منگل اگست 4, 2009

کچھ ممالک اپنی روایات، تہذیب، کلچر، رنگ وروپ کی وجہ سے مشہورہیں اوراپنی عادات واطوار میں بھی اہمیت رکھتے ہیں مثلاً منافقت میں امریکہ، سیاسیات میں برطانیہ، فحاشی میںاسرائیل اورہٹ دھرمی میں انڈیا ایسے ہی کچھ شہر بھی اپنی مخصوص آب وہوا ،موسم، لب ولہجہ ،لباس وغیرہ میں مشہورہیں مثلاً لاہور کے سری پائے، کراچی کاجذباتی پن، ،پشاور کانمکین گوشت، اہلیان اسلام آباد کی لاپرواہی، بنارس کے ٹھگ، بمبئی کے بھائی، نیویارک کے لٹیرے، لندن کے جنونی!
امریکی اپنے موسمی حالات کی وجہ سے بزدل قوم ہیں اوربزدل شاطر ہوتاہے لہٰذا انہوں نے اپنی کمزوری کاعلاج اسلحہ سازی میںتلاش کیا برطانوی مزاج میںبادشاہت رچی بسی ہے لہٰذا وہ ادب آداب میں اتنے محو ہوئے کہ طاقتور ملک کے درباری بن گئے۔
ہمارے وطن میں گرمی کچھ زیادہ پڑنا شروع ہوگئی کہ جنگلات کٹ گئے آبادی بڑھ گئی لہٰذا گاڑیوں کادھواں، ایئرکنڈیشنوں کی گرمی نے موسم کومزید فروغ دیا اوراخلاقی وسیاسی جرائم، تشدد ،ظلم وستم پھلے پھولے پروان چڑھے کہ یہاں کے ٹاپ کانقطہ نظر یہی ہے ویسے بھی شریف لوگ دولت مند نہیںہوتے اور جودولت مندہوتے ہیں ان کودولت کی حفاظت کیلئے شرافت چھوڑنی پڑتی ہے پاکستان میں قانون بھی ہے قانون کے راکھے بھی لیکن یہاں قانون ان کیلئے ہے جن کے مقدرہی لاقانونیت کاشکارہیں ویسے بھی اخلاقی اقدار معاشرتی گرفت خواب وخیال ہوئی شاندار حویلی جدید گاڑیاں لمبے نوٹ تو رات ہی رات میں سڑک چھاپ، ملک، شیخ، چوہدری اورسیدزادے بننے کیلئے کسی بھی محکمہ کااین او سی درکارنہیں ہوتا ساری بات دنیا کی کہ آخرت کس نے دیکھی ہے؟؟
اب خبر یہ نہیں کہ کراچی میں کیاہوا خبر یہ بھی نہیں کہ ایک ملازم لڑکی کونشے کی گولی دے کروحشیوں نے بے آبرو کردیا پشاور بم پھٹنے سے درجنوں لوگ ہلاک ہوگئے یااسلام آباد میںسپریم کورٹ کے رجسٹرار کوماردیاگیا خبر جواہمیت رکھتی ہے وہ یہ کہ آج ملک میں مکمل امن رہا مشہور یہ بھی ہے کہ امن کی ضرورت ہو تو بدامنی پھیلادو سانپ کازہر ،بچھو کاڈنگ اس بات کاثبوت ہیں کہ خود حفاظتی خدا کی ودیعت ہے البتہ اس کااستعمال عقل اورفہم کے مطابق کرناہی کمال ہے ملزم ومجرم چوروڈاکو پہلے بھی تھے مگر بااصول تھے امیروں کولوٹتے غریبوںمیں بانٹتے فرق صرف اتنا ہوا کہ اب غریبوں کولوٹ کر امیروں میں بانٹا جاتاہے اب یہ موسم کاہی اثر ہے کہ ہرکام الٹاہورہاہے یاشاید اس کے پیچھے وہ حالات ومجبوریاں ہیں اور فطری تقاضے بھی کہ ہربڑی مچھلی چھوٹی کوکھاسکتی ہے اورجنگل کابادشاہ شیراپنی خون خواری سے بنتاہے ہٹلر،چنگیز خان،ہلاکو، مسولینی، یزید اورابلیس اتنے ہی نامورہیں جتنے وہ جنہوں نے ان سے بغاوت کی لہٰذا ثابت ہوا کہ بڑا آدمی بننے کیلئے تشدد کرناپڑتاہے۔
ہم اہلیان چارصوبہ جات اس بات کوبہتر جانتے ہیں ورنہ آج صدارت کی کرسی پر اوروزارت کی میز کے سامنے کسی مہذب ،شائستہ، تعلیم یافتہ اورخاندانی نوجوان کی کرسی سج سکتی ہے مگرکیاکہوں فطرتی تقاضوںسے محفوظ رہناولیوں کاکام ہے اورولیوں نے یہاں آنا چھوڑدیا لوگ کہتے ہیں کہ قریب قیامت یہ ہوگا تو کیاواقعی یہی ہوگا؟
پاکستان کی آبادی کاتناسب وہ نہیں جوآزادی کے وقت تھا لہٰذا فرق تو پڑناتھا چارمختصر سے صوبے اور ان پرہی آمدنی کادارومدار ایک چارپائی کب تک چل سکتی ہے مسائل بڑھ گئے وسائل وسیلے والوں کے پاس بجلی کامحکمہ ہویاگیس والے اورپانی والے بھی کیاکریں لہٰذا اگر بجلی جلانی ہے پڑھنے کیلئے چولہا جلاناہے کھانے واسطے اورپانی پینا ہے زندگی کیلئے تو پھر درندگی توکرنی ہوگی کہنے والے کہتے ہیں جس سماج میںقتل وغارت نہ ہو اس کے وجود کاجواز نہیںرہتا۔ لیکن کون کہتا ہے کہ ہمارا وجود ہے سیاستدان ہوں،لیڈران ملت یامذہبی ٹھیکے دار کوئی بھی اس ملک سے کرپشن ،مہنگائی، بے روزگاری ختم نہیںکرسکتا یہ وہ جان لیوا امراض ہیں جن کاعلاج ممکن نہیں اورعلاوہ اس کے موجود سیاسی رہنما اپنے اپنے بزرگوں کے منشورپراعلانیہ کام کررہے ہیں خدامعلوم ایوب خان،بھٹو، ضیاء الحق، نوازشریف، بینظیر کامشن ومنشورکیاتھا اورجو موجودہیں ان کامشن کیاہوگا لوگوں کامشن تو بس اتنا ہے روزگار ہواشیاء خوردونوش خریدنے کی استعداد رکھتے ہوں ہمیں نہ ہی تو پانچ ستاروں والے گھردرکار ہیں اورنہ ہی ٹھنڈے ٹھار جدید سہولتوں سے آراستہ قبرستان یہ سب ان کیلئے جوکوشاںہیں جن کے افسانے جلسوں میں محفلوں میں دفاتر میں کوٹھوںاورکوٹھیوں میں یاپھر گرم حماموں پر تعریفی کلمات سنے سنائے جاتے ہیں کاش یہ بھی سن سکیں لیکن کیاکریں ہرملک کی آب وہوا موسم وکلچر ہیں جوچیز گرم علاقوں میں سوٹھنڈے میں کیسے ہوسکتی ہے ہماری اعلیٰ روایات ماردھاڑ کی بدولت ہیں اوراپنی بہترین نشوونما کیلئے گائے بکریاں حلال کرنی پڑتی ہیں اور ویسے بھی ہرملک،شہر،گاؤں ،قصبے کی کوئی نہ کوئی چیز مشہور تو ہوتی ہے جیسے ’’کنگھی فتح جھنگ دی‘‘۔

Source: Daily Jinnah

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha