ہیلی کاپٹروں کے پروں کی کھٹ کھٹ میرے کانوں کے پردوں پر بے رحمی سے دستک دے رہی ہے میرے اندر بے گھری کاایک خوف، اپنے ہی گھونسلے میں دبکے پرندے کی دہشت کو جنم دے رہا ہے۔
میرے گھر کے اوپر ہیلی کاپٹروں کے سائے حرکت میں ہیں
میں بھی گھیرے میںآچکا ہوں
آخر میں کہاں ہوں کونسے میدان جنگ میںہوں کیا میں غزہ میں ہوں بغداد میں ہو یا قندھار میںوقفے وقفے کے ساتھ آٹو میٹک ہتھیاروں کی گولیوں کے تڑخنے کی مہیب گونج میرے گھر کے کمروں میں گونجتی ہے یہاں تک کہ میری سٹڈی جو ایک گوشہ عافیت تھی جس میں صرف کتابیں ہیں میرے پین اور سفید کاغذ ہیں ایک ناول کا مسودہ ہے اس کے اندر بھی ہلاکت کی آوازیں داخل ہو جاتی ہیں دنیا بھر کے ادب شاعری،تاریخ اور فلسفے کے علاوہ ایک شیلف میں سیرت النبی کی متعدد کتابیں ہیں اور میں انکی جانب دیکھتا ہوں جن میں امن کے پیغامبر کے پیام ہیں صرف ایک انسان کو ہلاک کرنا پوری انسانیت کو مارڈالنے کے مترادف ہے ان کتابوں میں سلامتی اور امن کے درس ہیں سیرت النبیکی ان کتابوں نے بھی تو گولیوں کی آواز سنی ہوگی ہیلی کاپٹروں کی کھٹ کھٹ نے ان کے اوراق کو بھی بے آرام کیا ہوگا اس سٹڈی کے ایک شیلف پر مہاتما بدھ کا ایک نیم شکستہ مجسمہ سجا ہے گندھارا عہد کا یہ قدیم شاہکار جو ڈیڑھ ہزار برس سے زیادہ قدامت کا ہے آج اس کے خدوخال بھی ذرا پرتشویش نظر آرہے ہیں ایک پرامن چہرہ جس کی آنکھیں نیم دائیں اور ہونٹ نہایت خوبصورت یہ بھی ہیلی کاپٹرکی کھٹ کھٹ اور گولیوں کے دھماکوں سے لرز گیا ہے۔
میں تو اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا تھا لیکن آج صبح سے میں بھی گھیرے میں ہوں
آج بھی حسب عادت میں اپنی بیگم کے ہمراہ ماڈل ٹاؤن پارک میں صبح سویرے سیر کے لئے گیا ان دنوں تو پورا لاہور بہارکے رنگوں میں مہکا ہوا ہے گلبرگ کا مین بلیو روڈ، لبرٹی کا گول چکر یہ سب پھولوں سے اٹے پڑے ہیں پارک میں بھی بہار کے رنگوں کا سیلاب آیا ہواتھا آئس لینڈ پاپی کے رنگ آنکھوں کو خیرہ کرتے تھے میں نے پنیری کا ایک ایسا پھول دیکھا جس کا سائز بلامبالغہ ایک نومولود بچے کے چہرے جتنا تھا پھر ہم دونوں حسب معمول تقریباً نو بجے کے قریب پارک سے نکلے بی بلاک کی مارکیٹ سے میٹھا دہی خریدا اور دوپہر کے کھانے کے لئے کچنار حاصل کئے جو میرے من پسند ہیں فیروز پور روڈ پر آئے تو خلاف معمول وہاں ٹریفک رکی ہوئی تھی رینگتے رینگتے ہم کلمہ چوک سے دائیں مڑ کر جب علی زیب روڈ کے ٹریفک سگنل تک آئے تو وہاں بھی ٹریفک رکی ہوئی تھی ایلیٹ فورس کی گاڑیاں متحرک تھیں اور مسلح نوجوان جیسے کسی کی تلاش میں ہوں چوکنے کھڑے تھے شاید ہیجان کی وجہ سے پولیس کے کسی اہلکار کے ہاتھوں میں تھامی آٹو میٹک رائفل کی لبلبی دب گئی اور ایک دھماکا ہوا ہم دونوں قدرے نروس ہو گئے اس دوران کیا دیکھتا ہوں کہ فردوس مارکیٹ کے قریب میرا چھوٹا بھائی کرنل مبشر پریشان حالت میں سنٹر پوائنٹ میں آنے والی کاروں کو دیکھے جارہا ہے اور جونہی اس کی نظر ہم پر پڑی اس نے ہاتھ ہلا کر اپنی خوشی کا اظہار کیا میری سمجھ میں نہ آیا کہ آخر مبشر گھر سے نکل کر ہمیں تلاش کرنے کیوں آگیا ہے بالآخر ہم گھر پہنچے جو فردوسی مارکیٹ کے نواح میں جے بلاک میں واقع ہے اس دوران میرا چھوٹابھائی زبیر بھی پہنچ گیا اور اس نے بتایا کہ لبرٹی مارکیٹ کے قریب دہشتگردوں نے سری لنکن کرکٹ ٹیم پر بموں اور راکٹوں سے حملہ کر دیا ہے اور ایلیٹ فورس کے بہت سے نوجوان ان کا دفاع کرتے ہوئے ہلاک ہو گئے ہیں کچھ کھلاڑی بھی زخمی ہوئے ہیں یہ حملہ لبرٹی گول چکر کے قریب ہوا جہاں ان دنوں پٹونیا کے شوخ رنگ پھول بہار پرہیں اور اب ان میں خون کی سرخی بھی شامل ہو چکی ہے پھر عزیزوں اور دوستوں کے فون آنے لگے کہ آپ خیریت سے ہیں یکدم چند مزید فائر ہوئے دہشتگرد فردوس مارکیٹ کے راستے فرار ہو رہے تھے ٹیلی ویژن کی سکرین پر ہمارے گھر کے آس پاس کے علاقے دکھائے جارہے تھے۔
اس دوران ہیلی کاپٹر ہمارے سروں پر گردش کرنے لگے۔ان کے متحرک پنکھوں کے سائے میرے گھر پر پڑتے تھے۔
اب تک ایک انسان کے لئے جتنا بھی شرمندہ ہوناممکن ہے میں ہوچکا ہوں اس ملک میں جوکچھ ہورہا ہے جو ہوتا رہتا ہے ظاہرہے ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے میں بھی اس کا ذمہ دار ہوں گنہگار ہوں جتنا شرمندہ ہوسکتا تھا ہو چکا ہوں اب سمجھ نہیں آرہا کہ مزید شرمندہ کیسے ہوا جائے سری لنکا کے بین الاقوامی شہرت یافتہ کرکٹ کے کھلاڑیوں نے تمام دنیا کے منع کرنے کے باوجود پاکستان آنے کا فیصلہ کرلیا اور یہ ان کا احسان تھا کہ ان کی موجودگی سے ہم یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ پاکستان کے حالات اتنے بھی خراب نہیں یہاں میچ کھیلے جاسکتے ہیں ہزاروں تماشائی سٹیڈیم میں جمع ہو کر کھیل سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں یہ جو دنیا کا ہر ملک کہہ رہا ہے کہ پاکستان روئے زمین پر سب سے خطرناک ملک ہے یہ درست نہیں ہے اور پھر ہم نے اپنے محسنوں کے ساتھ اپنے معزز مہمانوں کے ساتھ کیا سلوک کیا کہ ان میں جو زخمی ہوئے ہیں ہوسکتا ہے اب دوبارہ بین الاقوامی کرکٹ نہ کھیل سکیں بقیہ ٹیم کو فوراً اس بے دید ملک سے نکال لیاگیا جہاں گھر آئے مہمانوں پر گولیاں برسائی جاتی ہیں یہاں تک کہ انہیں ہمارے ہسپتالوں پر بھی کچھ اعتبار نہیں کیا جانے کب برابر میں لیٹا ہوا مریض اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر کمبل میں سے کلاشنکوف نکال لے تو وہ اپنے زخمی دوبئی لے گئے ہیں۔
سری لنکن بے چارے تو ہماری طرح گندمی اور سیاہ رنگتوں والے تھے گورے بھی نہ تھے ان کی غلطی صرف یہ تھی کہ انہوں نے ہم پر اعتبار کیا ہماری یقین دہانی پر ہمارے مہمان ہو گئے ہم پر فخر پاکستانیوں کے مہمان نواز مسلمانوں کے غلطی ان کی تھی جو ہم پر اعتبار کیا۔
پلیز مجھے کوئی تو بتائے کہ میں ایک پاکستانی ہونے پر مزید شرمندہ کیسے ہو سکتا ہوں؟
Daily Jinnah, 6-Mar-09
Recent Comments