کہتے ہیں کہ ہر انسان پرزندگی میں کبھی نہ کبھی ایسا وقت آتا ہے جب کسی ایک لمحے وہ کسی جرم کا ارتکاب کرسکتا تھا، قتل کرسکتا تھا، چوری کرسکتا تھا یا کسی سے زبردستی کرسکتا تھا لیکن یہ اس انسان کی خوش بختی ہوتی ہے کہ وہ لمحہ گزر جاتا ہے اور وہ شرمندگی محسوس کرنے لگتا ہے کہ ہائیں یہ میں کیا حماقت کرجانے والا تھا اور سنبھل جاتا ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جن میں شاید میں بھی شامل ہوں کہ زندگی میں کم ازکم ایک آدھ بار قتل کا ارتکاب ہو سکتا تھا بہت سے ایسے ہیں جو معزز اورنارمل لوگ ہیں لیکن وہ چوری کرسکتے تھے اور انہیں توکسی سپرسٹور سے کچھ نہ کچھ اٹھاکر جیب میں ڈال کر چپکے سے باہر آسکتے تھے میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جس کے بلنداخلاق ہونے میں کچھ شک وشبہ نہیں انہوں نے اقرار کیا کہ جوانی میں ایک بار کوئی ایسی صورتحال درپیش ہوئی کہ وہ کسی خاتون سے زبردستی کرنے کے نہایت قریب پہنچ گئے اور اگر وہ ایسا کرگزرتے تو ان کی پوری زندگی برباد ہوجاتی۔ چنانچہ ہم سب کو اس ایک لمحے کا شکر گزار ہونا چاہیے جو گزر گیا اگر ذرا سی دیر ہوجاتی تو ہم مجرم ہوجاتے اور معاشرہ ہمیں کبھی معاف نہ کر تا۔مجھے محسوس ہوتا ہے کہ شمائلہ رانا کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ ان پر بھی وہی لمحہ آیا لیکن وہ طول پکڑگیا اور وہ سنبھل نہ سکیں مبینہ طور پر ایک سنگین جرم کا ارتکاب کربیٹھیں اب اگر وہ اپنی معصومیت کے ڈھول پیٹنے لگی ہیں تو میں انہیں مورد الزام نہیں ٹھہراسکتا اس کے سوا وہ اورکربھی کیا سکتی ہیں مصیبت یہ ہے کہ ان کے جرم کے ایسے ناقبل تردید شواہد ہیں کہ کم ازکم ان سے انکار تو ممکن نہیں۔ اس کمبخت کیمرے نے حضرت انسان کے سارے پول کھول دیئے ہیں ورنہ عینی شاہد اگر سینکڑوں کی تعداد میں بھی ہوں اور انہوں نے دیدے پھاڑ پھاڑ کر آپ کوجرم کرتے دیکھا ہو تو اگر آپ ایک دولت مند شخص ہیں یا بیوروکریٹ ہیں یا سیاستدان ہیں تو آپ نہایت آسانی سے مکر سکتے ہیں اور ان تمام عینی شاہدوں کو اندھے قرار دے سکتے ہیں سب کو سازشی قرار دے سکتے ہیں اور یہ بھی اعلان کرسکتے ہیںکہ جناب میں تو اس لمحے جائے واردات پر موجود ہی نہ تھا اگر یقین نہ آئے تو میرے فلاں دوست سے دریافت کرلیجئے میں اس وقت ان کے فلیٹ میں بیٹھا گول گپے کھارہا تھا چنانچہ اکثر اوقات انہیں معصوم قرار دے دیا جاتا ہے کہ اول تو کوئی عینی شاہد عدالت میں پیش ہی نہیں ہوتا کہ اسے مناسب دھمکیاں مل چکی ہوتی ہیں اور اگر عدالت میں پیش ہو جائے تو دیگر ’’معتبر ‘‘ لوگوں کی گواہیوں کی وجہ سے اسے جھوٹا قرار دے دیا جاتا ہے لیکن جب گواہی کے لیے ہر ٹیلی ویژن چینل پر ویڈیو کیمرے کی کھینچی ہوئی نہایت صاف فلم چلنے لگے جس میں شمائلہ رانا دکان کے اندر داخل ہورہی ہیں جیولری پسند کررہی ہیں اور پھر ایک چوری شدہ کارڈ سے ادائیگی کررہی ہیں تو اسے کیسے جھٹلایا جائے بلکہ ایک ریکارڈنگ ایسی بھی سامنے آگئی جس میں وہ بینک منیجر سے اس کارڈ کا بیلنس پوچھ رہی ہیں اور اپنے نام کے بجائے کارڈ کے مالک کا نام بتارہی ہیں اور پھر تاریخ پیدائش پوچھنے پر گڑبڑ کرکے فون بند کردیتی ہیں اب اس کی تردید کیسے کی جائے کیونکہ چپ تو نہیں رہنا تردید تو کرنی ہے وہ سیاست دان ہی کیا جو ایک لمحے ایک بیان دے کر دوسرے لمحے اس کی تردید نہ کرے۔ چنانچہ کہا گیا کہ یہ فلم جعلی ہے مخالفوں نے شہرت کو داغدار کرنے کے لیے بنائی ہے وہ خاتون جانے کون ہیں جن کی شکل مس رانا سے حیرت انگیز طور پر ملتی جلتی ہے آپ کویاد ہوگا کہ جب سوات میں طالبان کاراج تھا تو ایک ویڈیو فلم ریلیز ہوئی تھی جس میں ایک لڑکی کو اٹھا اٹھا کر اسے بید مارے جارہے تھے اسے بھی ہمارے کچھ مذہبی حلقوں نے جعلی قرار دیا تھا ذرا غور کیجئے کہ وہ لڑکی بید کھانے کے بعد بغیر کسی سہارے کے اٹھی اور اپنے پاؤں چل کر چلی گئی تو بھلا یہ کیسے ممکن ہے اگر باقاعدہ بید مارے گئے ہوتے تو وہ زخمی حالت میں تڑپ رہی ہوتی چونکہ میرا تعلق بھی کسی حد تک میڈیا سے ہے تو میں اس ہدایت کار کی صلاحیتوں کا قائل ہوگیا جس نے یہ فلم جعلی طور پر تیار کی تھی جس میں درجنوں لوگوں کی داڑھیاں لگا کر طالبان بنایا گیا اور ’’اداکارہ ‘‘ نے بھی کیسی بے مثال اداکاری کرتے ہوئے خوب خوب چیخیں ماریں وہ تو بھلا ہو طالبان کے کمانڈر کا کہ انہوں نے اقرار کرلیا کہ واقعی اس لڑکی کو سرعام کوڑے مارے گئے تھے اگرچہ ان دنوں نہیں چند ہفتے پہلے مارے گئے تھے تواگر یہ فلم بھی جعلی ہے تو میں اس کے بنانے والے ہدایتکار کی عظمت کو سلام کرتا ہوں اور اس اداکارہ کے فن اداکاری کا معترف ہوگیا ہوںکہ میک اپ ایسا کیا گیا ہے کہ وہ ہو بہو شمائلہ رانا ہی لگتی ہیں جیسے سپریم کورٹ پر حملے کے مبینہ وقوعے کے دوران ایک تصویر اخباروںکی زینت بنی جس میں اپنے نہایت عزیز ٹیلی ویژن میزبان سپریم کورٹ کی تختی اکھاڑرہے ہیں بعد میں انہوں نے نہایت سنجیدگی سے اعلان کیا کہ صاحبو میں وہ تختی جس پر سپریم کورٹ آف پاکستان درج تھا اکھاڑ نہیں رہا تھا بلکہ میں اسے زمین سے اٹھا کرپھر سے لگانے کی کوشش کررہا تھا وہ کیا کہتے ہیں کہ عذر گناہٗگناہ سے بدتر ہوتا ہے۔
تقریباً چودہ برس پیشتر جب عمران خان نے عملی سیاست میں قدم رکھنے کا اعلان کیا تو جاپان کے ایک مشہور ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے نمائندے عمران خان پر ایک دستاویزی فلم بنانے کی خاطر اسلام آباد آئے وہ اس سلسلے میں میرے تاثرات بھی ریکارڈ کرنے کے خواہش مند تھے۔ اس مختصر انٹرویو کے دوران میں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں سیاست دانوں کی اتنی کثرت ہے کہ اگر ان میں سے کچھ کو اوپر سے بلاوے آجائیں تو کچھ حرج نہیں لیکن شوکت خانم ہسپتال ایسا معجزہ تخلیق کرنے والا صرف عمران خان ہیں میں سمجھتا ہوں کہ اگر وہ سیاست میں آنے کی بجائے اسی نوعیت کے معجزے تخلیق کرتے رہتے تو خلق خدا کے دکھوںمیں کچھ تو کمی ہوتی علاوہ ازیں عمران خان کو کرکٹ کی عادت ہے کہ اگر ایک کھلاڑی کا کیچ پکڑا جائے رن آؤٹ ہوجائے یا بولڈ ہوجائے تو وہ آؤٹ ہوجاتا ہے اور آؤٹ ہونے کے بعد تسلیم کرکے کھیل کے میدان سے باہر چلا جاتا ہے جبکہ سیاست کے کھیل میںایک کھلاڑی کی بے شک تینوں وکٹیں اکھڑ کر ہوا میں قلابازیاں لگانے لگیں تو بھی وہ ڈھٹائی کریز ہر کھڑا رہتا ہے اپنے آپ آؤٹ نہیں مانتا اور میدان سے باہر جانے سے انکاری ہوجاتا ہے بلکہ بیشتر سیاستدان درجنوں بار بولڈ ہوئے ہیںاور پھر بھی ڈٹے ہوئے ہیں۔
شمائلہ رانا کے ساتھ بھی یہی وقوعہ ہوا ہے ان کی تینوں وکٹیں اڑچکی ہیں اور پھربھی وہ اپنے آپ کو آؤٹ ماننے سے انکار کررہی ہیں ہاں اس افسوسناک جرم کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ ان کی پارٹی نے ان کا دفاع نہیں کیا اور انہیں نہایت احترام سے رخصت کردیا ہے یہ سیاست میں ایک مثبت رویہ ہے جو ایسی پارٹی کو اعتماد بخشتا ہے جبکہ دیگر پارٹیاں تو اپنی کالی بھیڑوں کو گلے سے لگا کر چومتی چاٹتی رہتی ہیں بلکہ ان میں سے کچھ کو تو وزیر بھی بنادیتی ہیں۔
شمائلہ بی بی آپ بولڈ ہوچکی ہیں تو یوآرآؤٹ۔
Courtesy: Daily Jinnah
Recent Comments