کئی دنوں سے سوچ رہاتھاکہ پنجاب میں اچھی حکومت اور اپنے آپ کو خادم اعلیٰ کہلانے والے میاں شہباز شریف کو کس عقل مند نے مشورہ دیا ہے کہ پاکستان کی فوڈسٹریٹ کو بند کر دوگے تو آپ کی حکومت کی کارکردگی میں اضافہ ہوجائے گا ۔ اورپاکستان کے اندر سے بالعموم اور پنجاب کے اندر باالخصوص آٹا، چینی ،سبزیوں کی جو کمی ہے و ہ ختم ہو جائے گی ۔ اسی سوچ میں مبتلا تھا کہ پتہ چلاکہ حکومت پاکستان 14اگست کی مناسبت سے تمغے تقسیم کررہی ہے اگرچہ میرے صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری سے اتنے مراسم تو نہیں ہیں کہ میں فون پر یا بالمشافہ فور ی طور پر ان سے یہ درخواست کرتا کہ پنجاب حکومت میں موجود اس عظیم مفکر دانشور اور صاحب عقل کو تمغہ سے ضرور نواز دیں جس نے پاکستان کی اس فوڈ سٹریٹ کو بند کرنے کا قوم کے وسیع ترمفاد میں مشور ہ دیا جو فوڈسٹریٹ آج سے آٹھ سال قبل 24اکتوبر 2001ء کو قائم ہوئی تھی اور اس فوڈ سٹریٹ کے قیام میں اس وقت کی ضلعی انتظامیہ کا صرف مشورہ شامل تھا کوئی پیسہ نہیں فوڈ سٹریٹ کے قیام کے لئے وہاں کے مقامی باشندوں نے اپنی مد د آپ کے تحت محترم کامران لاشاری کی ابتدائی مشاورت سے کام شروع کیا اور پھر یہ فوڈ سٹریٹ دنیا بھر کے سیاحوں کا مرکز بن گئی ۔لاہور کی گوالمنڈی کی یہ فوڈ سٹریٹ پہ پہلے بھی قبضے کی کوشش ہوتی رہی مگر کسی نے اس بنے ہوئے گلستان کو اجاڑنے کو کوشش نہ کی ۔ چودھری پرویز الہی کی حکومت میں اس کے مقابلے میں پرانی انار کلی میں فوڈ سٹریٹ بنائی گئی مگر وہ بھی اس کا مقابلہ نہ کرسکی ۔ دنیا بھر کی ملٹی نیشنل کمپنیوںنے اس فوڈ سٹریٹ کو سپانسر کیا ۔ اسکی خوبصورتی کے اضافے کے لیے مقامی آبادی نے بھر پور تعاون کیا اور کیوں نہ کرتی وہ لوگ جن کی دکانیں دوہزار ماہانہ کرائے پر جاتی تھیں وہ دو ہزار روز کمانے لگے ۔ فوڈ سٹریٹ فرانس کے شانزے لیزے کی طرح دنیا بھر میں مشہور ہوئی عالمی ذرائع ابلاغ نے اس 45سے50 دکانوں والی سٹریٹ میںجہاں86 قسم سے زائد کھانے انتہائی معیاری اور سستے ملتے تھے پر کئی فلمیں نشرکیں ۔فوڈ سڑیٹ اور پاکستان دنیابھر میں لازم ملزوم ہوئے ۔اس سٹریٹ میں جس طرح غیر ملکی سیا ح اور پاکستان کی فیملیاں آزادی سے گھوم سکتی تھیں پاکستان میں کسی اور جگہ ایسا ممکن نہ تھا ۔ 8سال سے اس فوڈ سٹریٹ میں رہنے والے مکینوں کی زندگیوں میں خوشحالی کے آثار دیکھے جارہے تھے یہ کسی فرد واحد یا گروپ کی فوڈ سٹریٹ نہیں مقامی آبادی کی فوڈ سٹریٹ تھی جس کو عالمی سطح پر جو مقبولیت ملی و ہ کسی سے مخفی نہیں ہے ۔ باقی پاکستان کی نسبت یہاں پر ماحول کی بہتری کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کے پہلے ہی سال میں لاہور کے ایک ذمہ دار فوجی افسر (جو کہ ریٹائرڈ ہو چکے ہیں ) کے صاحبزادے نے اپنے چند دوستوں کے ساتھ نیکر کے ساتھ داخلے کی کوشش کی تو فوڈسٹریٹ کی سیکورٹی نے اس صاحبزادے کو اجازت نہ دی ۔ صاحبزادے نے وہ تمام اثرورسوخ استعمال کیے جو صاحبزادے کرتے ہیں مگر فوڈ سٹریٹ انتظامیہ نے کسی دباؤ میں آئے بغیر اس صاحبزادے کو فوڈ سٹریٹ میں داخل نہ ہونے دیا ور اس کے بعد آج تک کسی نے اس ضابطہ اخلاق کی مخالفت نہ کی جو فوڈسٹریٹ میں قائم کردیاگیا تھا ۔
کہتے ہیں کہ خادم اعلیٰ کو یہ بھی بتایا گیا کہ یہ فوڈ سٹریٹ چونکہ جنرل مشرف کی یادگا رہے تو اس کو ختم کر دینا چاہیے میرے خیال میں خادم اعلیٰ نے اگر 1122کی سروس کو ختم نہیں کیا تو ان کو اس پر بھی غور کرنا چاہیے ۔ ویسے میں گذارش کردوں کہ فوڈ سٹریٹ 2001ء میں قائم ہوئی اور جنرل پرویز مشرف یہاں پر 2002ء میں آئے چونکہ میں جنرل مشرف کے فوڈ سٹریٹ آنے کا عینی شاہد ہوں اسلیے گذارش کردوں کہ جنرل مشرف کی آمد کے لیے شرط یہ رکھی گئی تھی کی کوئی ہٹو بچونہیں ہوگی جس طرح عام لوگ کھانا کھارہے ہیں اسی طرح رہیں گے ۔ اور یہی ہو ا دوگھنٹے سے زائد وقت تک جنرل پرویز مشرف گورنر جنرل :صفدر ،جنرل (ر) عزیز، برگیڈئر اعجاز احمد شاہ اپنی فیملیوں کے ہمراہ اس فوڈ سٹریٹ میں بغیر کسی ہٹو بچو کے بیٹھے رہے نہ کسی چھت پر کوئی سیکورٹی والا تھا اور نہ ہی کسی کو کسی جگہ سے ہٹایا گیا تھا ۔
اس لیے لوگ اسے غریبوں کی تفریح گاہ بھی کہتے تھے جہاں پر ایک فیملی پانچ سو سے ایک ہزارمیں بہترین کھانا کھا نے اور تفریح کے بعد چلی جاتی تھی ۔
غیر ملکی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد یہاں آپ کو ملتی تھی ۔ مگر جس صاحب عقل نے یہ مشورہ دیا ہے اس کو منظور نہیں کہ غریب آدمی بھی تفریح کرسکے ۔ وطن عزیز میں کوئی اچھی چیزباقی رہ سکے ۔ خادم اعلیٰ پنجاب سروے نہیں پورے ملک میں ریفرنڈم کروالیں ہر طرف سے آواز آئے گی کہ آپ نے یہ غلط فیصلہ کیا ہے ۔ کوئی بھی خادم اعلیٰ پنجاب کے اس فیصلے کو صحیح نہی کہے گا مجھے نہیں پتہ کہ 45سے 50 دوکانوں اور 12اسٹالوں پر کام کرنے والے سینکڑوں بے روزگار وں کا اب کیا ہوگا ۔ ان میں سے کتنے ہوں گے جو روزانہ کی بنیادوں پر اپنا روزگار کمار ہے ہوں گے ۔مگر میرا سخت جان کہیں سے خبرنکال لایا ہے کہ غریبوں کو مبارک ہو جس طرح وہ اسلام آباد کے ریڈزون ایریا میں نہیں جاسکتے اب و ہ فوڈ سٹریٹ بھی نہیں جاسکیں گے ۔ کیونکہ فوڈ سٹریٹ ایم ایم عالم روڈ پر منتقل کرنے کا منصوبہ تشکیل دیا جارہا ہے جہاں غریب اور غربت کا داخلہ ممنوع ہے جہاں پر چائے کا ایک کپ 160روپے کا ملے گا ۔ وہاں غریب کیا کرئے گا ۔ لہذا اس ساری تمہید کا مقصد وہی ہے کہ جناب صدر ایک تمغہ اس عقل اور شعور سے مالا مال افسر کے لئے جس نے غریبوں سے ان کی تفریح چھین لی
اور خادم اعلیٰ سے اس دور کا سب سے غیر مقبول فیصلہ کروایا ۔ آخر ایسے فیصلے نہیں کریں گے تو طاقتور کیسے آئیں گے اور پھر طاقتورں کے آنے پر مٹھائیاں کیسے بانٹیں گے ۔اور چند سالوں بعد ان طاقتوروں کو گالیاں کیسے دیں گے ۔ جن کو لانے کے لیے یہ حکمران طبقہ تمام تر کوششیںخود کرتا ہے۔
Courtesy: Daily Jinnah, 16/8/2009
Recent Comments