جمعرات جنوری 1, 2009

مسلم امہ کی افسوسناک خاموشی اور سرد مہری نے ایک بار پھر اسرائیل کو یہ ہمت اور حوصلہ دیا کہ اپنی سرزمین پر غیر قانونی قبضے کے خلاف تحریک چلانے والے فلسطینی عوام کو تہہ تیغ کر سکے۔اب تک چار سو سے زائد بے گناہ فلسطینی اسرائیلی فوجوں کے ہاتھوں جام شہادت نوش کر چکے ہیں اور بربریت کا اس سلسلہ کے تھمنے کے آثار نظر نہیں آرہے۔صیہونی فوج کو ان بہیمانہ کارروائیوں میں امریکہ اور اس کے یورپی تحادیوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔سوال یہ ہے کہ عالم اسلام اس وقت کہاں سویا ہوا ہے؟ اس کی طرف سے کوئی جاندارآواز کیوں نہیں اٹھ رہی؟وہ ا قدام کب اٹھائے جائیں گے جو اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی سے باز رکھیں گے۔ اب تک صرف چند کھوکھلے ہی احتجاج سامنے آئے ہیں جن سے اسرائیل کو مزید شہ مل رہی ہے۔ کیا دنیائے اسلام امریکی حمایت سے اسرائیلی چیرہ دستیوں کے سامنے اتنی بے بس ہو چکی ہے؟
عالم اسلام کی بے بسی اب مسلم ہو چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان قیادت خاص طور پر فلسطین کے حوالے سے عرب ممالک ، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے سامنے جھکنے میں عافیت محسوس کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے تمام تر جبر اور جارحیت کے باوجود عرب قیادت خاموش ہے۔ ان میں صرف شام ایسا ملک ہے جس نے تھوڑی مزاحمت کی ہے۔ بیشتر عرب ممالک فوجی اور اقتصادی حوالے سے امریکہ اور یورپ پر انحصار کرتے ہیں۔ان کے پاس جو ہتھیار ہیں وہ انہی ملکوں کے ہیں اور ان کے تمام اثاثے بھی مغربی ملکوں کے بینکوں میں جمع ہیں۔ ان دونوں عوامل کو ایک دباؤ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا تھا‘ لیکن اس کیلئے بھی جس حوصلے اور جرأت کی ضرورت ہے وہ عرب قیادت میں نہیں ہے اور نہ کسی اور جگہ نظر آتی ہے۔ ذرا تصور کیجئے کہ اگر دولت مند اسلامی ممالک مغربی ملکوں سے اپنا سرمایہ نکا ل لیں تو کیا ہو گا؟ مغربی ملکوں کی معیشت دھڑام سے زمین پر آگرے گی۔ اسی طرح اگرعرب ممالک مغرب سے ہتھیار خریدنا بند کر دیں تو ان کی اسلحہ ساز فیکٹریاں بند ہو سکتی ہیں۔ کیا 1970ء میں اس قسم کا تجربہ نہیں ہوا تھا جب عرب ملکوں نے تیل کا ہتھیار استعمال کیا تھا۔
تاہم اب کسی میں ہمت نہیں کہ وہ امریکہ یا اسرائیل کو آنکھیں دکھا سکے یا ان کی پالیسیوں سے انکار کی جرأت کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کے قتل عام میں بالکل آزاد ہے۔ انسانی حقوق کا خیال رکھنے والے کینیڈا جیسے بعض یورپی ممالک نے اسرائیلی مظالم کیخلاف نحیف آواز بلند کی لیکن اپنی محدود طاقت کے سبب یہ ملک اسرائیل کو جارحیت سے نہیں روک سکتے۔ انتہائی ستم ظریفی کی بات ہے کہ یورپ یہودیوں کے قتل عام کی مذمت کرتا ہے لیکن وہ بوسینیا ، فلسطین اورگجرات کے مسلمانوں کا خون بہنے پر چپ ہے۔
غالباً سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ مسلم قیادت انسانی جانوں کی بے حرمتی کے خلاف آواز بلند کرنے سے گریزاں ہے اور نہ اس کا حوصلہ رکھتی ہے۔ اگر عرب ممالک مغرب سے اپنا سرمایہ نکال لیں اور ا سے اسلامی ملکوں خاص طور پر غریب اور فنی لحاظ سے ترقی یافتہ ملکوں میں مؤثر طور پراستعمال کریں تو دنیا کا نقشہ بدل سکتا ہے۔ اسی طرح اگر عرب ممالک امریکی افواج کی میزبانی ترک کر دیں تو امریکہ کو اپنے مکرو ہ عزائم پر عمل درآمد میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ جن عرب ملکوں کو اپنے ہمسایوں سے خطرہ ہے‘ وہ مضبوط اسلامی ملکوں سے دفاعی معاہدے کر سکتے ہیں۔جہاں تک مغربی ملکوں سے ہتھیاروں کی خریداری کا تعلق ہے ، اگر ان کی واقعی ضرورت ہے تو خریدار ایک دوسرے پر انحصار کی بنیاد پر صورتحال کو اپنے حق میں استعمال کر سکتے ہیں۔تاہم یہ سب کچھ خوش خیالی ہے۔ہمارے سامنے اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کی کامیابی کی مثال موجود ہے۔ ایران نے امریکی قوت کا مقابلہ ثابت قدمی سے کیا۔حتیٰ کہ شام جیسے ملک نے بھی اپنے علاقے پر امریکی بمباری کا جواب جس باوقار انداز میں دیا وہ پاکستان کی کہیں زیادہ طاقت ور فوج کیلئے شرمناک ہے۔ ایک دوسرے خطے میں مہاتیر محمد نے اقتصادی معجزہ کر دکھایا اور اپنے ملک کی سیاسی اہمیت اور حیثیت کو بڑھایا۔ اب جب کہ پاکستانی قیادت امریکہ کے سامنے مزید جھک رہی ہے تو ہمیں ملائیشیا کی طرف دیکھنا چاہئے اور اس کی تقلید کرنی چاہئے۔ اگر ملائیشیا کی طرف نہیں دیکھنا تو کم سے کم اپنے پرانے دوست چین سے ہی سبق حاصل کرنا چاہئے، تب بھی ہم مشکلات اور موجودہ جانکاہ حالات سے بچ سکتے تھے۔
آج ہم ایک ایسے ملک میں بدل چکے ہیں‘ جہاں دولت مندوں کے سامنے کسی قانون کی کوئی حیثیت نہیں۔ جہاں ان کے بچے ہر ادارے کے اصول و ضوابط کا مذاق اڑاتے ہیں اور جہاں طاقت کے حصول کیلئے ہر قسم کا جبر روا سمجھا جاتا ہے۔حکمران اپنے لئے مکمل اختیارات چاہتے ہیں۔ ایسے حالات میں اگر ہمیں اپنی بقاء کیلئے لڑنے کا جذبہ مفقود ہو رہا ہے تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں۔جو طاقت ور ہیں وہ سیاہ و سفید کے مالک بنے ہوئے ہیں‘ لیکن انہوں نے اپنے ٹھکانے بیرون ملک بنا رکھے ہیں،جب کہ غریب عوام مایوسی کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں اور اس توقع پر جی رہے ہیں کہ اگلے جہان جا کر انہیں اپنی دعاؤں اور دکھوں کا صلہ مل جائے گا۔اب ہم عالم اسلام کی خود ساختہ بے بسی پر نظر ڈالتے ہیں جنہیں اسرائیل اور امریکہ مسلسل جارحیت کا ہدف بنا رہا ہے۔کوئی یہ سوال کر سکتا ہے کہ اقوام متحدہ کیا کر رہی ہے ؟یہ واضح ہے کہ سلامتی کونسل ایک ایسی تنظیم میں بدل چکی ہے جس کا مقصد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا دفاع کرنا اور ان کے ایجنڈوں پر عمل کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیکرٹری جنرل بن کی مون غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام پر احتجاج کے سوا کچھ نہ کر سکے۔ابتداء میں فلسطینیوں کو کھانے پینے کی اشیاء اور صحت کی سہولتوں سے محروم کیا گیااور اب ان کو حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جبکہ امریکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذریعے اسرائیل کی مذمت کی ہر کوشش کو روک رہا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اب ایک متنازعہ سیاسی ادارہ بن چکی ہے خاص طور پر جب سے امریکہ واحد سپر پاور بن کر ابھرا ہے۔ دہشت گردی کے مسئلے پر اس کی فضولیات ملاحظہ کیجئے۔ طالبان اور القاعدہ کے متعلق سلامتی کونسل کی دہشتگردی کی کمیٹی صرف مسلمانوں تک محدود ہے۔ حالانکہ بھارت میں راشٹریا سیوک سنگھ اور بی ایچ وی ایسی انتہا پسند ہندو تنظیمیں ہیں‘ جن کی مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کیخلاف دہشتگردی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے‘ لیکن ان کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھاتا اور نہ ان پر پابندی لگانے کے بارے میں سوچا جاتا ہے۔ اسی طرح ایران اور پاکستان میں امریکہ ،فلسطین میں اسرائیل اورکشمیر میں بھارت ریاستی دہشتگردی کر رہا ہے انسانیت سوز مظالم ڈھا رہا ہے لیکن سب نے ان کی طرف سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اقوام متحدہ کو بعض طاقتوں نے محصور کر رکھا ہے۔پاکستان جیسے ملکوں کا کردار صرف یہ رہ گیا ہے کہ اقوام متحدہ کو فوج فراہم کریں۔اس کے باوجود پاکستان کو ایک دشمن ملک سمجھا جاتا ہے۔ یہ کیا دوغلا پن ہے۔اگر اقوام متحدہ کو ہم پسند نہیں ہیںتو اسے چاہئے کہ اسلام آباد سے اپنا بوریا بسترا سمیٹ کر یہاں سے جائے‘ جس کی وجہ سے ہمارے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ اگر پاکستان کے لوگ اعتماد کے قابل نہیں ہیں تو پھر انہیں اقوام متحدہ کی امن فوج میں کیوں شامل کیا جاتا ہے۔یو این او ہم سے فوجی لینے کی بجائے کوئی اور دروازہ دیکھے۔
تاہم کس پاکستانی لیڈر میں اتنی غیرت ہے کہ قومی وقار کے تحفظ کیلئے کھڑا ہو ! پاکستان جیسے ملکوں کے حوصلے کو کیا ہوا؟ وہ احتجاج کیوں نہیں کرتے؟ ہماری سرکار صرف امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے میں مصروف رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب امریکی وزیر خارجہ کونڈالیزا رائس نے بھارت سے رابطہ کیا تو اپنے ہم منصب پرناب مکھر جی سے فون پر بات کی‘ لیکن پاکستان کے معاملے میں اس نے براہ راست صدر کو فون کیا، ہمارے وزیر خارجہ کو بات کرنے کے قابل نہ سمجھا۔
ہاں یہ درست ہے کہ دولت کے لحاظ سے مضبوط کئی مسلمان ملکوں کی طرح فوجی قوت رکھنے والا پاکستان بھی نفسیاتی طور پر ایک ایسی ریاست میں ڈھل چکا ہے ‘ جو مردہ اوربے آواز ہے۔ فوجی صلاحیت کے باوجود ہمارے لیڈر امریکی طیاروں کے حملوں سے عوام کو نہیں بچا سکتے۔ وہ امریکہ کو خوش کرنے کیلئے کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔ بیرونی جارحیت کا مقابلہ جدیدیت کو فروغ دے کر کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے لیڈروں کی حالت کا نقشہ فرخ سلیم نے اپنے گزشتہ کالم میں بڑی خوبصورتی سے کھینچا ہے‘ تاہم اس سے ان کی کمزوریوں کے تمام پہلو واضح نہیں ہوتے۔ ان حالات میں ہم
  فلسطینی عوام کے حق میں آواز کیا بلند کر سکتے ہیں؟ ہم سے یہ توقع رکھنا فضول ہے۔اگر مسلمانوں کو بے رحمی سے مارا جا رہا ہے تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں!

Courtesy: Daily Jinnah

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha