اتوار اگست 2, 2009

دل کو دکھ دینے والی روح کو مجروح کردینے والی بدن کو جھلسا دینے والی بری بری خبروں نے مجھے پژمردہ کر رکھا تھا مجھے بیمار کر ڈالا تھا اور پھر ایک مسیحا آیا اس نے میرے درد کی دوا تجویز کی میرے سامنے سیب کی مانند سرخی سے دہکتا ایک آڑو رکھ دیا اسے کھائیے اس کے کھانے سے آپ کی طبیعت بحال ہو جائے گی آپ صحت مند ہو جائیں گے آپ کی بیماری جاتی رہے گی۔ڈاکٹر صاحب آپ مجھے کوئی کام کی دوا دیجئے مجھے آڑو کھانے کا کچھ شوق نہیں میں نے حیرت زدہ ہو کر انہیں کہا کہ یہ کیسے معالج ہیں جو ایک مریض کا علاج ایک آڑو سے کرنا چاہتے ہیں مجھے ان کی ذہنی حالت پر شک ہوا ’’تارڑ صاحب یہ کوئی معمولی آڑو نہیں ہے ’’ ڈاکٹر صاحب نے سرہلا کر اپنی داڑھی تھپکی’’ اسے کھا کر دیکھئے تو سہی سب دکھ درد دور ہو جائیں گے‘‘
میں نے سوچا کہ اگر میری بیگم میمونہ گھر میں موجود ہوتیں تو میں یہ آڑو ان کی خدمت میں پیش کردیتا کہ موصوفہ کو پھلوں میں صرف پیپتا اور آڑو پسند ہیں بہرحال میں نے ڈاکٹر صاحب کا دل رکھنے کی خاطر کیونکہ وہ بھلے آدمی تھے اس آڑو کی قاشیں چیر کر ان پر نمک چھڑک کر انہیں کھانا شروع کر دیا واقعی لذیذ اور رس بھراتھا اور پھر ایک عجیب معجزہ رونما ہوا جوں جوں میں اسے کھاتاگیا میرے دل کے دکھ زائل ہوتے گئے اور ان کی جگہ سکھ کی بادنسیم چلنے لگیں میری مجروح روح کے زخم سلنے لگے اور وہ یوں ہلکی ہلکی ہوئی جیسے تخلیق کے پہلے دن تھی اور میرا بدن جو جھلسا ہوا تھا وہ پھر سے ہرا بھرا اور تروتازہ ہوگیا جیسے ایک گوری برفانی ندی میں نہا کر نکلی ہو میری حیرت کی کچھ انتہا نہ تھی یہ آڑو کیا امرت دھارا تھا جس نے میرے سب روگ چاٹ لئے اس میں مسیحائی کی یہ تاثیر کہاں سے آئی۔
’’ ڈاکٹر صاحب۔ ۔ ۔ میں تو اچھا بھلا ہوگیا ہوں۔ ۔ ۔ یہ فرمائیں کہ اس آڑو کی یہ معجزہ تاثیر کیا کرشمہ ہے؟
ڈاکٹر صاحب نے متانت سے آنکھیں چھپکائیں ’’ تارڑ صاحب۔ ۔ ۔ میں کل شام ہی سوات سے لوٹا ہوں۔ ۔ ۔ امن کے بعد وہاں کے باغوں میں بہار آگئی ہے درخت پھلوں سے لدے پڑے ہیں میں نے ذاتی طور پر یہ آڑو روشن چہروں اور گلاب رنگت والے ان مسکراتے بچوں سے خریدے ہیں جو باغوں کے کناروں پر کھڑے ان تازہ پھلوں کو فروخت کر رہے تھے آپ یوں جانئے کہ کل دوپہر تک یہ آڑو سوات کے ایک باغ میں درختوں کی زینت تھے اور ایک عرصے کے بعد بارود اور دھویں کی بجائے وہ تازہ نکھری ہوئی شفاف ہوا میں سانس لے رہے تھے چنانچہ یہ سوات میں جو امن قائم ہوا ہے لاکھوں بے گھر اپنے اپنے گھروں کوتمتماتے چہروں کے ساتھ مسکراتے لوٹ رہے ہیں یہ آڑو ان کی ایک علامت کے طور پر آپ کے پاس آئے ہیں۔ ۔ ۔ تاکہ آپ کو اچھی خبریں سنا سکیں آپ کے دل کو پھر سے اطمینان اور مسرت عطا کردیں۔ ۔ ۔
تو بس عقدہ حل ہوگیا۔ ۔ ۔ یہ پھل میرے وطن میرے سوات سے امن اور سکون کے سند یسے لے کر آیا تھا اور اس لئے جہاں کچھ نہ دوانے کام کیا تھا وہاں انہوں نے مجھے پھر سے صحت مند کردیا تھا۔ ۔ ۔ میرے سامنے ڈاکٹر آصف محمود جاہ ایک صوفے پر نہایت تکلف سے بیٹھے تھے اور مجھے اپنی سوات یاترا کے قصے سنارہے تھے جو میرے کانوں میں شیرین کی مانند اتر رہے تھے ڈاکٹر جاہ ایک شیرینی القعول شخصیت ہیں سول سروس میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں اور دل میں خدمت خلق کی دیوانگی کے سوا کچھ نہیں سرکاری فرائض سرانجام دینے کے بعد ہر شام پانچ بجے سے آٹھ بجے تک کلینک پر بیٹھتے ہیں اور مریضوں کو دیکھتے ہیں اور جب اٹھتے ہیں تو جیب میں پہلے سے جو رقم ہوتی ہے وہ بھی نہیں ہوتی کہ نہ صرف مفت علاج کرتے ہیں بلکہ نادار مریضوں کے لئے اپنی جیب بھی الٹ دیتے ہیں اب یہ جو خدمت خلق کی دیوانگی ہے وہ تب انتہا کو پہنچنے لگتی ہے جب وطن کے کسی حصہ میں کوئی قدرتی یا انسانی مصیبت نازل ہو جائے چند لمحوں میں اپنے جیسے سر پھرے ڈاکٹر بھائیوں کو اکٹھا کرتے ہیں امدادی سامان اور دواؤں سے اپنی گاڑیوں کو بھرتے ہیں اور اس آفت زدہ علاقے میں پہنچ جاتے ہیں آزادکشمیر میں زلزلے کی تباہ کاریاں ٹوٹ پڑیں تو موصوف وہاں موجود۔ ۔ ۔ آسائش سے گھر بار سے بال بچوں سے بے پرواہ دن رات آفت زدوں کے زخموں پر مرہم رکھتے ہوئے ان کی مدد کرتے ہوئے سوات اور بونیر سے نقل مکانی ہوئی تو ڈاکٹر جاہ نے پھر بے گھروں میں جاکر اپنا گھر بنالیا مختلف کیمپوں میں مقیم رہے نہ صرف بیماروں کا علاج کیا بلکہ درجنوں بچے بھی پیدا کئے یعنی اپنے نہیں بلکہ بے گھروں کے۔تو وہ کل شام ہی سوات سے واپس آئے تھے ان کا کہنا تھا کہ متاثرین سوات کو اپنے گھروں کو واپس جاتے دیکھنا ایک خوش کن روحانی تجربہ تھا ،پرمسرت جگمگاتے چہرے جو امید کے سورجوں سے روشن ہو رہے تھے خوش قسمتی سے عمارتوں اور گھروں میں سے بہت کم کو نقصان پہنچا اور مینگورہ کے گھروں اور دوکانوں پر جتنے تالے پڑے تھے وہ سب مقفل موجود تھے کوئی ایک بھی ٹوٹا نہ تھا فوجی نوجوان کاروں اور گاڑیوں کو پاس جاری کرتے ہوئے انہیں ٹھنڈی بوتلیں پلارہے تھے اور پاکستانی پرچم عطا کررہے تھے جگہ جگہ خوش آمدید ی بینر آویزاں تھے اپنا وطن سونے سے بھی قیمتی ہے وادی امن سوات آپ کو خوش آمدید کہتی ہے بازاروں میں رونق تھی اور سکول کھلنے والے تھے اور مرکزی چوک کے وہ کھمبے جن کے ساتھ طالبان اپنے مخالفین کی لاشیں لٹکایا کرتے تھے اس وارننگ کے ساتھ کہ انہیں تین دن سے پہلے نہ اتارا جائے اب روشن ہو رہے تھے اہل سوات پاکستانی فوج کی مداحی میں رطب اللسان تھے اور اہل وطن کے مشکور جنہوں نے مصیبت کے دنوں میں انہیں پناہ دی۔
جالب کا ایک مصرعہ ہے، ہنستی گاتی روشن وادی تاریکی میں ڈوب گئی صد شکر کہ وہ وادی پھر سے روشن ہو ئی اگر ہم کان لگا کر سنیں تو اس کے ہنسنے اور گنگنانے کی مترنم آوازیں پھر سے سنائی دینے لگی ہیں اگر یقین نہ آئے تو پرامن سوات کے کسی باغ کا ایک آڑو چکھیں!

Daily Jinnah

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks

Related posts:

  1. سیانے بابے اور سوات – مستنصر حسین تارڑ
  2. ہیپی نیوایئرٹویو۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ
  3. ناشتے پہ ناشتہ – مستنصر حسین تارڑ
  4. دریا سوکھ رہے ہیں ۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ
  5. ہم سب ڈڈو ہیں -مستنصر حسین تارڑ

Leave a Reply

(required)

(required)

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha