”خود تو مر گئی، یہ جہیز میرے بھگتنے کیلئے چھوڑ گئی“۔ (ایوانوں پر قابض ایک طاقتور شخصیت کا اپنی اہلیہ کے رفقاء کے بارے میں ایک حالیہ تاریخی مکالمہ) ذوالفقار علی بھٹو کی کرشماتی شخصیت کے اردگرد موجود افراد ایک سورج کے گرد گردش کرتے سیاروں کی طرح نظر آتے۔ انہوں نے کبھی موروثی سیاست کو بطور نظریہ تسلیم نہیں کیا اور محترمہ بینظیر بھٹو کی اپنی والدہ بیگم نصرت بھٹو کے ہمراہ سیاست میں آمد اُن مجبوریوں کا نتیجہ تھی، جہاں بھٹو صاحب کے قریب ترین رفقاء جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کی گود میں جابیٹھے تھے۔ دونوں صاحبزادے بیرونِ ملک تعلیم چھوڑکر اپنے والد کے قتل پر مشتعل ہوکر ایک مختلف راہ پر چل پڑے تھے اور پھانسی سے پہلے بھٹو صاحب نے اپنی بیوی اور بیٹی کو جو کچھ کہا اور سمجھایا، وہ آگے چل کر اُن کی سیاسی سوچ و فکرکی بنیاد بن گیا۔
اعلیٰ تعلیم حاصل کرتی بینظیر بھٹو صاحبہ ایک سیاسی شاگرد کے طور پر اپنے والد کے ساتھ چند محدُود اجلاسوں میں شریک اور غیرملکی دوروں میں شامل ہوتیں، ایک انتہائی باوقار اور پر اعتماد انداز۔ ”بدترین بحرانوں میں بھی ذوالفقار علی بھٹو کو کبھی اس خوف یا احساسِ کمتری کا احساس نہ ہوا کہ وہ خود قلعہ بند مورچوں میں ”چھُپ کر، عوامی احتجاج یا سیلاب کا سامنا کرنے اپنی بیوی بچوں کو آگے بڑھاکر قوم کے سامنے خود کو مظلوم اور بے بس ظاہر کرکے روتے دھوتے اپنے اقتدار کی دُھائی دیں۔“
کبھی خود بیگم نصرت بھٹو یا بے نظیر بھٹو تو درکنار، کیا دنیا کے کسی بھی سیاسی رہنما نے یہ وطیرہ اپنایا؟ جو سڑکوں اور چوراہوں پر گاڑیوں کی کھڑکیوں پر دستک دے کر، بند سگنل کے دوران اپنے روتے بلکتے بچوں کو کاندھوں پر ڈال کر چند افراد ازار بند کے بنڈل فروخت کرنے کے بہانے آپ کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اعلیٰ ظرف ماں باپ اولاد کی ڈھال ہوا کرتے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ اس حد تک اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت میں ذاتی طور پر ملوث تھیں کہ وہ نہ صرف خود اُن کے ہر parents day میں شرکت کرتیں بلکہ اُن کے ہوم ورک پر بھی ازخود توجہ دیتیں۔ مشکل ترین کام یہ تھا کہ جمعہ کے روز محترمہ تک رسائی حاصل کی جائے کیونکہ یہ طے تھا کہ بچوں کی چھٹی کے دن کسی صورت ماں اپنے بچوں کے علاوہ کسی اور کے ساتھ وقت گزارنا نہیں چاہتی۔ مذہب، بہترین تعلیم، روایات اور اس مشکل دنیا میں زندگی گزارنے کے طور طریقے۔ یقینا محترمہ اپنی اولاد کو اُسی راہ پر دیکھنے کی خواہشمند تھیں جہاں وہ اعلیٰ تعلیم اور انسانی اقدار کے ساتھ ایک مضبوط کردار لئے ابھریں۔ ایک ذہین اور دنیا کی بہترین درس گاہوں سے فارغ التحصیل خاتون یقینی طور پر اپنی اگلی نسل کو اُس ذہنیت سے محفوظ رکھنا چاہتی تھی جو کسی سنیما کے باہر ٹکٹ بلیک کرکے یا ڈسکو کلبوں میں مارپیٹ وغیرہ میں ملوث ہوکر پیدا ہوجاتی ہے۔ اور تبھی جب محترمہ کو اس حقیقت کا اندازہ ہوا کہ اُن کی وہ اولادجو برسہا برس سے۔۔۔اُس کردار سے دور رہنے کے بعد خوش قسمتی سے اُس کے اثرات سے محفوظ اپنے ذہنوں میں اس کے بارے میں ۔۔۔اچھے خواب بُنے بیٹھی ہے۔ جیل سے جنرل مشرف کے ایک قریبی عسکری رفیق اور بعد میں ایک حساس ادارے کے سربراہ مقرر ہوتے شخص سے مفاہمت کے نتیجے میں رہا ہونے کے بعد اس نے محترمہ کے متبادل کے طور پر لاہور پہنچ کر ”زرداری ہاؤس“ سے ایک سیاسی کردار بن کر اپنی ایک الگ شناخت بنانے کی کوشش کی تو جو نتیجہ ظاہر ہوا۔۔۔ وہ سب کے سامنے ہے!!! زرداری صاحب کو محترمہ نے نہ کوئی عہدہ دے کر پاکستان بھیجا تھا، نہ وہ کوئی پارٹی اجلاس طلب کرنے کے مجاز تھے۔ نہ کسی بھی پارٹی رہنما یا کارکن کو من و عن ان کی ہدایت پر عمل کرنے کا حکم یا اجازت تھی۔
ظاہر ہے کہ محترمہ کے شوہر کی حیثیت سے کچھ نہ کچھ احترام کے وہ بہرحال حق دار تھے، اس لئے مُلک کے اُن مقتدر حلقوں نے، جنہیں زرداری صاحب بے نظیر بھٹو کے ایک متبادل کے طور پر کچھ ابھرتے تصور ہورہے تھے اور جنہیں ۔۔۔ذرائع ابلاغ تب نیلسن منڈیلا اور مرد حُر بنانے پر تلے بیٹھے تھے، چند روز بعد ان کے بے مقصد داتا دربار کے دوروں اور ادھر اُدھر گھومنے سے بیزار ہوکر پیچھے ہٹ گئے کیونکہ بینظیر بھٹو صاحبہ نے اپنی نفی کرکے کسی بھی دوسری شخصیت کو Establishment سے معاملات طے کرنے کی اجازت سے محروم رکھا تھا۔
ایک حساس رشتہ ہونے کے باعث وہ شاید کھل کر زرداری صاحب کو اس تنہا پرواز سے روکنے میں تو ناکام ہوئیں لیکن ۔۔۔۔اُن کے خاموش جاں نثاروں نے رفتہ رفتہ جس طرح خود کو زرداری صاحب سے الگ کرنا شروع کیا ۔۔۔وہ پیغام کافی تھا جنرل مشرف اور اُن کے پٹھو حساس اداروں کیلئے کہ ”بینظیر بھٹو کو الگ کرکے کسی اور سے ڈیل نہیں ہوسکتی“۔
ناکام اور مایوس ، جلد واپسی کا اعلان کرکے زرداری صاحب اچانک مُلک سے روانہ ہوگئے اور دبئی پہنچ کر وہ دل کے ایک ایسے عارضے میں مبتلا ہوئے جس کے بارے میں، اُن کے حال ہی میں حکومت سے علیحدہ کئے جاتے خصوصی مشیر بہتر بیان کرسکتے ہیں۔ یہ کوئی ایسا پیچیدہ مرض تھا جس کا علاج بے نظیر بھٹو صاحبہ کو دُور رکھ کر صرف نیویارک کے ایک آرام دہ فلیٹ میں خوبرو معالجوں سے ہی ممکن تھا۔
پیپلزپارٹی کی تمام ترقیادت اور کارکنوں نے اس عرصے میں خود کو مریض سے دُور رکھا اور وہاں صرف اویس عرف ٹپّی، عبید جتوئی، مصطفیٰ میمن، ریاض لال جی اور ڈاکٹر عاصم جیسے معا لجین کو ہی تیمارداری کی اجازت تھی جو دوران علاج ذہنی، روحانی اور دیگر تمام آسودگیوں کا بھرپور خیال کرتے آج حکومت میں اپنے اس تمام دور کی خدمات کی فیس وصول کر نے یوں جلدی میں ہیں کہ انہیں دوبارہ جلد مریض کی خدمت پر مامور ہونے کا دھڑکا لگ چکا ہے۔ اور یہ خوف الگ کہ چونکہ نیویارک میں مریض کی ایمبولینس چلاتا خالد شہنشاہ، شاید بہت سے امراض کی واقفیت کی بناء پر مارا جاچکا ہے اور پھر مریض کے ایوان صدر تک پہنچنے کے بعداس کے لئے تمام تر پابندی لگی ادویات کا انتظام کرتا رحمٰن ڈکیت بھی۔۔۔۔! اس لئے فہرست میں اگلا نمبر کس گھر کے بھیدی کا ہے۔۔؟ ایسے لوگوں کے اپنے الگ اصول و ضوابط ہوا کرتے ہیں۔
محترمہ نے اپنے بچوں کو اپنی زندگی میں اپنے کلیجے سے لگاکر رکھا اور بظاہر عجب نظر آتے قدرت کے فیصلوں نے اُن پر کسی بھی ایسے شخص کا سایہ نہ پڑنے دیا جو ذہنی طور پر ایک عجب نفسیاتی خلفشار کا شکار (جس سے اب تقریباََ تمام ہی دنیا واقف ہوچکی ہے) کچھ اس طرح سے ہے کہ وہ خود کو عقلِ کُل سمجھتا، فلسفہ، سیاسیات، دفاعی اور خارجہ پالیسیوں، زراعت، توانائی، ذرائع ابلاغ، بین الاقوامی تعلقات عامہ غرض ہر شعبے میں اپنی رائے کو مقدم تر قرار دیتا، سب کچھ پہلے سے جانتا اور سمجھتا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ غالباََ لاشعور میں اُس کا وہ تعلیمی پس منظر ہے جو کبھی اسکول کی سطح سے آگے نہ بڑھ سکا اور قدرت نے اُسے ایک انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ سیاسی خاندان کا رُکن اور پھر انتہائی ذہین پیپلزپارٹی کے رہنماؤں اور گہری سیاسی سُوجھ بُوجھ رکھتے سیاسی کارکنوں کے درمیان لا پھینکا!!۔
”خُود تو مرگئی، یہ جہیز میرے بھگتنے کے لئے چھوڑگئی“
پیپلزپارٹی جیسی سیاسی جماعتیں ڈرائنگ روموں میں تشکیل نہیں پاتیں، سڑکوں، گلیوں، محلوں میں جنم لیتی ہیں۔ انتہائی محترم عمران خان مقبولیت کے کسی بھی درجے تک کیوں نہ فائز ہوجائیں ، وہ۔۔ اپنی زندگیوں کی بازی لگاتے جیالے پیدا نہیں کرسکتے۔شیخ رشید تو۔۔۔ غالباََ اپنے پیروکاروں کو یوں درس نہیں دے سکتے کہ وہ خود اپنی اگلی قلابازی سے ناواقف ہیں۔
جماعت اسلامی ایک انتہائی مضبوط نظریاتی ، تنظیمی ڈھانچہ اور غالباً سب سے زیادہ علمی و فکری اثاثہ رکھنے کے باوجود موجودہ پارلیمانی نظام میں کوئی انقلاب بپا کرنے سے قاصر ہے! ایم کیو ایم ہر دور میں شامل اقتدار رہ کر اپنا Anti Establishment تشخص مجروح کرچکی ہے اور مسلم لیگ (نواز) فی الحال پنجاب سے باہر قدم رکھنے کو تیار نظر نہیں آتی!!! پھر مولانا فضل الرحمن صاحب جو طے ہے کہ ایک غیر ملکی کمپنی کے مرغ مسلّم کھاکر امریکا کو کوستے رہیں گے اور اے این پی جو اپنے دور میں ہوتے صوبہ سرحد کے عسکری آپریشن کے بعد مستقبل میں کیا سیاست کرے گی، کوئی نہیں جانتا!!ان حالات میں وفاق کی علامت کے طور پر پیپلزپارٹی کا رفتہ رفتہ دم توڑنا ایک المیہ ہے۔ یہ بھی خدا کی مصلحت تھی کہ محترمہ اپنی شہادت سے پہلے الیکشن میں حصہ لینے والوں کے لئے ٹکٹ الاٹ کرگئیں تو آج ہمیں ایوانوں میں یوسف رضا گیلانی، شاہ محمود قریشی، نوید قمر، خورشید شاہ اور مخدوم امین فہیم جیسی شخصیات نظر آرہی ہیں ورنہ اس بات کا تصور کیجئے کہ سفارت کار اور مفکر حسین حقانی آج ہمارے وزیراعظم ہوتے!!!
زرداری صاحب نے اپنی عوامی مقبولیت، عالمی رائے عامہ اور اردگرد درباریوں میں گِھرے ہونے کے باوجود نوشتہ دیوار پڑھ کر اپنی کم عمر اولاد کو سامنے لاکر۔۔۔اپنی شخصیت ان کے پیچھے چُھپانے کی ایک عجیب و غریب کوشش کی ہے اور چھوٹے سے ایوان صدر کے کمروں میں اجلاس منعقد کرکے اپنے بچوں کو خود اپنی طرح ۔۔۔اونچی آواز میں۔۔۔ اس قدر جذباتی تقریر کرنے کا درس دیا ہے گویا۔۔۔ یہ کوئی نشتر پارک یا موچی گیٹ کا جلسہ عام ہے۔۔۔۔!!
کیا پیپلزپارٹی کے زعماء خاص طور پر رضا ربانی، جہانگیربدر یا پھر گیلانی صاحب۔۔۔موصوف کو بہتر مشورہ دینے کی پوزیشن میں ہیں؟؟ پیپلزپارٹی کو محفوظ رکھنا ان کی ہی نہیں۔۔۔وطن عزیز کی ضرورت ہے۔ اور اس کی اگلی قیادت کی ساکھ بھی۔۔۔ عوام کے سامنے محفوظ رکھنا۔
گزرے کالم کے جواب میں بہت سے خطوط موصول ہوئے جن کا تذکرہ اگلی تحریر میں کروں گا تاہم ایک NRO زدہ صوبائی وزیر جس کا نصف خاندان حکومتی عہدوں کے مزے لُوٹ رہا ہے اور جو برطانوی پاسپورٹ جیب میں رکھ کر وزیراعلیٰ بننے اور ناکامی کی صورت پھر ملک سے فرار ہونے کے خواب دیکھ رہا ہے۔۔۔اس پر تبصرہ یوں لاحاصل تصور کرتا ہوں کہ موصوف نے۔۔”میرے مطابق“ یہ کالم رات نو بجے تحریر کیا تھا، اور تب وہ جس عالم میں ہوا کرتے ہیں ، ۔۔۔درگزر ہی بہتر ہے!
Courtesy: Daily Jang, 12/8/2009
Recent Comments