اصل موضوع پر آنے سے پہلے عوامی حکومت سے میری ایک ذاتی درخواست ہے کہ اس ملک میں صرف امیر رہنے دیں اورغریب…متوسط طبقہ کو اجتماعی موت کے گھاٹ اتاردیں تو حکومت کے لئے بھی بہتر ہوگا اور متوسط طبقہ کی تو لاٹری نکل آئے گی۔ ممکن ہے حکومت کو اپنے اس انقلابی فیصلہ کے نتیجہ میں اندرون ا ور بیرون ملک بدنامی اور امیج کی خرابی کا خطرہ ہو تو حکومت خاطر جمع رکھے کیونکہ اس تاریخی اور تاریخ ساز فیصلہ کو قتل عام یا ماس مرڈر نہیں سمجھا جائے گا بلکہ اس کے لئے قومی و بین الاقوامی سطح پر”مرسی کلنگ“(Mercy killing)کی معزز اصطلاح استعمال ہوگی۔ مرسی کلنگ اس قتل کو کہتے ہیں جس کی بنیاد مریض کے ساتھ ہمدری پر ہوتی ہے۔ مثلاً کوئی شخص کسی بیحد تکلیف دہ اور لاعلاج مرض میں مبتلا ہو تو ڈاکٹرز کے ایک سکول آف تھاٹ کے مطابق اسے زہر دینے کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کی پرسکون نیند سلا کر بے پایاں اذیت سے محفوظ کردینا رحم و کرم کی انتہا ہے…قتل نہیں۔
مہنگائی بھی ایک انتہائی تکلیف دہ اور لاعلاج مرض کی صورت اختیار کرچکی ہے اور متوسط طبقہ تل تل، پل پل، سانس سانس قسطوں میں موت کے گھاٹ اتررہا ہے تو کیوں نہ اسے اس اذیت ناک زندگی کی بجائے پرسکون موت کے حوالے کردیا جائے۔
مہنگائی جیسے انتہائی موذی اور لاعلاج مرض سے یوں تو غریب بھی بری طرح متاثر ہورہا ہے لیکن میں طویل اور گہرے مشاہدہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اس موذی مرض کا اصل ٹارگٹ متوسط طبقہ ہے جس نے سفید پوشی بھی رکھنی ہوتی ہے، بچوں کو بہتر سکولوں میں پڑھانا بھی ہوتا ہے، خوشی غمی کی لعنتوں سے بھی نمٹنا ہوتا ہے، کیک کی جگہ پیسٹری کاٹ کر بچے بچی کی سالگرہ بھی منانی ہوتی ہے، گھر میں”آئے گئے“ کے لئے ڈھنگ کے چار برتن اور فرنیچر کے چند پیس بھی رکھنے ہوتے ہیں، کوئی بیمار پڑجائے تو تعویذ دھاگے کی بجائے ڈاکٹر اور دوائی کے لئے بھی جتن کرنا ہوتا ہے۔ شادیوں کی مکروہات سے بھی عہدہ برآہونا ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ جبکہ غریب کی”موجیں ہی موجیں“ ہیں کہ ایک جوڑے میں بھی کام چلالیتا ہے۔ بچوں کی پڑھائی تو دور کی بات کہ ہر بچہ اس کی ”کاٹیج انڈسٹری“ہوتا ہے جو پیدا ہونے کے پانچ ،سات سال بعد ہی خود ایک پیداواری یونٹ بن جاتا ہے۔ خوشی غمی میں ان کی ”طویل شراکت“ ہی کافی ہے جس کا اصل خمیازہ امپلائر بھگتتا ہے کیونکہ یہ ماسی کی پقھپھی کی تائی کے سوہرے کی بیٹی کے داماد کے پوتے کے ختنوں پر بھی جائیں تو ہفتہ بھر سے پہلے واپس نہیں آتے۔ یہ جانوروں سے ایک درجہ آگے اور انسانوں سے چند درجے نیچے کی مخلوق بیڈ، ڈائننگ ٹیبل، گیس، ٹوتھ پیسٹ،ڈسٹپمر، کراکری، کٹلری وغیرہ کی آلائشوں اور عیاشیوں سے پاک ہوتی ہے۔ ٹوتھ برش اور پیسٹ پر پیسہ لٹانا توکیا یہ گھر کے سامنے لگے کیکر کی مسواک استعمال کرنے کے تکلف میں بھی نہیں پڑتے۔ میں آپ کو لاہور کے مضافات میں لاکھوں ایسے”زندہ دلان“ … ”غیور“ …”باشعو ر“ پاکستانی ملواسکتا ہوں جنہو ں نے زندگی بھر دانت صاف نہیں کئے اور اگر آپ انہیں ایسا کوئی مشورہ دیں تو جواباً دانت نکالنے لگتے ہیں۔ میرے سب
قریبی دوست جانتے ہیں کہ”بیلی پور“ شفٹ ہونے کے بعد میں نے اپنے گھریلو ملازمین کو باقاعدہ ڈینٹسٹوں کے پاس بھیج کر سالہا سال کی گندگی صاف کرانے کے بعد جوتے مارمار کر انہیں دانت صاف کرنے کا عادی بنایا جبکہ بے چارے مڈل کلاسیے نے فیملی سمیت دن میں دو بار برش کرنے کا اقتصادی جرم بھی کرنا ہوتا ہے۔ غریب کا کوئی بیمار ہوجائے تو جب تک بہت ہی سیریس نہ ہو وہ ”ڈاک دار“(ڈاکٹر) سے رجوع نہیں کرتا ، تعویذ دھاگے یا کسی نیم حکیم سے کام چلاتا ہے۔ بچہ بچ گیا تو ٹھیک ورنہ اگلے سال پھر تعداد پوری ہے کہ گھر کی کھیتی گھر کی کھاد…تعداد کیسے کم ہوسکتی ہے؟
مختصراً یہ کہ غریب مہنگائی سے متاثر ہونے کے باوجود مزے میں ہے کیونکہ دو وقت کی روٹی اور سال بعد اک بال یعنی بچہ کے علاوہ اس کا اور کوئی ایشو ہی نہیں جبکہ متوسط طبقہ کی حالت اور حالات دیکھ کر کوئی بھی رقیق القلب یہی مشورہ دے گا کہ اگر ان کی زندگیاں سنوار نہیں سکتے تو انہیں پہلی فرصت میں سورک کے سپرد کردو۔
قارئین!
معاف کیجئے پورا کالم تو تمہید میں ہی خرچ ہوگیا اب اصلی کالم کل سہی۔
Daily Jang, 2-08-09

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha