لندن (جنگ نیوز) پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے مراکز پر گذشتہ دو برس میں کم از کم تین مرتبہ القاعدہ اور طالبان کی جانب سے حملے کئے گئے ہیں۔ یہ دعویٰ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے ذخائر پر ایک ممتاز برطانوی ماہر نے کیا ہے۔ بریڈفورڈ یونیورسٹی میں پاکستان سیکورٹی ریسرچ یونٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر شون گریگوری نے اپنے ایک مقالے میں دعویٰ کیا کہ نومبر 2007ء کے بعد سے پاکستان کے تین ایٹمی مراکز پر حملے کئے گئے اور آئندہ ایسے مزید حملوں کا امکان ہے۔ یہ مقالہ امریکہ کی ویسٹ پوائنٹ ملٹری اکیڈمی کے انسداد دہشت گردی کے جرنل میں شائع ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرگودھا کی نیوکلیئر سٹوریج پر ایک حملہ یکم نومبر 2007ء کو ہوا جبکہ 10 دسمبر 2007ء کو کامرہ کے ایٹمی فضائی اڈے کو خودکش بمبار نے نشانہ بنایا۔ اس کے بعد اگست 2008ء میں واہ کنٹونمنٹ میں پاکستان کے مین نیوکلیئر اسمبلی پلانٹ کے گیٹ پر کئی دھماکے کئے گئے۔ یہ حملے وسیع حفاظتی انتظامات کے باوجود ہوئے اور ان انتظامات کے لئے امریکی فنی امداد کے کروڑوں ڈالر استعمال ہوئے۔ جارجیا یونیورسٹی کے بین الاقوامی تجارت و سلامتی کے مراکز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر انوپم سری وستاوا نے جو ایٹمی سلامتی کے موضوع پر امریکی حکومت کے مشیر ہیں ڈیلی ٹیلی گراف کو بتایا کہ پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر تین سے زیادہ حملے ہوئے اور مزید حملوں کا امکان ہے۔ واہ کنٹونمنٹ میں ہونے والے حملے کو سب سے زیادہ خوفناک حملہ تصور کیا جاتا ہے اور اس حملے میں 63 افراد ہلاک ہوئے۔ بظاہر ان حملوں کا ہدف روایتی ہتھیار بنانے والی فیکٹری تھی لیکن پروفیسر گریگوری کے مطابق یہاں ایٹمی ہتھیار سازی کا ایک پلانٹ بھی ہے۔ پروفیسر گریگوری لکھتے ہیں کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار سازی کے ادارے انتہائی جدید ہتھیاروں سے لیس فوجی دستوں کی حفاظت میں ہیں اور کسی بھی بیرونی مداخلت کو روکنے کے لئے سٹیٹ آف دی آرٹ سینسرز نصب ہیں۔ تمام ملازمین کی سٹرٹیجک پلینز ڈویژن سیکورٹی فورس اور آئی ایس آئی کی جانب سے اچھی طرح نگرانی کی جاتی ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں، ڈیٹونیٹرز اور لانچ وہیکلز کو الگ الگ سٹور کیا جاتا ہے تاکہ کوئی ان پر ایک ساتھ قبضہ نہ کرسکے۔ پروفیسر گریگوری کا کہنا ہے کہ تمام حفاظتی اقدامات کے باوجود یہ تنصیبات محفوظ نہیں ہیں کیونکہ یہ طالبان اور القاعدہ کے حملوں کی اہلیت والے علاقوں میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایٹمی ہتھیاروں کی تنصیبات پر ایسا حملہ جس میں آگ لگ جائے تو اس سے شدید تابکاری خارج ہوگی۔ اسی طرح اگر کسی حملے کے نتیجہ میں کوئی ایٹمی ہتھیار پھٹ جائے یا کوئی ایسا حملہ جو ایٹمی ہتھیاروں پر کنٹرول کے لئے ہو تو بڑا نقصان ہوسکتا ہے۔ پروفیسر گریگوری نے لکھا کہ پاکستانی فوج میں ایسا بڑا عنصر موجود ہے جو طالبان اور القاعدہ سے ہمدردی رکھتا ہے اور ماضی میں فوج میں مغرب دشمن اور امریکہ دشمن جذبات کو فروغ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان اور القاعدہ کی جانب سے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے مراکز اور تنصیبات پر القاعدہ اور طالبان کے حملے کا خطرہ حقیقی ہے اور اس کے مقابلے کے لئے ضروری ہے کہ مغرب کی جانب سے پاکستان پر مسلسل دباؤ رکھا جائے اور نگرانی کے کام میں مغرب پاکستان کی مدد کرے۔

Courtesy: Daily Jang, 13-Aug-09

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha