استاد کیا خوب کہاکرتا تھا کہ جو ڈر گیا وہ مر گیا۔ استاد کا کہنا تھا کہ ڈرنے والا عمربھر حالت ِ غیر مبدل یعنی ایک ہی صورتحال کا اسیررہتاہے۔ وہ زمینی حقائق سے ڈر کر خوفزدگی کے عالم میں ساری زندگی گزار دیتاہے جبکہ نڈر جبر کی زنجیریں توڑ کر نئی صبح پیداکرتا، آزادی کی فضا میں سانس لیتا اور وقت کی ریت پر اپنے قدموں کے نشانات چھوڑ جاتا ہے۔ زندگی دونوں طرح گزر جاتی ہے لیکن ایک انداز ِ زندگی انسانیت کاوصف ہے جبکہ دوسرا انداز حیوانیت کے قریب ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق انسان کیلئے کائنات مسخر کر دی گئی ہے جبکہ حیوان اسٹیٹس کو کے اصول کے مطابق زندگی کی سانسیں پوری کرلیتا ہے۔
اگر ہم اپنی گزشتہ پچاس سالہ قومی زندگی پرنظر ڈالیں تومحسوس ہوتاہے کہ ہمارے ہاں ایک طبقہ ہمیشہ”سٹیٹس کو“ کا حامی رہا ہے جبکہ دوسرا طبقہ اسے توڑنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ بدقسمتی سے تبدیلی اور جرأت کے مخالف اور زمینی حقائق سے خوفزدہ طبقے ہی ہماری قومی زندگی اور اقتدارپر چھائے رہے ہیں چنانچہ گزشتہ پچاس سال سے ہماری قومی زندگی ایک ہی ڈگر پر چلتی رہی ہے۔ سیاست کے حوالے سے اس کی وضاحت یوں کی جاسکتی ہے کہ گزشتہ پچاس برسوں میں تقریباً بتیس برس فوج بیرکوں سے نکل کر تخت حکومت پرقابض رہی ہے اورباقی کوئی اٹھارہ برس جاگیرداروں، امراء، روایتی اور موروثی سیاستدانوں اور صنعتکاروں کا دور ِ حکومت تھا جسے عرف عام میں جمہوریت کہا جاتا ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ یہ جمہوریت بھی صرف بالاتر اور مقتدر طبقوں کی جمہوریت تھی کیونکہ صحیح معنوں میں عوامی جمہوریت کاسورج ابھی تک ہمارے ہاں طلوع نہیں ہوا۔ اگر میں اس تاریخی سانحے کا تجزیہ کروں تومجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ اٹھارہ سالہ سویلین یاجمہوری دورمیں بھی ہمیں زمینی حقائق کے خوف کی زنجیروں میں جکڑ کر رکھاگیا اور قومی رویوں کی تبدیلی کی راہ میں مسلسل رکاوٹیں کھڑی کی جاتی رہیں۔ ہر سیاسی و جمہوری حکومت مسلسل اس خوف اور خدشے کا شکار رہی کہ فوج کو ناراض نہ کرو، جرنیلوں کی شان میں گستاخی نہ کرو، انکے احتساب کی بات نہ کروورنہ فوج ٹیک اوور کرلے گی اور جمہوریت پٹڑی سے اتر جائے گی۔ ہمیں بار باریہ سبق دیا گیا کہ جمہوریت مضبوط ہوگی توفوجی مداخلت کاراستہ بند ہوگا۔ نتیجے کے طورپرانتہائی احتیاط اور خوف کے عالم میں زندگی گزارنے کے باوجود ہر چند برس بعد فوجی مداخلت ہوتی رہی اور اسی خوفزدگی، پست حوصلگی اورذہنی غلامی کا فائدہ اٹھا کر فوجی آمر مزاحمت کے بغیر طویل حکومتیں کرتے رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو ایک بڑے لیڈر تھے اور انہیں عوامی حمایت بھی حاصل تھی وہ اگر چاہتے توعاصمہ جیلانی کیس میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل کرکے یحییٰ خان پر سنگین غداری کا مقدمہ چلاتے، اسے سزا دلواتے اور تاریخ کا دھارا موڑ دیتے لیکن ان پربھی ڈرانے والا طبقہ جاری رہا حالانکہ محققین کے مطابق فوجی افسران کی اکثریت یحییٰ پرمقدمہ چلانے کی حامی تھی۔ بہرحال نتیجہ یہ نکلاکہ جس فوج سے بھٹو صاحب ڈرتے رہے اسی فوج نے ان کا تختہ الٹا اور پھرانہیں پھانسی چڑھا دیا۔ یہی حشر اور انجام میاں نواز شریف کا بھی ہوتا اگر اس معاملے میں امریکہ اورسعودی عرب نے سنجیدہ اور شدید مداخلت نہ کی ہوتی۔وزیراعظم نواز شریف ہیوی مینڈیٹ لے کر اقتدار میں آئے تھے لیکن اس کے باوجود کارگل کے حادثے کے بعد عملی طور پر ان کی وزارت ِعظمیٰ پر خوف کے سائے چھائے رہے۔آرمی چیف کوبیرون ملک دورے کے دوران نکالنا بذات ِخود اس خوفزدگی کی علامت تھی۔اب جبکہ لوگوں میں ”سٹیٹس کو“ اور خوف کی زنجیروں کوتوڑنے کی امنگ پیداہو رہی ہے تو ایک بار پھر زمینی حقائق کے نام پرڈرانے والے متحرک ہوگئے ہیں جوباربار یہ کہہ رہے ہیں کہ فوج آج بھی پس پردہ اس ملک کی حاکم ہے اور فوج کبھی نہیں چاہے گی کہ اسکے ایک سابق چیف یعنی سربراہ پر مقدمہ چلایاجائے۔ اس ضمن میں یہ دلیل بھی دی جارہی ہے کہ ایک فوجی دستہ آج بھی لندن میں پرویز مشرف کی حفاظت پرمامور ہے اور ایک حاضر نوکری کرنل ان کیلئے پروٹوکول کے انتظامات کرتاہے۔یہ حقائق اپنی جگہ لیکن یہ بھی تو ایک حقیقت ہے کہ پرویز مشرف نے بے شمار جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔جن میں اکبر بگٹی کے قتل سے لے کر لال مسجد کے معصوم بچوں کا خون تک شامل ہے۔ جن میں پاکستان کے شہریوں کو ڈالروں کے عوض بیچنے سے لے کر تین نومبر کی شرمناک کارروائی اور ججوں کی تذلیل و حراست تک کے جرائم شامل ہیں۔ کیافوج ایک ایسے مجرم کی سرپرستی کرے گی؟ جو لوگ اس طرح کے ”ڈراوے“ دیتے ہیں دراصل وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ فوج آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے خلاف ہے جوسراسر غلط ہے کیونکہ ہماری فوج ہمارے آئین سے وفاداری کاحلف اٹھاتی ہے اورقانون کی حکمرانی میں یقین رکھتی ہے۔ اس لئے وہ کسی ایسے اقدام کی مخالفت نہیں کرے گی جوآئین و قانون کے مطابق ہو۔یہ خوف اور خدشے اس غلامانہ اور جاگیردارانہ ذہن کے شاخسانے ہیں جو ہمیشہ تبدیلی اور انقلاب کا مخالف رہا ہے۔
یاد رکھئے کہ جو ڈرگیا وہ مرگیا۔ خوفزدہ رہنے سے نہ خوف ٹلتا ہے نہ تبدیلی آتی ہے جبکہ ملک میں آئین کی بالادستی قائم کرنے کیلئے خوف کے رویوں کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ جمہوری اداروں کومضبوط کرنے اور سیاسی جماعتوں کو منظم کرنے کی اہمیت اپنی جگہ پر ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ آئین کی بالادستی کوقائم کئے بغیر فوجی مداخلت کا راستہ بند نہیں کیا جاسکتا۔ خوف اوراسٹیٹس کو کا تقاضا تھا کہ جب مارچ 2007 میں جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار چوہدری سے استعفیٰ مانگا توانکے انکار نے انقلاب برپا کر دیا۔ اسلئے خوف کی زنجیریں توڑے بغیر کسی سیاسی ترقی یا معاشرتی انقلاب یا آئین کی بالادستی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ آئین کی بالادستی قائم کرنے کیلئے آئین پر خلوص نیت سے عمل کرنا ضروری ہے اور فوج سمیت تمام قومی اداروں کویہ پیغام دینا ناگزیر ہے کہ وہ ملکی آئین کے تابع ہیں اور قوم ہر قیمت پر آئین کی بالادستی چاہتی ہے۔ آئین کی بالادستی کا ہی یہ تقاضا ہے کہ آئین کے سیکشن چھ کے تحت جنرل پرویز مشرف پر سنگین غداری کامقدمہ چلایاجائے کیونکہ سیکشن چھ کو لغو،معطل یا سجاوٹی سیکشن بناکر آئین کی بالادستی کا پیغام نہیں دیا جاسکتا اگر ہم تاریخ کا دھارا اوررخ موڑنا چاہتے ہیں توہمیں خوف کی پالیسی ترک کرکے آئین شکنی کی سزا کی مثال قائم کرنا ہوگی ورنہ یہ تاثر کبھی پیدا نہیں ہوگا کہ ہم سب آئین کے تابع ہیں اور نہ ہی یہ تاثر زائل ہوگا کہ طاقتور تو سنگین جرائم کرکے بھی بچ نکلتا ہے جبکہ کمزور کو قانون کے شکنجے میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ یاد رکھئے جو ڈر گیا وہ مر گیا۔

Courtesy: Daily Jang

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks

Related posts:

  1. صوبائی خود مختاری اور میرے پیارے دانشور- ڈاکٹر صفدر محمود
  2. عیشی پٹھا-ڈاکٹر صفدر محمود
  3. کچھ نہیں بدلا۔ علی احمد کرد کا گلہ – ڈاکٹر صفدر محمود
  4. میں انہیں دہشت گرد کیوں نہ کہوں؟-ڈاکٹر صفدر محمود
  5. رونے سے لے کر ہنسنے تک – ڈاکٹر صفدر محمود

Leave a Reply

(required)

(required)

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha