22جنوری 2009ء کو سی آئی ڈی نے سرکاری طور پر آئی جی پنجاب کو متنبہ کیا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی’’را‘‘نے سری لنکا کرکٹ ٹیم کو نشانہ بنانے کیلئے اپنے ایجنٹ چھوڑ دیئے ہیں ۔اغلب امکان ہے کہ حملہ ہوٹل اور اسٹیڈیم کے درمیان سفر کے دوران کیا جائے گا تاکہ دنیا کو دکھایا جائے سکے کہ پاکستان میں کھیلوں کا انعقاد انتہائی خطرناک ہے۔ اس سلسلے میں انتہائی چوکس رہنے اور سخت حفاظتی انتظامات کرنے کا بھی مشورہ دیا گیا۔ اس واقعہ کے چند منٹ بعد ہمارے پاکستانی تجزیہ کاروں ‘ ٹی وی اینکروں ‘ سیاستدانوں اور آئی ایس آئی کے ایک سابق سربراہ کو بھی یہ سن گن ہوگئی کہ حملہ میں سرحد پار سے غیر ملکی ہاتھ ملوث ہے۔ ان کے مطابق اصل میں یہ حملہ ممبئی واقعات کا ری پلے اور ادلے کا بدلہ ہے۔ اس دعوے کے ثبوت میں ان کی دلیل یہ تھی کہ دہشتگرد صحیح سالم فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے اور انہوں نے خودکشی نہیں کی جو مقامی اسلامی جہادی تنظیموں کا ایک طرہ امتیاز ہے۔’’را‘ کی سازش کی تھیوری بھی بھارتی وزیرخارجہ پرناب مکھرجی اور وزیر داخلہ پی چدم برم کے بیانات آنے سے پوری ہو گئی کہ جب تک پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کو سہولتیں میسر رہیں گی اور ان کے زیر قبضہ علاقے واگزار نہیں کرائے جائیں گے، اس قسم کے واقعات ہوتے رہیں گے ۔ بھارتی رہنماؤں نے اپنی کرکٹ ٹیم پاکستان نہ بھیجنے کے فیصلہ کے اعلان کا بھی فوری اعادہ کیا۔ اس کے بعد دنیا بھر میں کھیلوں میں حصہ لینے والے ممالک کے ماہرین کی آوازیں کورس کی شکل میں آنے لگیں کہ پاکستان میں کھیلوں کے مقابلے منعقد کرنے پر طویل عرصہ کیلئے پابندی لگادی جائے۔
تاہم اس تالاب میں کچھ اور مچھلیاں بھی نظر آتی ہیں۔ ایک سابق اعلیٰ انٹیلی جنس افسر نے جو تین دن پہلے پنجاب میں پولیس کے ایک سینئر عہدے سے سبکدوش ہوئے زیر نظر اخبار کو رازداری سے بتایا کہ لاہور میں دہشتگردی کاتازہ واقعہ سابق جہادی گروپوں کا کیا دھرا ہے جن کا تعلق اب القاعدہ سے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال سکیورٹی ایجنسیوں نے ایک فرقہ وارانہ تنظیم لشکر جھنگوی کے ایک دہشتگرد کو پکڑا۔ یہ تنظیم کشمیر میں بھی سرگرم رہی ہے اور اب فاٹا کے علاقے جنوبی وزیر ستان میں بیت اللہ محسود کی قیادت میں القاعدہ طالبان نیٹ ورک کے ساتھ کام کررہی ہے۔ متزکرہ دہشتگرد ابھی بھی پولیس کی حراست میں ہے جس نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ اسے تربیت دی گئی تھی کہ پاکستان میں گذشتہ سال مجوزہ چیمپئن کرکٹ ٹرافی کی جگہ پر اپنے آپ کو بم سے اڑائے ۔ تاہم ٹرافی کے مقابلے پاکستان میں نہ ہو سکے تھے ۔
پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر اور انسپکٹر جنرل پولیس خالد فاروق دونوں کا کہنا ہے کہ سری لنکن ٹیم پر حملہ انہی لوگوںنے کیا جو ممبئی واقعات میں ملوث تھے۔ ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ جس دن سری لنکن ٹیم پر حملہ ہوا اسی روز پاکستان کے بیشتر اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی کہ القاعدہ نے ستمبر 2008ء میں میریٹ ہوٹل اسلام آباد پر حملہ کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ یہ اعتراف اسلام آباد میں سعودی سفارتخانے کو بھیجے گئے ایک پیغام میں کیا گیا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ 22 دسمبر 2008ء کو مشیر داخلہ رحمن ملک نے قومی اسمبلی کو بتایا تھا کہ میریٹ بم دھماکہ میں لشکرجھنگوی ملوث ہے۔ مزید براں القاعدہ نے اسلام آباد میں ڈنمارک کے سفارتخانے پر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔
محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی شہادت سے پہلے انکشاف کیا تھا کہ کراچی میں اکتوبر 2007ء ان کے استقبالیہ جلوس پر عبدالرحمن سندھی کے گروہ نے حملہ کیا تھا۔ اس دہشتگرد کا تعلق سندھ کے ضلع دادو سے تھا اور وہ القاعدہ سے وابستہ لشکر جھنگوی کا سرگرم رکن تھا۔ دسمبر 2008 ء میں محترمہ کے قتل کے بعد القاعدہ کے ترجمان نے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے محترمہ کو امریکی اثاثہ قرار دیا تھا۔ لشکر جھنگوی 1996ء میں بنا جس کی تربیت افغانستان میں القاعدہ کے کیمپوں میں ہوئی۔ 1990ء کے عشرے کے اواخر میں القاعدہ کی حمایت یافتہ طالبان حکومت نے لشکر جھنگوی کے دہشتگردوں کو حوالے کرنے کا پاکستان کا مطالبہ یکسر مسترد کردیاتھا۔ کئی اور شواہد سے بھی ثابت ہے کہ لشکر جھنگوی القاعدہ کا حلیف ہے۔ مئی 2002ء میں نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے کراچی میں اپنے ہوٹل کے سامنے لشکر جھنگوی کے خودکش حملے کے بعد پاکستان کا دورہ ختم کردیا تھا۔ کراچی میں 2002ء میں کورکمانڈر کراچی اور 2003ء میں جنرل پرویز مشرف پر حملے بھی لشکر جھنگوی نے کرائے، جس کے شواہد موجود ہیں۔
لشکر جھنگوی کا خالد شیخ محمد سے بھی قریبی تعلق تھا جو امریکہ میں 9/11 کے حملوں کا ماسٹر منصوبہ کار تھا۔ بعدازاں وہ پکڑا گیا اور مشرف حکومت نے اسے امریکہ کے حوالے کردیا۔ 1999ء میںایک بھارتی مسافر طیارے کے اغوا کے نتیجہ میں برطانوی شہری عمر شیخ کو ایک بھارتی جیل سے جیش محمد نے رہا کروایا۔ جنوری 2002ء کراچی میں ایک امریکی صحافی ڈینئل پرل کو اغواء کیا گیا تو اس کیلئے جن دہشتگردوں نے جال پھیلایا ان کا تعلق بھی لشکر جھنگوی سے تھا۔ اسی تنظیم نے خالد شیخ محمد سے پرل کے قتل میں تعاون کیا۔ یاد رہے کہ پرل کو ایک خیراتی ادارے کی سرپرستی میں چلنے والے مدرسے کی رہائش گاہ میں ذبح کیا گیا تھا۔ یہ ادارہ افغانستان میں سرگرم تھا اور اسے دہشتگرد تنظیم ہونے کے ناطے کالعدم قرار دیا جاچکا تھا۔
تاہم پاکستان میں دہشتگردی کے اس قسم کے حملوں کے متعلق سنگین مسائل پائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں القاعدہ نے بہت سے حملوں کی ذمہ داری قبول کی لیکن بہت کم پاکستانیوں کو یقین ہے کہ القاعدہ کا سرے سے کوئی وجود بھی ہے یا پاکستان کو اس سے کوئی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ اس انکار کے ماحول کی وجہ نوجوان ٹی وی اینکرز کی کھیپ ہے جن کا جھکاؤ مذہبی قوم پرستی کے نظریات کی جانب ہے۔ یہ ٹی وی اینکر ضیاء الحق کے دور میں پلے بڑھے جب مذہبی قوم پرستی، قومی نظام تعلیم کا لازمی جزو تھی۔ پاکستان میں لوگ یہ بھی نہیں مانتے کہ یہاں اسلامی دہشتگردی فروغ پارہی ہے اور نہ یہ سوچنے پر تیا رہیں اس کا مقابلہ کیسے کرنا ہے؟ خوف کی فضا میں رپورٹنگ سے بھی اس رحجان کو جلا ملتی ہے جہاں سوات میں موسیٰ خیل جیسے صحافی ایسے خیالات پیش کرنے کی پاداش میں قتل ہوجاتے ہیں جن سے طالبان کے غیض و غضب کو دعوت ملتی ہے۔ اس رحجان کو عدالتوں سے لشکر جھنگوی کے دہشتگردوں کی مسلسل رہائی سے بھی تقویت ملتی ہے کیونکہ ریاست ججوں کو تحفظ نہیں دے سکتی!
Source: Daily Jinnah, 6-Mr-09
Recent Comments