مجھے اپنے میڈیاسے شدیدشکایت ہے کہ یہ ان خبروںسے غفلت برتتاہے جوقومی اوربین الاقوامی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔اگرمشرف کے ٹرائل کی بات ہوتی ہے تو اس پرخصوصی پروگرام نشر کیے جاتے ہیں ، کالم نگار بے پر کی تونہیںپروںوالی اڑانے لگتے ہیں، چوہدری شجاعت کچھ بھی ارشادفرمائیںچاہے ایک ٹرک اوردوجیپوں کی دردن پردہ خواہش کااظہار کریں،میرا جوکہتے ہیں کہ اداکاری بھی کرتی ہے جوبھی ہانک دے، ویناملک کچھ بھی اوٹ پٹانگ کہہ دے توہمارامیڈیا فوراً اس کانوٹس لیتاہے۔ شہ سرخیاں لگ جاتی ہیں لیکن اگر لاہورمیں چھٹی ایشیائی بھینس کانفرنس کاانعقادہورہا ہوتو اس خبرسے غفلت برتی جاتی ہے حالانکہ یہ حقیقت اظہرمن الشمس ہے کہ مشرف، چوہدری شجاعت، میرا یاویناملک کی نسبت پاکستانی بھینسوں نے اس ملک کی ترقی میں زیادہ کردار ادا کیاہے۔ بیشتر سیاستدان تو نہ صرف اپنے حصے کابلکہ دوسروں کے حصے کادودھ بھی پی جاتے ہیںاورڈکار تک نہیںلیتے، اگرلیتے ہیںتو غیرممالک میں جاکرلیتے ہیں تاکہ ان کے ڈکار کی آواز ہم تک نہ پہنچے اورپھربھی پہنچ جاتی ہے اوران کے خلاف کرپشن کے کیس دائر کردیئے جاتے ہیں جوبعدمیں ملکی مفاہمت اورسا لمیت کے نام پرواپس لے لیے جاتے ہیں، جبکہ پاکستانی بھینس ہمیشہ دودھ دیتی ہے اور ملکی معیشت اورصحت عامہ میںمعاون ثابت ہوتی ہے بھینس کبھی سیاست میں نہیںآتی صرف تب آتی ہے جب کسی سیاستدان پران اس کے مخالفین بھینس کی چوری کامقدمہ درج کروادیتے ہیں۔ اب ذرا بھینس کانفرنس کے بارے میںکچھ تفصیلات ملاحظہ کرلیجئے۔ ایشیائی بھینس ایسوسی ایشن کے صدرڈاکٹر طلعت نصیرپاشا نے ایک بیان میں کہاہے کہ۔ ۔ ۔ اورہاں ہم یہ سمجھتے تھے کہ صرف ہمارا ہی صدرہوتاہے جبکہ کیسی خوش آئندخبر ہے کہ بھینسوں کابھی صدرہوتاہے توڈاکٹر پاشا نے کہاہے کہ لاہورمیں منعقدہونے والی چھٹی ایشیائی بھینس کانفرنس میںشرکت کرنے کیلئے تقریباً ساڑھے سات سوبھینس ماہرین دنیاکے مختلف ملکوںسے تشریف لارہے ہیں جن میں برازیل، چین، بلغاریہ، کینیڈا، انڈیا، انڈونیشیا ا یران، اٹلی، جاپان اورامریکہ وغیرہ شامل ہیں۔ ابھی تک ساڑھے تین سوکے قریب مقالات جو بھینسوں کی ترویج اورترقی کے بارے میں ہیں لاہور میں موصول ہوچکے ہیں ظاہرہے یہ ایکسپرٹ جن ممالک سے تشریف لارہے ہیں وہاں بھینسیں بھی ہوںگی اوروافر تعدادمیںہوںگی ورنہ وہ ایکسپرٹ کیسے ہوجاتے۔ مجھے اس خبرسے ایک خوشگوارحیرت اس لیے بھی ہوئی ہے کہ اچھایہ بھینسیں انڈیا اورپاکستان کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی ہوتی ہیں اورہم خواہ مخواہ احساس کمتری کاشکاررہے اب یاد آیاکہ غالباً چین میںاورویت نام وغیرہ میں بھی بھینسیں پائی جاتی ہیںاوروہاںانہیں ہماری طرح لاڈپیار سے بگاڑا نہیں جاتا کہ سارا دن جوہڑوں میںڈبکیاں لگاتی رہیں ،کیچڑ میںلوٹتی رہیں اورشام کوانہیں نہلادھلا کران کادودھ دوھ لیاگیا بلکہ وہاںتو ان بے چاریوں کو ہل کے آگے جوت کران سے مشقت لی جاتی ہے بلکہ ریڑھوں میںبھی جوتا جاتاہے یعنی وہاں بیل گاڑیاں نہیںبھینس گاڑیاں ہوتی ہیں البتہ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کینیڈا میںبھینسیں کہاںسے آگئیں۔ وہاںبے شمار سکھ حضرات تو آئے لیکن اپنی بھینسیںتو ساتھ نہیں لائے میں نے کینیڈا میں نہایت دوردراز کے خطوںتک سفرکیاہے یہاں تک کہ وادی یوکان بھی میری دیکھی بھالی ہے لیکن حرام ہے ان سفروں کے دوران مجھے وہاں کوئی ایک بھینس بھی نظر آئی ہو اگرنظر آتی تو میںیقیناً اسے دیکھ کراپنے پاکستان کیلئے آبدیدہ ہوجاتا اگرچہ اس کے گلے لگنے سے پرہیزکرتا ہاں کینیڈا میں لبسان یعنی جنگلی بھینسے وافر تعداد میں پائے جاتے ہیں جن کے گوشت سے تیار کردہ برگرمیں نے بھی کھائے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ کینیڈا سے آنے والے ایکسپرٹ اپنے ہمراہ سیمپل کے طورپرکوئی جنگلی بھینسانہیںلائیںگے ورنہ مقامی بھینسیں پریشان ہوجائیںگی مجھے یہاں جپسی یاد آرہی ہے وہ سوئٹزرلینڈ سے مجھے ملنے کیلئے پاکستان آئی تو میںاسے مقامی ثقافت کی تابندگی دکھانے کیلئے اندرون شہرلے گیا رنگ محل چوک کے قریب یکدم بھینسوں کاایک ریوڑ سامنے آگیاتو وہ خاتون ڈرکے مارے مجھ سے تقریباً لپٹ گئیں کہ مستنصرجنگلی بھینسیں۔ یہ تم مجھے کہاں لے آئے ہو۔ میں نے اسے بہت سمجھایا کہ بی بی یہ جنگلی نہیںہیں تمہاری سوئس گائیوںسے بھی زیادہ بھولی ہیں لیکن اس نے یقین کرنے سے انکارکردیاکہ اگر بھینس ہوگی توجنگلی ہوگی ویسے بعد میںبہت پچھتایا کہ خواہ مخواہ ان کے بے ضرر ہونے کابتادیاورنہ کبھی کبھار اسے بھینسیں دکھاکرخاطر خواہ نتائج حاصل کیے جاسکتے تھے ویسے پاکستان میں بھینس کوکبھی بھی وہ مقام نہیںدیاگیا جس کی وہ مستحق ہے۔ پنجاب میں اب بھی نہایت حسرت سے کہاجاتاہے کہ فلاں کے ڈیرے پرتوتین بھینسیں بندھی ہوئی ہیں اسے کیاغم ہوسکتاہے جس کے گھرمیں دودھ اورمکھن ہواسے دنیا میں اورکیاچاہیے ذرا غورکیجئے کہ اگر بھینس نہ ہوتی تو رومان نہ ہوتا، سوہنی مہینوال نہ ہوتے ہیراور رانجھا نہ ہوتے سوہنی کیلئے توایک غیرملکی شہزادہ بھینسیں چرانے پرنوکرہوگیاتھا اوراسی لیے مہینوال یعنی بھینسوںوالا کہلایا۔ جنگل بیلے میںبھینسیںنہ ہوتیںتو رانجھا کسے اپنی بانسری کی دھنیںسنایا کرتا تو بھینس کی قدرکیجئے کہ میرے نزدیک یہ ہمارا قومی جانورہے کالاسیاہ کالاہے تو کیاہوا دلدار بھی توکالے سیاہ ہوتے ہیں میں سمجھتاہوں کہ وقت آگیاہے کہ بھینس کواس کا جائز مقام دیاجائے اور اس سلسلے میں لاہورمیں ہونے والی بھینس کانفرنس ایک اہم پیشرفت ہے اگر ادیبوں، دانشوروںاور سیاستدانوں کی کانفرنسیں ہوسکتی ہیںتو بھینسوں کی کانفرنسیں باقاعدگی سے کیوںنہیںہوسکتیں جبکہ بھینسیں ان سب سے زیادہ مفیداوربھولی بھالی ہوتی ہیں آپ کادودھ پی نہیںجاتیں آپ کودودھ دیتی ہیں۔

Courtesy: Daily Jinnah

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks

Related posts:

  1. آل پاکستان گدھا کانفرنس – مستنصر حسین تارڑ
  2. سیاحت کے شرعی مسائل – مستنصر حسین تارڑ
  3. گول گپے، ناہید خان اور شیری رحمان ۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ
  4. اقبال بانو ،دشت تنہائی میں۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ
  5. یہ خواب کیوں آیا۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ

Leave a Reply

(required)

(required)

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha