گوجرہ کے سانحے کے حوالے سے میں نے جو کالم تحریر کیا تھا اس کا عنوان تھا ’’جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا ‘‘ تب تک وہاں صرف گھر جلے تھے، کلیساء جلے تھے اور ان کے اندربائبل کے نسخے تھے وہ جلے تھے پھر خبر آئی کہ اب وہاں جسم بھی جلے ہیں اور پورے سات جلے ہیں اور ان کے اندر جو سات دل تھے وہ بھی راکھ ہوئے ہیں ان میں چھ کا تعلق ایک ہی مسیحی خاندان سے تھا اور ساتواں ایک بچہ تھا جس کی لاش ایک ریڑھی میں رکھی گئی تاکہ اسے قبرستان لے جایا جاسکے یوں ہم آسانی سے یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ دراصل ہم نے پورے سات لوگ زندہ نہیں جلائے بلکہ ساڑھے چھ جلائے ہیں کیونکہ ہم اتنے شقی القلب بھی نہیں ہیں اس امر کی اطلاع جناب پوپ کو بھی دینی چاہیے کیونکہ انہوں نے روم میں بیٹھ کر سات لوگوں کے زندہ جلانے کی مذمت کی ہے جب کہ یہ صرف ساڑھے چھ تھے یوں بھی پوپ بے شک کروڑوں کیتھولک عیسائیوں کے سربراہ ہیں انہیں حضرت عیسیٰ کا نمائندہ مانا جاتا ہے لیکن پھر بھی انہیں پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہم ایک آزاد قوم ہیں جسے مرضی زندہ جلا دیں بستیاں راکھ کردیں پوپ کون ہوتے ہیں احتجاج کرنے والے۔
گوجرہ میں نذر آتش کئے گئے گھروں، کلیساؤں اور سات لوگوں، معاف کیجئے گا صرف ساڑھے چھ لوگوں کی راکھ کریدنے کے لیے صوبائی اور قومی انتظامیہ ذرا دیر سے حرکت میں آئی اس راکھ میں اب لاکھ کریدنے سے بھی کوئی جسم نہ ملے گا کوئی دل نہ ملے گا۔ جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا۔ صدر زرداری نے وزیر اقلیتی امور کو ہدایت کی ہے کہ وہ جب تک حالات سدھر نہ جائیں گوجرہ ہی میں قیام کریں۔ یقینا گوجرہ میں ان کا قیام نہایت تکلیف دہ ہوگا کہاں اسلام آباد کی پرتکلف رہائش گاہ آگے پیچھے ہوٹر بجاتی پولیس کی گاڑیاں اور درجنوں خادم ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوئے اور کہاں گوجرہ کی اضافی بستی کے جلے ہوئے کھنڈر، دوسری جانب پنجاب کے متحرک وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف بھی متحرک ہوئے اور ذاتی طور پر گوجرہ پہنچے وہ ایک ایماندار اور وعدے نبھانے والے سیاست دان ہیں انہوں نے نہایت جذباتی ہو کر اعلان کیا کہ میرا نام بھی شہباز نہیں اگر میں مجرموں کو کیفردار تک نہ پہنچاؤں وہ اپنے نام کی لاج رکھ لیا کرتے ہیں امید ہے اس مرتبہ بھی رکھ لیںگے انہوں نے نہ صرف متاثرین کو مالی امداد فراہم کی بلکہ ان کے گھر تعمیر کرنے کی بھی پیشکش کی گھروں کی تعمیر کا منصوبہ انہوں نے ایک ایسے افسر کے سپرد کیا جنہیں اقلیتوں کے جلے ہوئے گھر تعمیر کرنے کا وسیع تجربہ ہے یعنی انہوں نے ماضی میں عیسائیوں کے ایک نگر جلا کر راکھ کردیئے گئے شانتی نگر کو بھی دوبارہ تعمیر کیا تھا میری حقیر رائے ہے کہ افسر موصوف کو صرف اسی کام کے لیے دائمی بنیادوں پر تعینات کردیا جائے کیونکہ آئندہ بھی تو ہم نے اقلیتوں کی بستیاں جلانی ہیں جیسا کہ دستور ہے اس سانحے کے فوری طور پر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ڈی سی او عمران سکندر جو ابھی دس بارہ دن پیشتر یہاں تعینات ہوئے تھے اور ڈی پی او انکسار خان کو معطل کرکے انہیں او ایس ڈی بنادیا گیا اور ان کے خلاف انکوائری کا حکم دے دیا گیا نہ کسی صوبائی یا مرکزی وزیر اقلیتی امور نے اپنی وزارت چھوڑی اور نہ ہی ان میں کسی ایک کو جو لاؤڈ سپیکروں سے ہجوم کو قتل پر آمادہ کرتے تھے عیسائیوں کی بوٹیاں کردینے کے مقدس نعرے لگاتے تھے گرفتار کیا گیا صرف انکسار خان اور عمران سکندر کو قربانی کا بکرا بنادیا گیا میری معلومات کے مطابق ان دونوں نوجوان افسروں نے تن تنہا ان ہنگاموں پر قابو پانے کی پوری کوشش کی یہ دونوں مشتعل ہجوم اور عیسائی بستی کے مکینوں کے درمیان کھڑے ان سے صلح صفائی کی درخواست کرتے رہے انہوں نے پتھر بھی برداشت کیے اور ہجوم کی گالیاں بھی کھائیں یہاں تک کہ ڈی پی او کا ذاتی محافظ بھی شدید زخمی ہوگیا اس دوران انہوں نے تمام ارباب اختیار سے گوجرہ پہنچنے کی درخواست کی نہ صوبائی وزیر کامران مائیکل پہنچے اور نہ ہی ان کا کوئی نمائندہ مقامی سیاست دانوں اور علماء کرام کو بھی فون کئے گئے کہ خدا کے لیے فوراً پہنچیں لیکن اسی روزفیصل آباد میں ایک وزیر قدم رنجہ فرما رہے تھے اور یہ سب کشاں کشاں ان کی بارگاہ میں حاضری دینے کے لیے پہنچ رہے تھے حیرت انگیز طور پر پنجاب کانسٹیبلری کے ڈیڑھ سو جوانوں نے بھی ہجوم کو روکنے سے انکارکردیا آخر کیوں؟ یہ عمران سکندر تھے جنہوں نے جلے ہوئے بچے کی لاش کو دیکھ کر اسے سنبھالا اور ہجوم کو روکا اور اس لمحے جب عیسائیوں کی جانب سے چند فائر کئے گئے اپنے بچاؤ کی خاطر تو نزدیکی مسجد سے اعلان کیا جارہا تھا کہ وہ مسلمانوں کو مار رہے ہیں آپ مدد کو پہنچو عیسائی برادری بجا طور پر ڈی سی او اور ڈی پی او سے توقع رکھتی تھی کہ وہ ان کے جان اور مال کی حفاظت کے لیے ایکشن لیں گے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایکشن کیسے لیتے ان کے ہاتھ پلے کچھ ہوتا تو ایکشن لیتے ویسے اگر وہ ایکشن لیتے اور مشتعل ہجوم کے کچھ لوگ مارے جاتے تو آپ دیکھتے کہ ملک بھر میں کیا ہنگامہ برپا ہوتا لیکن گوجرہ کے اس سیاہ بادل کے کناروں پر روشنی کی ایک لکیر بھی ہے پہلی بار ایسے سانحے کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم پاکستان وہاں پہنچے ہیں اور مثبت اقدام کئے ہیں ہمیں ان کوششوں کو تحسین کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے اور عمران سکندر اور انکسار خان کو قربانی کا بکرا نہیں بنانا چاہیے کہ انہوں نے ان ہنگاموں کو روکنے کی مقدوربھرکوشش کی۔

Courtesy: Daily Jinnah, 11-Aug-09

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha