے ہیں۔آصف زرداری سے ان کی شادی پاکستانی روایت کے مطابق دو خاندانوں کی جانب سے طے کردہ تھی۔واجد شمس الحسن نے اسکینڈل پر مبنی اس اسٹوری کو مستردکرتے ہوئے اسے پاکستان کی مقبول وزیراعظم کو بدنام کرنے کی واضح اورناپسندیدہ کوشش قراردیا۔انہوں نے کہا کہ یہ عمران خان کی نئی سوانح کی مارکیٹنگ کے لئے اختیار کیا گیا سستاطریقہ کار ہے۔ واضح رہے کہ ایک نئی سوانح میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بے نظیر بھٹو زمانہ طالب علمی میں عمران خان سے بہت متاثر تھیں۔ کتاب کے مصنف کرسٹوفر سینڈفورڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں کے درمیان بہت اچھے تعلقات تھے، انہوں نے کہا کہ عمران خان کی والدہ نے دونوں کی شادی کرانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہیں۔ اخبار ٹیلی گراف نے لکھا ہے کہ اب تک یہ تصور کیا جاتا تھا کہ عمران خان اور بے نظیر بھٹو سیاسی طور پر اور شخصی اعتبار سے ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ بے نظیر کی موت سے چند دن پہلے تک عمران خان نے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ سینڈ فورڈنے اس کتاب کے لئے عمران خان اور ان کی سابق بیوی جمائما سے انٹرویو کئے۔ ایک ذریعہ کے مطابق آکسفورڈ میں زمانہ طالب علمی کے دوران بے نظیر کی عمر 21/سال تھی اور وہ لیڈی مارگریٹ ہال میں سال دوئم سیاسیات کی طالبہ تھیں، اس زمانے میں وہ عمران خان کو پسند کرتی تھیں اور لاہور کا شیر کہہ کر پکارتی تھیں۔ |
Source: Daily Jang, 20-August-09
Asslamu alikum
i am ali seeking job of it and bus driving please send info Thanks