خبريں اردو سے محبت کرنے والوں کے لۓ

6Mar/090

دہشت گردوں کی سیر۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ

کہنے والوں کا کہنا ہے کہ ایک صاحب شرف الدین نام کے روزگار کے سلسلے میں کسی اور شہر میں منتقل ہوئے تو انہوں نے سوچا کہ اس شہر میں زور آور لوگوں کی، دھانسوں لوگوں کی بہت عزت ہوتی ہے لوگ باگ ان سے ڈرتے ہیں تو یہاں کون جانتا ہے کہ میں شرف الدین اپنے محلے میں نہائت شرافت کی زندگی بسر کرتا تھا تو کیوں نہ میں یہاں اپنے آپ کو بدمعاش مشہو ر کر کے معزز ہو جاؤں انہیں کوئی اور طریقہ تو نہ سوجھا چنانچہ انہوں نے اپنے گھر کے باہر جو نیم پلیٹ لگوائی اس پر لکھوایا’’ یہ شرف الدین بدمعاش کاگھر ہے ‘‘ کرنا خدا کا کیا ہوا کہ آس پاس کہیں کوئی واردات ہو گئی تو پولیس سیدھی ان کے گھر چلی آئی تو شرف الدین ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا کہ سرکار میں تو بہت شریف آدمی ہوں میرا اس واردات میں کوئی عمل دخل نہیں اس پر پولیس والوں نے کہا کہ تم نے تو خود اپنی نیم پلیٹ پر’’ یہ شرف الدین بدمعاش کا گھر ہے‘‘ لکھ رکھا ہے توشرف الدین نے لجاجت سے کہاکہ سرکار یہ تو صرف شوشا کے لئے لکھوا رکھا ہے۔
سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملہ کرنے والے دہشتگرد لبرٹی گول چکر میں ٹہلتے پھرتے ہیں اطمینان سے فائرنگ کررہے ہیں اور کھلی فضا میں ہیں اپنے آپ کو کسی عمارت یا جھاڑی میں روپوش نہیں کیا ہوا اور رپورٹ کے مطابق اگرچہ مجھے کچھ شک ہے بہرحال تقریباً پینتیس منٹ تک قانونی اداروں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوتا رہا ہے ۔تھانہ لبرٹی دو قدم کے فاصلے پر ہے پولیس چوکی فردوس مارکیٹ اور تھانہ نصیر آباد بھی قریب ہے اور کھلے عام دہشتگردی کی پکنک منانے والوں کو نہ کوئی پکڑتا ہے اور نہ ہی ان پر حملہ آور ہوتا ہے بقول کے پینتیس منٹ میں تو کیولری گراؤنڈ سے فوج کی پوری پلٹن آسکتی تھی ہیلی کاپٹر سے کمانڈو اترسکتے تھے اور پورے شہر کی پولیس اور ایلیٹ فورس وغیرہ ان کو گھیرے میں لے سکتی تھی تو ایسا کیوں نہیں ہوا وہ حضرات جن کی تعداد ایک درجن کے قریب ہے ان میں سے ایک بھی مارا نہیں جاتا سب کے سب سیر کرتے ٹہلتے آس پاس کی آبادیوں میں تحلیل ہوجاتے ہیں کیا شہر کی پولیس ایلیٹ فورس اور اس کے کمانڈو حضرات بھی شرف الدین ہیں انہوں نے صرف شوشا کی خاطر وردیاں پہن رکھی ہیں اور نمائش کے لئے ہتھیار اٹھائے پھرتے ہیں شہر جاتے ہوئے اکثر چوہدریوں کی کوٹھیوں کے قریب سے گزرہوتا ہے اوروہاں خدا جھوٹ نہ بلوائے درجنوں گاڑیاں اور بے انت ایلیٹ فورس ہمہ وقت موجود رہتی ہے تو یہ صاحبان ہی چلے آتے کہ لبرٹی گول چکر وہاں سے دس منٹ کی واک پر ہے یا یہ سب شرف الدین ہیں جنہوں نے شوشا کے لئے اپنے آپ کو ایلیٹ فورس اور پولیس مشہور کر رکھا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ پولیس کے چھ جوان دہشتگردی کے پہلے ہلے میں ہی ہلاک ہو گئے اور میرا دل ان کی بے وجہ اور جوان موت پر روتا ہے مجھے لاہور کے جی پی او کے قریب ڈیوٹی پر متعین خوبصورت اور نو خیز پولیس مین بھی یاد ہیں جن کی موت مجھے اب بھی سوگوار کرتی ہے کہ وہ ایک ظالمانہ نظام کا شکار ہو گئے جس طور وہ درجن بھر قاتل اور جنونی لبرٹی گول چکر میں ٹہلنے کے بعد آرام سے فرار ہو گئے اس سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے حفاظتی ادارے صرف’’ پولیس مقابلہ‘‘ میں ہی مجرموں کو مارسکتے ہیں۔
ابھی جب کہ میں یہ کالم لکھ رہا ہوں میرے کانوں میں پولیس ہوٹروں کی مسلسل آوازیں آرہی ہیں شاہراہ پر کوئی وی آئی پی سواری گزررہی ہے ہم میں سے کون ہوگا جس نے یہ وی آئی پی نہیں بھگتے ٹریفک بند ہے ہر جگہ پلوں کے نیچے جھاڑیوں میں مسلح افراد پہرے پر ہیں پولیس والے بھاگی پھرتی موٹر سائیکلوں پر سوار ’’ہٹو ۔ ۔ ۔ ہٹو ۔ ۔ ۔ دفع ہو جاؤ گاڑی پر ے کرلو۔ ۔ ۔ اوئے سنتا نہیں۔ ۔ ۔ کے نعرے لگا رہے ہیں اور آپ نے کسی ضروری کام پر پہنچنا ہے لیکن مجبور ہیں بے بس ہیںاور ایک ہی مقام پر کھڑے انتظار کر رہے ہیں کہ کب وہ کمبخت وی آئی پی گزر ے اور کب آپ کی جان اس عذاب سے چھوٹے، اور پھر وہ وی آئی پی گزرتا ہے جو کوئی نہائت فضول سا شخص ہے اور اپنی دولت کے بل بوتے پر آبائی زمینوں کے زور پر یاسیاسی سازشوں کے ذریعے پر چھوٹا موٹا سرکاری افسر یا وی آئی پی ہو جاتا ہے سوال یہ ہے کہ سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کو ایک وی آئی پی کی سیکیورٹی کیوں نصیب نہیں ہوئی کیا ان کے لئے پانچ دس منٹ کے لئے ٹریفک نہیں روکی جاسکتی تھی ان کے ہمراہ درجن بھر پولیس کی گاڑیاں کیوں نہ تھیں اور وہ جو آٹھ دس کروڑوں کی مالیت کی بلٹ پروف گاڑیاں ہیں جو بے جان سیاست دانوں کی جان بچانے کے لئے موجود ہیں تو ان میں سے دو تین گاڑیاں سری لنکن کے لئے کیوں وقف نہ کی گئیں ایک بین الاقوامی کھلاڑی کسی بھی صدر یا وزیراعظم سے زیادہ قیمتی اور اہم ہوتا ہے کہ وہ اپنی اہلیت اور قابلیت کے زور پر لاکھوں میں ممتاز ہوتا ہے اس میں کسی جوڑ توڑ یا ضمیر فروشی کا کچھ عمل دخل نہیں ہوتا ہم آسٹریلیا کے ڈان بریڈنیں کو تو جانتے ہیں لیکن کیا آسٹریلیا کے پچھلے درجن بھر وزیراعظموں کے نام جانتے ہیں جس روز یہ شرمناک وقوعہ ہوا اس شام میری ملاقات ایک ریٹائرڈ کرنل صاحب سے ہوئی جو آئی ایس آئی میں بھی کچھ عرصہ تعینات رہے انہوں نے ٹیلی ویژن پر اس اسلحہ کی تصاویر بھی دیکھی تھیں جو دہشتگرد فرار ہوتے ہوتے ادھر ادھر پھینک گئے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ بہت بچت ہو گئی ہے افغان مجاہدین کے لئے خصوصی طور پر بنائے ہوئے مریکی ساخت کے دوراکٹ لانچر جن میں سے اگر ایک بھی نشانے پر لگ جاتا تو کھلاڑیوں کی بس کے ٹکڑے بھی نہ ملتے علاوہ ازیں اسلحے کی بہتات سے کھجوروں اور باداموں کے پیکٹوں ،منرل واٹر کی بوتلوں اور بارود سے بھری جیکٹوں سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ وہ دراصل کھلاڑیوں کی بس کو لبرٹی گول چکر میں یرغمال بنانا چاہتے تھے یہ تیاریاں کئی دن کے لئے تھیں ایک تو دونوں فائر شدہ راکٹ نشانے پر نہ لگے اور پھر ڈرائیور کمال پھرتی سے بس کو بھگا کر لے گیا یوں بنیادی طورپر دہشت گرد اپنے مشن میں ناکام ہو گئے ورنہ بہت بربادی ہوتی میں نے کرنل صاحب سے پوچھا کہ اتنا پیچیدہ اور اعلیٰ اسلحہ آکہاں سے جاتا ہے تو کہنے لگے یہ وہی اسلحہ ہے جو افغان جہاد کے لئے امریکہ نے پاکستان میں ڈھیر کیا تھا۔
اور یہ کون لوگ تھے جہادی حضرات تھے تامل ٹائیگر ،بنگالی یا را کے ایجنٹ تھے اس سے کیا فرق پڑتا ہے فرق تو اس بات سے پڑا کہ ہم ان کے سامنے شرف الدین بدمعاش ثابت ہوئے سب کچھ صرف شوشا کے لیے اور وہ ہمیں دنیا بھر میںذلیل کر کے چپکے سے فرار ہوگئے تم قتل کرے ہو کہ کرامات کرے ہو۔

Source: Daily Jinnah, 6-Mar-09

  • Share/Bookmark

Related posts:

  1. ہم سب ڈڈو ہیں -مستنصر حسین تارڑ
  2. ہیپی نیوایئرٹویو۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ
  3. دریا سوکھ رہے ہیں ۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ
  4. افغانستان کتناپیاراملک تھا – مستنصر حسین تارڑ
  5. ناشتے پہ ناشتہ – مستنصر حسین تارڑ

Comments (0) Trackbacks (0)

No comments yet.


Leave a comment


No trackbacks yet.

Canonical URL by SEO No Duplicate WordPress Plugin