بتایا جاتا ہے اور اس پر شبہ بھی نہیں کیا جا سکتا کہ موبائل (دستی فون) انڈسٹری نے فارماسوٹیکل (دواسازی) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (اطلاعات صنعت) سے بھی زیادہ تیز رفتاری سے ترقی کی ہے ۔ گزشتہ دس سالوں کی طرح اگلے دس سالوں میں بھی یہ رجحان قائم رہنے کی توقع کی جا رہی ہے ۔ ایک سروے رپورٹ کے مطابق سال 2004ء کے آغاز میں موبائل فون استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک ارب 74کروڑ تھی جو 2009ء کے آخری مہینوں میں تین ارب نوے کروڑ تک پہنچ جائے گی اور سال 2012ء تک چار ارب نوے کروڑ تک پہنچ سکتی ہے ۔ ترقی پذیر ملکوں میں جہاں دستی فون رابطے کے دیگر وسائل سے سستے ہیں موبائل فون کا استعمال جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہا ہے ۔ دستی فون کے ذریعے رابطوں کا استعمال بھی دیگر ذرائع اور وسائل کے مقابلے میں تیس گنا زیادہ ہے چنانچہ ان کا ریونیو بھی سال 2004ء کے پانچ سو انیس ارب ڈالروں سے بڑھ کر سال 2012تک ایک ہزار 94ارب ڈالروں تک پہنچ جائے گا۔
اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ پندرہ سال پہلے اندیشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ٹیلی ویژن نیٹ ورکس صحافت اور فلمی صنعتوں کو نگل جائیں گے مگر یہ اندیشہ بے بنیاد اور غیر حقیقی ثابت ہوا ہے اور ٹیلی ویژن نیٹ ورکس نے فلمی اور صحافتی صنعتوں کو منفی کی بجائے مثبت طور پر متاثر کیا ہے ۔ اس عرصہ میں اگر فلم بینوں کی تعداد میں تیس سے چالیس فیصد تک اضافہ ہوا ہے تو صحافت کی صنعت کا عالمی سطح پر مالیاتی حجم ایک سو چالیس ارب ڈالروں سے بڑھ کر 182ارب ڈالروں تک پہنچ گیا ہے اور یہ اضافہ عالمی مالیاتی بحران کے باوجود ہوا ہے ۔
تعداد اشاعت (سرکولیشن) کے لحاظ سے دنیا کے سو بڑے اخبارات میں سے 25اخبارات چینی زبان میں20اخبارات ہندوستانی زبانوں میں اور 16 اخبارات جاپانی زبان کے ہیں جبکہ تین سب سے زیادہ چھپنے والے اخبارات کا تعلق جاپان اور وہاں کی زبان سے ہے جن کی مجموعی سرکولیشن تین کروڑ 87لاکھ بتائی گئی ہے ۔دنیا کا چوتھا سب سے بڑا اخبار ہندوستان کا ہے اور اسکی زبان انگریزی ہے ۔ مذکورہ بالا سروے رپورٹ ورلڈ ایسوسی ایشن آف نیوز پیپرز نے جاری کی ہے جس کے مطابق دنیا کے سو بڑے اخبارات میں سے سات کا تعلق برطانیہ عظمیٰ سے ہے اور سات کا تعلق امریکہ سے چھ کو ریا سے اور چار تھائی لینڈ سے شائع ہوتے ہیں۔ ان میں دو، دو اخبارات مصر، روس اور ترکی کے بھی ہیں جبکہ آسٹریا، فرانس، جرمنی، انڈونیشیا، اٹلی، نیدرلینڈ، فلپائن، پولینڈ اور تائیوان کا ایک ایک اخبار دنیا کے سو بڑے اخبارات میں شمار کیا گیا ہے ۔سب سے زیادہ چھپنے والے جاپانی اخبار کی سرکولیشن ایک کروڑ بیس ہزار بتائی جاتی ہے ۔
سروے رپورٹ کے مطابق مفت بانٹے جانے والے دنیا کے بیس اخبارات میں سرفہرست برطانیہ کا اخبار میٹرو(METRO) ہے جس کی سرکولیشن 13لاکھ بتائی گئی ہے۔اٹلی کا اخبار (LEGGO) اور سپین کا (ZOMINUTOS)علی الترتیب دس لاکھ اور نو لاکھ 48ہزار کی تعداد اشاعت کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ دنیا کے دس سب سے بڑے اخبار کی اشاعت ایک کروڑ ترپن لاکھ انیس ہزار بتائی جاتی ہے جو مفت تقسیم کئے جاتے ہیں اور ان کی تمام تر کمائی اشتہاروں کے ذریعے ہوتی ہے ۔
دنیا کے سو بڑے اخبارات میں شمار کئے جانے والے ہندوستان کے بیس اخبارات میں سے چھ اخبارات ہندی زبان کے، دو ملیاع زبان کے، چار انگریزی زبان کے ،ایک گجراتی، ایک مراٹھی، دو تامل، اور دو ملیاع زبانوں کے ہیں۔ ایک اخبار بنگالی زبان آنند بازار پتریکا بارہ لاکھ پچپن ہزار کی اشاعت کا بتایا جاتا ہے ۔ حالیہ مالیاتی بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک امریکہ کے اخباری اشتہاروں میں کم از کم تیس فیصد کمی آئی ہے ۔ اخبارات اور اشتہارات گزشتہ سوسالوں سے لازم و ملزوم چلے آ رہے ہیں مگر حالیہ سالوں میں اخباری اشتہارات کا تیس فیصد پھسل کر الیکٹرانک میڈیا کی طرف جا رہا ہے ۔ 2004ء میں دنیا کے دس ہزار آٹھ سو تیس اخبارات شائع ہوتے تھے جو سال 2009ء کے آخری مہینوں میں بارہ ہزار پانچ سو اسی تک پہنچ چکے ہیں۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=368433

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks
  • Add to favorites
  • email

Related posts:

  1. ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں …گریبان … منوبھائی
  2. مستقبل قریب کا ہندوستان….گریبان … منوبھائی
  3. کیا بددیانتی میں جرأت ہوتی ہے؟,,,,گریبان …منوبھائی
  4. انصاف سے آسمان نہیں گرتا ….گریبان …منوبھائی
  5. دس سالوں میں دو لاکھ خودکشیاں- منوبھائی

Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha