وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ان دنوں کچھ زیادہ ہی اتھارٹی جتانے کے چکر میں ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں سنجیدگی سے لیا جائے ، شاید اسی لئے وہ آج کل تواتر سے یہ کہتے ہوئے سنے جا رہے ہیں کہ ”بس بھئی بہت ہو گئی“ یعنی enough is enough۔ وہ خاصے ناراض لگتے ہیں اور یوں دکھائی دے رہا ہے کہ وہ صرف نام کے نہیں بلکہ حقیقی چیف ایگزیکٹو بننے کے خواہاں ہیں۔
یہ جونیجو سینڈروم کا اعادہ ہوتا نظر آ رہا ہے یعنی ایک شخص کو اس کی کامل تابعداری کی وجہ سے چنا گیا لیکن اب وہ چاہتا ہے کہ ساری بندشیں اور حدود توڑ کر اپنے آقا کی چھڑی خود اپنے ہاتھ میں لے لے۔ دوسری طرف قصر صدارت محظوظ ہونے کی بجائے معاملات کے درست رخ کا اندازہ لگانے سے بھی قاصر ہے کیونکہ وہ اس صلاحیت و استعداد سے محروم ہے۔گیلانی LUMSیونیورسٹی میں ایک طالب علم کے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے پھٹ پڑے جب اس نے پوچھا کہ موجودہ نظام آدھا تیتر آدھا بٹیر کے مصداق نہ تو کلی طور پر پارلیمانی ہے نہ صدارتی، تو گیلانی نے بھی اپنے سینے میں ابلتے کھولتے جذبات کو باہر نکال دیا۔
نجی حلقوں میں یہ افواہیں زیر گردش ہیں کہ وزیراعظم نے LUMSیونیورسٹی میں جو کچھ کہا وہ اس سے بھی زیادہ کہتے ہوئے سنے گئے ہیں اور شاید تین یا چار صحافی ان کے مراعات یافتہ مشیروں کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں، جی ہاں صحافی اور کون یہ جگہ لے سکتا ہے؟ ان صحافیوں کی صحبت میں وزیراعظم زیادہ سہولت سے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں اور اپنے سامعین کو حیران و پریشان کر کے رکھ دیتے ہیں۔اسلام آباد کی تو بنیادوں میں ہی سازشوں اور افواہوں کا تال میل ہے تو اس مرتبہ بھی یہ اپنی شہرت کو بٹہ نہیں لگنے دے گا۔
پاکستان کے قائدین کرام یعنی رہنماؤں پر بھارت کا کچھ عجیب سا اثر ہوتا ہے۔ ہم سوچتے ہیں بلکہ ہمیں یہ باور کرایا جاتا ہے کہ 1966ء میں روس کے زیر اہتمام ہونے والی تاشقند کانفرنس کے موقع پر دھان پان سے لال بہادر شاستری ہمارے لمبے تڑنگے ایوب خان (خود ساختہ فیلڈ مارشل) کے ٹاکرے یا مقابلے کے نہ تھے۔شاستری کانفرنس کے دوران ہی دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے لیکن اس کانفرنس کے بعد یہ ایوب خان ہی تھے جو 1965ء کی جنگ اور اس کے مضمرات کو سیاسی طور پر نہ سہہ پائے۔2002ء میں مشرف آگرہ گئے اور ناشتے کی میز پر کشمیر سے متعلق لیکچر دیا اس موقع پر بھارت کے بہترین ایڈیٹرز اور ٹی وی سپر اسٹارز موجود تھے اور اس لیکچر کی یاد سے اب بھی ان کے چہرے سرخ ہو جاتے ہوں گے لیکن مشرف یہ سمجھے کہ انہوں نے بھارت کو فتح کر لیا، مشرف یہ سمجھے کہ وہ کبھی غلطی کر ہی نہیں سکتے اور اپنے اس عقیدے کو انہوں نے بعد ازاں پورے پاکستان پر بھی لاگو کر دیا جس کے تباہ کن نتائج آج ہم بھگت رہے ہیں۔ اس وقت کی بھارتی قیادت شاید آگرہ کے حملے کو سہہ گئی لیکن مشرف اس سے بچ نہ سکے۔اب ہمیں ایک اور فاتح کا سامنا ہے اور یہ ہیں جناب یوسف رضا گیلانی جو حال ہی میں شرم الشیخ میں بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کے ساتھ مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کر کے آئے ہیں اور خاصے فاتحانہ موڈ میں نظر آرہے ہیں۔ اعلامیے کے مطابق جامع مذاکرات اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی کو دو علیحدہ خانوں میں رکھا جائے گا۔ یہ ایک ایسا فارمولا ہے جسے وزیراعظم کے قریبی حلقے پاکستان کی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔یہ بات کتنی حیران کن ہے کہ ہم جو دنیا کی ایک قدیم ترین تہذیب کے وارث اور رکھوالے ہیں ، کیسے اور کیونکر اس قسم کے اعلانات سے ہی پھولے نہیں سما رہے ہیں۔ فتح کے دعوؤں کی بنیاد زیادہ مضبوط ہونی چاہئے۔ ہمیں خود اپنے آپ کو اور دنیا کو اپنا بہتر چہرہ پیش کرنے کیلئے یہ سیکھنا ہو گا کہ ہم دو ممالک کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ رہ پاتے ہیں (ہمارے پاس اور کوئی چوائس نہیں ہے) اور پھر ہمیں اس سلسلے میں قدرے میچورٹی کا مظاہرہ بھی کرنا ہوگا۔
شرم الشیخ سے واپسی پر جیو اور جنگ کے صحافی حامد میر سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم گیلانی نے فرمایا کہ اب سے وہ اپنے فیصلے خود کریں گے اور میرٹ کی بنیاد پر نہ کہ ”کسی کی پسند و ناپسند کی بنیاد پر“ کابینہ میں ردو بدل کی جائے گی۔ اپنے انٹرویو کے اختتام میں انہوں نے فرمایا کہ ”میں تاریخ رقم کرنا چاہتا ہوں“۔ یہ انٹرویو سن کر اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ وزیراعظم گیلانی نے صدر آصف زرداری کے مقابل آزادی کا اعلان کر دیا ہے تو وہ غلط نہیں ہے۔نجی حلقوں میں گیلانی جو کچھ کہتے ہیں وہ سب کچھ پریس میں رپورٹ نہیں کیا جاتا۔ تاہم قابل اعتماد ذرائع سے یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ وزیراعظم گیلانی یہ کہتے ہوئے سنے گئے ہیں کہ ان کے زرداری کے ساتھ ”اسٹریٹجک اختلافات“ ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ اطلاعات درست ہوں لیکن جہاں تک گیلانی کا تعلق ہے تو ہماری اطلاعات کے مطابق وہ شاید اسٹریٹجک فارمولیشنز کے حوالے سے زیادہ شہرت نہیں رکھتے۔ چلیں اسٹریٹجک اختلافات کے قصے کو جانے دیں، یہ واقعہ سنیں کہ گیلانی نے فرانس کے لئے زرداری کے نامزد سفیر کو مسترد کر دیا اور اب وہ بتدریج باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لیتے نظر آ رہے ہیں لیکن کھلے عام بغاوت اب بھی نہیں کر رہے۔ وہ گاہے بگاہے اپنے غم و غصے اور ناراضی کا اظہار تو کر رہے ہیں لیکن ابھی تک انہوں نے کابینہ میں زرداری کے چہیتوں کی گردن پر چھری نہیں پھیری۔ شاید گیلانی اس سے زیادہ عقلمند ہیں، جتنا ہم سوچ رہے ہیں۔
زرداری نے گیلانی کو اس لئے وزیراعظم کے عہدے کے لئے چنا کیونکہ ان کے خیال میں وہ ایک نرم خو اورچوں چرا کئے بغیر حالات کے سانچے میں ڈھل جانے والے شخص تھے لیکن اب شاید زرداری پچھتا رہے ہوں کہ انہوں نے گیلانی کی بجائے امین فہیم کو کیوں نہیں منتخب کیا کیونکہ وہ شاید زیادہ موزوں شخصیت تھے اور ہم شرط لگا سکتے ہیں کہ اگر فہیم کو وزیراعظم چنا جاتا تو انہیں زرداری سے ایک یا دو ہی شکایتیں ہوتیں،کچھ چیزیں کچھ معاملات کبھی تبدیل نہیں ہوتے۔ جنرل یحییٰ خان کو ایوب خان نے خود بطور آرمی چیف منتخب کیا تھا لیکن جب تقدیر ایوب پر مہربان نہ رہی تو یہ یحییٰ خان ہی تھے جس نے اقتدار میں آتے ہی ایوب کو حرف غلط کی طرح مٹا دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو یہ سوچ کر خوش ہوتے رہے کہ انہوں نے ایک جونیئر جرنیل کو بطور آرمی چیف منتخب کرکے بہت زیادہ ہوشیاری دکھائی ہے کیونکہ یہ ضیاء ہی تھے جنہوں نے بھٹو کے ساتھ اپنی وفاداری جتانے کیلئے بعض اوقات ایسے ایسے کام بھی کئے کہ وہ جرنیل سے زیادہ ایک مسخرے دکھائی دیئے لیکن وقت نے دیکھا کہ جب پانسہ پلٹا تو یہ ضیاء ہی تھے جنہوں نے بھٹو کو جیل بھجوایا۔پھر جب ضیاء نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے سندھ کے ایک غیر معروف سیاستدان محمد خان جونیجو کو بطور وزیراعظم منتخب کیا اور یہ سوچا کہ انہوں نے ایک کامل تابعدار شخص ڈھونڈ لیا ہے لیکن جلد ہی ضیاء کی یہ غلط فہمی دور ہو گئی جب جونیجو نے نہ صرف یہ کہ ان کے احکامات سے روگردانی کی بلکہ انہیں پوری طرح بے بس کر دیا۔ نواز شریف اور ان کے گرد موجود حلقے نے بھی اس امر پر خوشیاں منائیں کہ انہوں نے اردو بولنے والے مشرف کو بطور آرمی چیف پروموٹ کیالیکن ان کے سان گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ اتنی جلد نواز شریف کے گلے کا ہار بن جائیں گے۔ (جاری ہے)
Courtesy: Daily Jang, 1-AUG-09
Recent Comments