چند روز پیشتر میرے ممدوح سید سرفراز شاہ صاحب کے عقیدت مند اور میرے کالج کے زمانے کے شاگرد محمد زبیر میرے پاس آئے اور کہا کہ سرفراز شاہ صاحب کے مرشد سید یعقوب علی شاہ کے عرس کے موقع پر منعقد ہونے والے ایک سیمینار میں نے پوچھا موضوع کیا ہے؟ بولے ”تصوف“ میں نے عرض کی کہ گو یہ خاکسار پیروں کے خانوادے سے تعلق رکھتا ہے اور اس کے بزرگ صدیوں تصوف کی گتھیاں سلجھاتے رہے ہیں لیکن یہ ننگ اسلاف خود کو اس موضوع پر اظہار خیال کا اہل نہیں سمجھتا۔ مجھے یقین تھا کہ زبیر نے ابن انشاء کو نہیں پڑھا ورنہ میں ان کے سامنے خود کو ”ننگِ اسلاف“ کہنے کا رسک کبھی نہ لیتا، کیونکہ ابن انشاء کے ایک استاد بوجہ انکسار اپنے نام کے ساتھ ”ننگِ اسلاف“ لکھا کرتے تھے ان کی دیکھا دیکھی دوسروں نے بھی انہیں ننگ اسلاف کہنا سمجھنا شروع کر دیا!
بہرحال میں نے محسوس کیا کہ زبیر میاں میری معذرت کے باوجود متذکرہ سیمینار میں میری شرکت کو یقینی بنانے پر تلے ہوئے ہیں کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ اگر پرویز مشرف کے دور میں قائم کردہ ”صوفی کونسل“ کے عہدیداران اور ارکان کا تصوف سے کوئی تعلق ہو سکتا ہے تو آپ کا کیوں نہیں، اس کونسل کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس میں تو امریکی صوفی بھی شرکت کرتے رہے ہیں، آپ ماشاء اللہ ان میں سے کسی سے کم صوفی ہیں؟ میں اس ”خراج تحسین“ پر جھینپ تو گیا مگر پھر بھی انہی بے مائیگی پر بضد رہا لیکن جب زبیر کا اصرار بڑھتا ہی چلا گیا اور انہوں نے ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ ان کے مرشد سید سرفراز شاہ اس سیمینار میں آپ کی شرکت کو یقینی بنانا چاہتے ہیں تو میں نے ہتھیار ڈال دیئے اور اسے اپنے لئے اعزاز جانتے ہوئے وعدہ کیا کہ میں سیمینار میں آؤں گا اور اگر مقررین کی تقریروں کے دوران میں نے محسوس کیا کہ میرے پاس بھی کہنے کو کچھ ہے تو دوچار لفظ بول بھی دوں گا۔ میرے اور زبیر کے درمیان یہ ”معاہدہ“ طے ہو گیا لیکن دو تین روز کے بعد جنرل (ر) ذوالفقار صاحب کا فون آیا اور انہوں نے بھی بہت محبت سے مجھے اس سیمینار میں عملی شرکت کی دعوت دی، زبیر کے علاوہ جنرل صاحب کا بھی یہ کہنا تھا کہ گزشتہ سیمینار میں آپ نے جو باتیں کی تھیں وہ لوگوں نے بہت پسند کی تھیں چنانچہ ان کا اصرار ہے کہ آپ اس مرتبہ بھی اظہار خیال کریں تاہم میں نے جنرل صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان سے وہی بات کہی جو میں نے عزیزی محمد زبیر سے کہی تھی، جس پر وہ بھی مطمئن ہو گئے۔
خواتین و حضرات! یہ ساری تفصیل جو میں نے ابھی بیان کی ہے بظاہر بالکل بے محل لگتی ہے لیک میرے نزدیک یہ انتہائی ضروری تھی کیونکہ میں بوجہ انکسار نہیں میں حقیقتاً تصوف کے بارے میں اظہار خیال کا اہل نہیں ہوں چنانچہ میں نے اپنے دفاع کے لئے ضروری سجھا کہ ساری حکایت تفصیل سے بیان کی جائے تاکہ اہل علم حضرات کی اس محفل میں میری شرکت کا پس منظر آپ کے سامنے آ سکے اور یوں آپ میری بے علمی پر ہنسنے کی بجائے میری مجبوری کے مدنظر مجھے معاف کر دیں سو خواتین و حضرات گزارش ہے کہ میں ایک ”لے مین“ ہوں۔ تصوف کے حوالے سے میری معلومات نامکمل ہی نہیں ناقص بھی ہیں چنانچہ میں تصوف تو نہیں پیری مریدی کے حوالے سے چند باتیں عرض کروں گا اور یہ پیری مریدی دو طرح کی ہوتی ہے ایک سلانے والی، ایک جگانے والی! سلانے والی پیری مریدی ہمارے معاشرے کی رگوں میں زہر بن کر اتر چکی ہے اور جو حضرات یہ کام کرتے ہیں، وہ اس کے علاوہ کوئی اور کام نہیں کرتے کہ پریشان حال معاشرے میں تھپکیاں دے دے کر سلانے کا کام انتہائی منعفت بخش ہے۔ یہ مجاور حضرات ہوس دنیا میں کمر کمر تک پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کے وسیع کاروبار اور جائیدادیں ہیں، یہ لوگ جابر حکمران کے جبر کے لئے راستہ ہموار کرتے ہیں اور من کی مرادیں پاتے ہیں۔ اولیاء اللہ کے مقدس ناموں کو بیچنے والے یہ تاجر عوام کی ناخواندگی اور ان کی توہم پرستی کی بنیادوں پر اپنی سیاست کی بلند و بالا عمارتیں بھی تعمیر کرتے ہیں چنانچہ اب کئی بے روزگار بھی اس منافع بخش پیشے کی طرف رجوع کر رہے ہیں لیکن اپنی ناتجربہ کاری کی وجہ سے اپنی ”انویسٹمنٹ“ ضائع کر بیٹھتے ہیں، میرے ایک جاننے والے صاحب نے گزشتہ برس راتوں رات ایک قبر تیار کی پھر اس پر سنگ مرمر کا مزار بنایا، دوچار ملنگ بھی وہاں دھمال ڈالنے کے لئے ”ہائر“ کئے مگر گزشتہ روز ملاقات ہوئی اور میں نے ان سے تازہ تارین صورتحال دریافت کی تو وہ بہت افسردہ نظر آئے بولے ”قاسمی صاحب مزار چل نہیں رہا، صاحب مزار کے بارے میں بہت سی کرامتیں بھی پھیلائی ہیں لیکن بات نہیں بن رہی۔“ اس سارے معاملے میں سب سے بڑا لطیفہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کے دوسرے دو نمبر کام کرنے والے لوگوں کی طرح یہ صاحب بھی اپنے ”کاروبار“ کے فروغ کے لئے ایک سچ مچ کے ولی اللہ کے مزار پر یہ منت بھی مان چکے ہیں کہ ”کام“ چلنے کی صورت میں وہ اس بزرگ کے مزار پر ایک سو ایک دیگیں چڑھائیں گے بہرحال کاروبار میں نفع نقصان تو ہوتا ہی رہتا ہے۔ تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ یہ صاحب اس جھٹکے کی وجہ سے رزق حلال کی طرف مائل ہو جائی۔ اللہ کے لئے کسی کو راہ ہدایت پر لانا کون سا کوئی مشکل کام ہے؟
اور جہاں تک رشد و ہدایت کی مثبت شکلوں کا تعلق ہے، میرا نہیں خیال کہ اس بارے میں دو آرا ہو سکتی ہیں تاہم میرے نزدیک جنت سے نکلے ہوئے انسان کی بے کلی اور اس کائنات کی اسراریت اسے بہت سے سوالوں کے گرداب کی طرف لے جاتی ہے، اور وہ ان کے جواب کے لئے مختلف راستے تلاش کرتا ہے، اس حوالے سے کچھ لوگ شریعت اور کچھ طریقت کو رہنما بناتے ہیں۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ تصوف کا مثبت تصور انسان کو خدا اور اس کے بندوں کے قریب لاتا ہے، صوفی انسانوں سے محبت کرنے والے ہوتے ہیں چنانچہ برصغیر پاک و ہند میں اسلام کی روشنی پھیلانے والے یہ صوفیاء ہی تھے۔ یہ پابند شریعت بزرگ تھے لیکن ان میں اہل شریعت کی وہ تند خوئی نہیں تھی ۔ جو انسانوں کو ان سے دور لے جانے کا سبب بنتی ہے بلکہ گناہ گاروں اور بدکاروں کو بھی سینے سے لگاتے تھے اور پھر ان کا سینہ نور الٰہی سے روشن ہو جاتا تھا۔ ابن انشاء نے ایک جگہ لکھا ہے کہ پہلے لوگوں کو دائرہ اسلام میں داخل کیا جاتا تھا۔ اب خارج کیا جاتا ہے۔ یہ کام دوسرے بہت سے لوگوں کے علاوہ صوفی محمد بھی کرتے رہے ہیں ان کی شریعت کا ”رول ماڈل جان کر حیرت ہوتی ہے کہ یہ کیسی شریعت ہے جس کے وہ پرچارک ہیں۔ (جاری ہے)
Daily Jang, 14/Aug-09
Recent Comments