کیا پارٹی پارٹی لگا رکھا ہے؟ میں جیل میں تھا تو یہ سب کہاں تھے؟ یہ تو میرے دوست تھے، جنہوں نے تب میرا ساتھ دیا! جو میرے ساتھ تمھاری پارٹی نے کیا، وہی اب میں اس کے ساتھ کروں گا“(ایوانوں پر قابض طاقتور ترین شخصیت کا ایک حالیہ تاریخی مکالمہ)
ملک کی سب سے بڑی اور مقبول ترین جماعت کو اگر اس کے بانی قائد کی پھانسی کے بعد اگلی کئی دہائیوں تک راج کرتیEstablishmentکا بانی جنرل ضیاء الحق ختم کرنے میں ناکام رہا، اگر اس کی پیٹھ میں چھرا گھونپتے، مشکل ترین دور میں بھٹو خاندان کو دغا دیتے غدار اسے برباد نہ کرسکے، اگر جیلیں ، لاٹھیاں، کوڑے، شاہی قلعے اور پھانسیاں اس کے جیالوں کی دھما دھم مست قلندر کی تھاپ مدہم نہ کرسکیں اور مطلق العنان پرویز مشرف اسے ختم کرنے کی کوششوں میں لالچ اور دھمکیوں سے اس میں دراڑیں ڈالنے کی کوشش کرتا، اس کی قائد کی شہادت کے بعد خود بھی فنا ہو گیا تو پھر Establishment کے ساتھ بیرونِ ملک باہمی مفادات کا تحفظ کرتا ایک چھوٹا سا عیار اور جرائم پیشہ ٹولہ، لاکھوں کارکنوں کے سر پر مسلط ہونے کے بعد ان خیالات اور مقاصد کے ساتھ کس طرح اسے تباہ کرسکتا ہے؟
بھٹو صاحب کے عدالتی قتل کے بعد بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ نے آستین کے سانپوں سے ڈسے جانے کے بعد اپنے جانثاروں اوروفاداروں پر مشتمل ان رفقاء کو اپنے اردگرد جگہ دی تھی جو مخلص ہونے کے ساتھ ساتھ کسی نہ کسی خصوصیت یا خوبی کے حامی ضرور تھے۔ معاشرے میں ان کی قدر اور کارکنوں تک ان کی ہر لمحہ دسترس تھی۔ خواہ طلبہ رہنما ہوں یا خواتین ، نوجوان، مزدوروں اور وکلاء شعبہ جات سے وابستہ متوسط طبقے کے پرجوش نظریاتی شعلہ بیان اور جذباتی لگاؤ رکھتے انتہائی قابلِ احترام سمجھے جاتے اپنے حلقوں میں پیپلز پارٹی کا عَلم بلند رکھتے وہ جواہرات، ہیرے اور نگینے جنہوں نے اپنی زندگیاں وقف کردیں، روزگار برباد کردیئے اور جوانیاں نچھاور کر کے بدترین حالات میں بھی اپنی قیادت کی عزت و توقیر میں کبھی کمی نہ آنے دی اور ہر بار مخالفین کوذلیل و رسوا ہونے پر مجبور کردیا!!!
محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کا حلقہ احباب کس قدر وسیع تھا۔ بے شمار دوست، بچپن کی سہیلیاں، خاندانی مراسم لیکن انہوں نے ہمیشہ پیپلز پارٹی کے معاملات کو الگ تھلگ رکھا۔ کب ایسا ہوا کہ انہوں نے اپنے اسکول کی سکھیوں کو ناہید خان اور صفدر عباسی یا منور سہروردی شہید جیسے بے لوث وفاداروں پر فوقیت دی ہو۔ عوام میں جاتیں تو دور دور سے آنکھوں میں امید کے دئیے جلائے بے کس و بے سہارا عوام ہاتھوں میں درخواستیں تھامے، ان تک پہنچنے کی کوشش اور انہیں دیکھنے کی ایک خواہش میں میلوں دور سے آ کر گھنٹوں جلسوں جلوسوں کی دھول بنے رہتے لیکن اکثریت خوش و خرم دعائیں دیتی لوٹتی! کسی کے پاس محترمہ کے ساتھ تصویر ، کوئی ان سے اپنی درخواست پر دستخط کروانے میں کامیاب ہوجاتا، کسی کی جانب صرف محترمہ کی ایک مسکراہٹ اور اس کے جذبے پر تعریف کرتا ایک اشارہ ہی کافی ہوتا، وہ گھل مل جاتیں، خدا جانے کس کس کے مسائل ۔۔۔دکھ، غم، پریشانیاں اور بے روزگاریاں بیان کرتے کاغذات ، جن سے ٹپکتی حسرتیں۔۔۔بے نظیر بھٹوکے غالباً ذہن میں نقش ہوجاتیں اور وہ جب خود اس قدر بوجھ موقع پر سنبھال نہ پاتیں تو ناہید خان کو تھماتی، بعد میں ان پر غورکرنے کا جب وعدہ کرتیں تو ہر کارکن کو یقین ہوتا کہ ان کی قائد ۔۔گھپ اندھیروں میں اس کی زندگی میں ایک شمع بن کر ضرور روشنی پھیلائے گی! ہمیشہ ایسا نہ ہوتالیکن امید۔۔جیالوں کے حوصلے بلند رکھتی اور یہی وہ پیپلزپارٹی تھی۔۔جو درست معنوں میں اس ملک کی واحد عوامی جماعت بن کر چاروں صوبوں میں معاشرے کے نچلے سے نچلے طبقے تک اپنی جڑیں مضبوط کرتی چلی گئی۔
”کیا پارٹی پارٹی لگا رکھا ہے؟ میں جیل میں تھا تو یہ سب کہاں تھے؟ یہ تو میرے دوست تھے، جنہوں نے تب میرا ساتھ دیا! جو میرے ساتھ تمھاری پارٹی نے کیا، وہی اب میں اس کے ساتھ کروں گا“موصوف فراموش کررہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے قائدین اور کارکن تب اپنی قائد کی ہدایات پر فعال تھے۔ ان کا کسی بھی شخص سے ملاقات کرنا، اس کے لئے تحریک چلانا، جلسے کرنا، جلوس نکالنا یا مظاہرے کرنا محترمہ کی مرضی سے مربوط تھا۔ ناہید خان اگر زرداری صاحب سے زیادہ محترمہ کا اعتماد رکھتی تھیں تو یہ محترمہ کا اپنا فیصلہ تھا اور اگر وہ موصوف پر نظر رکھنے کے لئے کسی کو بھی کوئی ذمہ داری تفویض کرتی تھیں تو یہ بھی محترمہ کی مرضی ہواکرتی تھی۔ میں ذاتی طور جنرل مشرف کے ساتھ محترمہ بے نظیر کی جانب سے ہوتے NROکا تب بھی شدید ترین مخالف تھا اور کئی ایسی ملاقاتیں جن میں چند اہم غیر ملکی شخصیات بھی شریک تھیں اور جن کے گواہ ڈاکٹر صفدر عباسی سمیت پیپلز پارٹی کے دوسرے رہنما بھی ہیں۔۔۔میں خلیجی ریاستوں میں ہوتی اس افہام و تفہیم پر مسلسل اپنے اختلاف سے محترمہ کو آگاہ کررہا تھا اور انہی دنوں NROطے پانے کی خبر سن کرجنرل (ر)نصیر اللہ جیسے بااصول شخص کا اعلانیہ خود کو خاموشی سے پیپلز پارٹی کی سیاست سے علیحدہ کرنا، میں آج کی بے مقصد چاپلوس سیاست میں ایک درخشاں مثال تصور کرتا ہوں۔ لیکن NROکا ایک دلچسپ معاملہ شایدبہت سے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے علم میں نہیں ! نتیجتاً بہت سے فائدہ اٹھاتے اکابرین میں سے اکثریت جو آج زرداری صاحب سمیت ملک کے اہم ترین عہدوں پر مسلط ہے، یہ محترمہ کے حیات ہونے کی صورت شاید ایوانوں تک دسترس کی ہمت بھی نہ رکھتی۔ زرداری صاحب کو محترمہ نے پیپلز پارٹی میں طلبہ کو منظم کرنے کی ذمہ داری تفویض کرنے کے علاوہ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں یہ ہدایت دی تھی کہ آپ دوبئی میں رہ کر بچوں کی نگرانی کریں۔ زرداری صاحب جو NROطے پانے کے بعد اچانک نیویارک سے اپنا دل کا عارضہ ختم کر کے واپس دوبئی آچکے تھے۔ ۔۔۔انہیں محترمہ کی وطن واپسی سے پہلے صرف ایک انتہائی محدود حد تک سیکورٹی انتظامات میں ملوث کرنے کی یوں کوشش کی گئی کہ وہ کارکنوں کے ہجوم میں بے کار اور بے مقصد بیٹھے نظر نہ آئیں۔ دوبئی کے گھر میں مہمانوں کے لئے دو مختلف حصے مخصوص تھے اور جس چھوٹے کمرے میں زرداری صاحب اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر خوش گپیاں کرتے، اس تک صرف گھر کے پچھلے دروازے سے پہنچ تھی۔
پیپلز پارٹی کے تمام اہم قائدین مکان کے اگلے حصے سے داخل ہو کر محترمہ کے ساتھ بڑے ڈرائنگ روم میں پارٹی اجلاس منعقد کیا کرتے جہاں زرداری صاحب اور ان کے موجودہ اہم عہدوں پر فائز دوستوں کو محترمہ کی جانب سے قدم رکھنے کی اجازت نہ تھی۔ وطن واپسی کے بعد کچھ بظاہر انتہائی اہم نظر آتے کردار بھی محترمہ ختم کرنے جارہی تھیں! وہ جن کے بارے میں محترمہ کو یقین تھا کہ یہ ان سے زیادہ مخالفین کے وفادار ہیں اور صرف درمیان میں آکر مذاکرات کی حد تک محترمہ کے قریب تصور ہورہے تھے، محترمہ ان کے بارے میں بڑے واضح خیالات رکھتی تھیں جو بطور سیکورٹی ایڈوائزر محترمہ کی شہادت میں مشکوک ترین افراد کی فہرست میں اول نمبر پر ہیں، وہ تب محترمہ کے ذہن میں اگلے مستقبل کے وزیرِ داخلہ ہوتے تو کم از کم قومی اسمبلی کا ٹکٹ تو حاصل کرنے میں کامیاب رہتے!!!
وہ جو پٹرولیم کی اہم ترین وزارت پر فائز ایران سے ہوتے گیس معاہدوں پر اربوں روپیہ ملک سے باہر بھجواچکے اور گیس پرمٹ فروخت کرتے 75/25کے حصے پر مقامی ہسپتال میں بعد غروبِ آفتاب خدمات کا صلہ وصول کررہے ہیں، کیا وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ پانچ منٹ بھی گفتگو کرنے کا حوصلہ رکھتے تھے؟ پیپلز پارٹی کے موجودہ دور کی اس اہم ترین وزارت پر زرداری صاحب نے اپنے تاریخی فرمان کے مطابق ایک ایسی شخصیت کو فائز کیا جس کا واضح اعلان ہے کہ ”میرا پیپلز پارٹی نامی کسی جماعت سے کوئی تعلق رہا ہے اور انشاء اللہ نہ کبھی ہوگا“ آج بھی جمعیت علمائے اسلام سے وابستہ ڈاکٹر عبدالقیوم سومرو جو مولانا فضل الرحمن ہی کی سفارش پر برسہا برس قبل میڈیکل آفیسر بھرتی ہوئے اور پھر لانڈھی جیل ٹرانسفر کروانے کے بعد زرداری صاحب کی خدمت کرتے رہے۔ آج ایوانِ صدر کے مضبوط ترین شخص شمار ہوتے ہیں، جن کے ایک ٹیلی فون پر ہوتے اہم ترین فیصلے اور اُن کے گزرے ایک برس کے دوران جنم لیتے ذاتی اثاثے آج اسلام آباد میں ہر خاص و عام کی زبان پر ہیں!
خورشید شاہ کو تو دنیا پیپلز پارٹی کے ایک مدبر اور سنجیدہ رہنما کے طور پر جانتی ہے لیکن یہ اسلام الدین شیخ کون ہیں؟ راشد ربانی تو برسہا برس پیپلز پارٹی کے لئے قربانیاں دیتے رہے لیکن یہ فیصل رضا عابدی کہاں سے آگئے؟ شہلا رضا تو زمانہ طالب ِ علمی سے جدوجہد کرتی رہیں لیکن شرمیلا فاروقی کیا پس منظر رکھتی ہیں؟ تاج حیدر کہاں گئے اور ذوالفقار مرزا کہاں سے آگئے؟ خلیل قریشی، ساتھی اسحٰق ، مرزا مقبول اور سہیل انصاری کدھر غائب ہو گئے اور یہ مصطفےٰ میمن اور عبید جتوئی جو آج ملک کی طاقتور ترین شخصیت کے فرنٹ مین بنے سودے کررہے ہیں، ان کا پس منظر کیا ہے؟ برسہا برس میڈیکل کیمپ لگا کر بھٹو کی سالگرہ مناتا کریم خواجہ کہاں دھکے کھا رہا ہے اور منی لانڈرنگ سے وابستہ شوکت ترین، عمر کے اس حصے میں قوم کو IMFاور ورلڈ بینک کے چنگل میں دھکیل کر پہلے وزیر مشیر…پھر سینیٹر اور پھر پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کررہا ہے؟”جو کچھ تمھاری پارٹی نے میرے ساتھ کیا، وہی اب میں اُس کے ساتھ کروں گا“ ۔ (جاری ہے

Courtesy: Daily Jang, 29-July-09

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha