سوات میں حجاموں کی دکانیں دوبارہ کھل گئی ہیں“۔ یہ ایک اخباری رپورٹ کا انکشاف ہے۔ یہ شدت پسندوں کے روزانہ مارے جانے سے بھی بڑی خبر ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس بحران زدہ وادی میں حقیقی تبدیلی واقعتاً آ رہی ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ شدت پسند بالآخر پسپا ہورہے ہیں۔ بے گھر ہونے والے افراد نے بھی اب اپنے گھروں کی جانب واپسی کا سفر شروع کر دیا ہے۔ چنانچہ اگر یہ لوگ دوبارہ اپنے گھروں کی جانب سفر کر رہے ہیں تو اس کا سبب یہی ہے کہ انہیں اس بات کا پختہ اور قوی یقین ہے کہ وہ اب اپنے چھوڑے ہوئے گھروں کو واپس جا سکتے ہیں۔ یہ پُرامید علامات واقعی قابل تحسین ہیں اور ہمیں خاموشی کے ساتھ خوشیاں بھی منانی چاہئیں۔ ادھر بلوچستان کا صوبہ بھی ہماری توجہ کا مستحق ہے۔ ہمیں اس صوبے کے زخموں پر مرہم رکھ کر وہاں کے باسیوں کو احساس ملکیت اور تعاون کا احساس دلانا ہوگا۔ اسی کے ساتھ ساتھ صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ کے علاقوں سے یکطرفہ طور پر پھیلائی جانے والی انتہا پسندی اور جنونیت کو بھی جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنا ہوگا۔
وزیرستان بھی ”سانپوں کا گڑھ“بن چکا ہے اور ہماری بیشمار مشکلات اور دشواریوں کا مرکز بھی یہی علاقہ ہے۔ پاکستان اور باہر آباد بعض افراد نتائج کے حصول کی غرض سے اُتاؤلے ہو رہے ہیں تاہم اس جنگ کے دوران کسی بھی قسم کی عجلت اور جلد بازی کا نتیجہ خود ہمارے اپنے حق میں مضر ثابت ہوسکتا ہے۔
اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے طاقت کے ساتھ ساتھ فریب دہی اور دشمن کو تابڑ توڑ حملوں سے نہ بچنے اور اسے اسی طرح تھکا تھکا کر مارنے کی حکمت عملی پرعمل ناگزیر ہوتا ہے۔ وادیٴ سوات بلکہ پوری مالاکنڈ ایجنسی میں حالات کا معمول پر آنا بے حد ضروری ہے جو بہرحال فی الوقت آہستہ آہستہ شروع ہوچکا ہے۔ ایک مرتبہ یہ عمل مکمل ہو جائے تو دوسرا مرحلہ بآسانی شروع ہو پائے گا! وزیرستان میں دشمن کی کمر توڑے جانے سے قبل ہی اپنی قوت کا مظاہرہ کرنا عقلمندی کا کام نہیں ہوگا۔ یہ خطہٴ زمین کافی دشوار گزار ہے جہاں عسکریت پسندوں کی بہت بڑی تعداد آباد ہے لہٰذا بہتر تو یہ ہوگا کہ انہیں سپلائی لائن کاٹ کر آہستہ آہستہ ختم کیا جائے۔ میرے خیال میں ہماری مسلح افواج کی موجودہ حکمت عملی بھی یہی ہے جو واقعی بالکل درست اور صحیح نظر آ رہی ہے چنانچہ ذرا سی بے صبری، عجلت پسندی اور جلد بازی بہت بڑے پیمانے پر نقصانات کا سبب بن سکتی ہے۔ اس میں کوئی شک اور شبہ نہیں ہے کہ ایثار اور قربانی، کسی بھی جنگ کے لئے جزو لاینفک کی حیثیت رکھتے ہیں تاہم انہیں بامقصد طریقے سے اور صحیح وقت پر ہی کام میں لایا جائے تو بہتر ہوگا۔ ہمارے مقامی اور بیرون ملک دوستوں کو یہ حقیقت ذہن نشین کر لینی چاہئے… ہمیں فی الوقت جو چیلنج درپیش ہے وہ ان عسکریت پسندوں کے خاتمے سے کبھی ختم نہیں ہوگا، جب تک ٹوٹتے ہوئے حکومتی ڈھانچے کی تعمیرنو شروع نہیں ہوگی یہ چیلنچ ہمیں بدستور درپیش رہے گا۔ ملک کے کئی حصوں میں کہیں ٹرینوں کو نذرآتش کیا جا رہا ہے تو کہیں حکومتی عمارات کوحملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے!! تجارت اور کاروبار کا بیڑا غرق ہوچکا ہے۔ پورے ملک میں اضطراب، بے چینی اور بے اطمینانی کا سماں ہے … اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ہماری نااہل قیادت اس تمام صورتحال کی ذمہ دار ہے لیکن آپ صرف حکمرانوں ہی کو ذمہ دار قرار نہیں دے سکتے۔ برس ہا برس کی غفلت، لاپروائی، ناقص منصوبہ بندی اور غلط ترجیحات کے انتخاب کا بھی اس صورتحال کو پیدا کرنے میں بڑا اہم کردار ہے … ورنہ کیا وجہ ہے کہ صرف ایک ہی موسلا دھار طوفانی بارش کراچی جیسے شہر کو بالکل مفلوج کر کے رکھ دیتی ہے، جو ملک کا سب سے بڑا صنعتی اور تجارتی مرکز ہے ؟؟؟
اس حقیقت کا سبب کیا ہے کہ ان تمام سالوں کے دوران کسی نے بھی کراچی شہر کے انفرااسٹرکچر کو بنانے میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کی نہ ہی اس شہر کی بجلی میں پیداواری اضافے ہی کو درخوراعتنا سمجھا گیا؟؟
آخر اس بات کی وجہ کیا ہے کہ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (میں صرف بجلی کی کمی کا ذکر نہیں کر رہا) پورے شہر کے لئے ایک عذاب بن چکی ہے؟؟ … ملک کے بقیہ حصوں اور علاقوں میں بھی صورتحال کم و بیش یہی ہے، جس کو بجلی کی فراہمی میں کمی کی یہ آگ، مزید بھڑکا رہی ہے جس کے نتیجے میں ڈر ہے کہ کہیں گورننس کا بھٹہ ہی نہ بیٹھ جائے۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو گلی کوچوں اور شاہراہوں پرہونے والے اس تشدد، املاک کی تباہی اور توڑ پھوڑ کو روک سکے ۔
حکومتی ، ریاستی ڈھانچہ بکھرتا جا رہا ہے اور اس بات کا مظہر بن چکا ہے کہ ہمارا معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے!! یوں تو ہر قوم اور معاشرے میں امیر، درمیانہ طبقے کے لوگ اور غریب غرباء سبھی موجود ہوتے ہیں۔ امریکہ اور یورپ کے معاشرے میں بھی کم و بیش یہی صورتحال ہے، جو جنوبی ایشیاء کی موجودہ صورتحال سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ ایسی پُرتضاد صورتحال میں غم و غصے کے جذبات کا پیدا ہو جانا بھی ایک قدرتی امر ہے لیکن منضبط معاشروں اور مہذب سماجوں میں اس نوعیت کے غم و غصے کو سیاست اور ووٹنگ وغیرہ کے راستے نکاسی کا موقع مل جاتا ہے۔ بہت کم ایسا ہوا ہے کہ معاشی عدم مساوات نے ان مغربی معاشروں میں ”انارکی“ کو جنم دیا ہو جس کا سبب یہ ہے کہ حکومتی اور ریاستی ڈھانچے میں، اتنی گنجائش تو بہرصورت موجود ہوتی ہے کہ وہ آگ کے ان شعلوں کو اپنے اندر ہی جذب کئے رکھتی ہے اور اس کی نکاسی کے لئے قابل قبول قانونی راستے تلاش کر لئے جاتے ہیں!! ممکن ہے بعض افراد اسے حکمراں طبقات کی آوازکا نام دیں لیکن کمیونزم کے زوال نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ زبردستی مسلط کی جانے والی معاشی اور اقتصادی مساوات کا انجام بالآخر یہی ہوتا ہے۔ معاشی مساوات تو خیر ان انقلابی ریاستوں میں صحیح معنوں میں کبھی نہ آسکی، ہاں تشدد میں البتہ کوئی کمی نظر نہیں آتی۔ جوزف اسٹالن نے روس میں اور ماؤزے تنگ نے چین میں لاکھوں افراد کو قتل کر دیا۔ چنانچہ مساوات کا نعرہ، ایک مہمل اور لایعنی نعرے کے سوا کچھ بھی نہیں!! انسانی معاشروں میں دولت کی تقسیم کا نظام کبھی یکساں اور مساوی نہیں رہا۔ جب تک انسان اس کرہٴ ارض پر آباد ہے انسانوں کے درمیان معاشی مساوات کبھی قائم نہیں ہو پائے گی۔ اس معاشی تفاوت اور اقتصادی عدم مساوات کے نتیجے میں جو تناؤ، کشمکش اور کشیدگی جنم لیتی ہے اسے ریاست اور معاشرے کے تعمیر کردہ منظم اور منضبط ڈھانچوں کی مدد سے جذب کرنا ممکن ہے۔ جب تک ایسے منظم اور مرتب ریاستی اور حکومتی ڈھانچے موجود ہیں استحکام قائم رہے گا بصورت دیگر بحران، افراتفری اور انارکی اپنی جگہ خود بخود بنا لیں گی۔ ہمارے موجودہ مصائب کا خوفناک پہلو یہی ہے۔ حکومت کی گرفت ڈھیلی پڑتی جا رہی ہے۔ اندرونی تضادات ابھرکر سطح پر آتے جا رہے ہیں۔ بحران، مزید بحرانوں کو جنم دینے کا سبب بنتا ہے اور پھر صومالیہ یا افغانستان جیسے بحرانوں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس صورتحال سے بچنے کے لئے کیا کرسکتے ہیں؟؟
ہمیں بھی سپریم کورٹ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یہ کوشش کرنا ہوگی، اپنی بعض تاریخی غلطیوں کی اصلاح کر لیں … اس طرح ہم مستقبل میں ان غلطیوں کے اعادے سے محفوظ رہ سکیں گے۔ اگر ممکن ہو تو پرویز مشرف اور ان کے ساتھیوں کو ان کے گناہوں کی سزا ضرور ملنی چاہئے لیکن اس کے بعد ہمیں اپنا سفرآگے کی جانب جاری رکھنا ہوگا۔ آج ہماری موجودہ حکومت کوعدم مقبولیت اور نااہلیت کا سامنا ہے اور اس حکومت میں شامل بعض عناصر تو اس انداز سے لوٹ مار میں مصروف ہیں گویا کل اب کبھی نہیں آئے گی، اس صورتحال کو بہر قیمت تبدیلی کرنا ہوگا۔
ہم جمہوریت کی مختلف صورتوں کے ساتھ ساتھ، فوجی حکمرانی کے طویل ترین ادوار بھی دیکھ چکے ہیں۔ ہماری تمام تر ناکامیاں ماضی کے گناہوں کا نتیجہ ہیں۔ کیا ہماری تعمیر ہی میں خرابی کی کوئی صورت مضمر ہے؟؟ یا ہمارے کردار میں کسی قسم کی کوئی خامی یا نقص ہے ؟؟ کیا وجہ ہے کہ وہ ممالک اور اقوام جو ہمارے آگے پیچھے ہی آزاد ہوئیں یا جن کا سفر ہمارے ساتھ ہی شروع ہوا آج وہ زندگی کے ہر شعبے میں ہم سے آگے ہیں اور انہوں نے اپنے عوام کو ایک بہتر اور خوشحال زندگی بسر کرنے کے تمام تر مواقع فراہم کئے ہیں۔ اس کے برعکس ہمارا حال یہ ہے کہ جو تھوڑا بہت ہمیں میسر ہے ہم اسے بھی تباہ کرنے کے درپے ہیں۔
ہر گزرتا ہوا دن، ایک گنوایا ہوا دن بن چکا ہے، اندرکی آگ کے شعلے، ہمارے قومی وجود کو جھلسا کر رکھ دیں گے۔ یونانی المیہ ڈراموں کے کردار کی مانند، ہمیں بہرصورت اپنا تقدیر کردہ کردار ادا کرنا ہی ہوگا یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ قسمت نے ہمارے لئے کیا فیصلہ کر رکھا ہے۔

Courtesy: Daily Jang, 25-Jul-09

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha