ہر شخص پریشان ہے کہ کیا کبھی اس ملک کو بحرانوں اور حادثوں سے نجات ملے گی؟ ہم اپنے مسائل سے اس طریقے سے نمٹتے رہے ہیں کہ سوائے تباہی اور نہ ختم ہونے والے انتشار کے ہمیں کچھ نہ ملا۔ ہم ایک جنگجو قوم ہیں اور انتھک جنگوں میں ملوث ہیں۔ ہم صرف فوجی جنگوں تک ہی محدود نہیں ‘ہر قسم کی جنگوں کا ہمیں سامنا ہے۔ ہم صرف دوسروں کی لڑائیاں ہی نہیں لڑتے بلکہ نسلی‘ فرقہ وارانہ اور سیاسی جنگیں بھی لڑ رہے ہیں۔
یہ جنگیں کسی خودکشی سے کم نہیںہیں۔ ہم اپنے آپ کو بھی ہلاک کررہے ہیں اور اپنے اداروں کو بھی اور ہمارا مستقبل بھی تباہ ہورہا ہے۔ ہم نے ان جنگوں کی بھاری قیمت ادا کی ہے اور ہم بدانتظامی اور قیادت کی غلطیوں کی آئندہ بھی سزا بھگتتے رہیں گے۔ ہم نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا ۔اس کی بجائے ہم نے اپنے آپ کو شام کی ’’ بریکنگ نیوز ‘‘ اور صبح کی ’’ شہ سرخیوں ‘‘ تک محدود کرلیا ہے۔
جو ملک قوموں کی برادری میں کھڑا ہو اس کا مقام و مرتبہ سماجی‘ اقتصادی‘ سیاسی اور فوجی قوت سے بنتا ہے۔ بدقسمتی سے جب سے ہمیں آزادی ملی ہے ہمارا ملک سنگین تجربوںسے گزررہا ہے جنہوں نے ہمیں سیاسی طور پر غیر مستحکم ‘ اقتصادی حوالے سے کمزور اور سماجی طور پر پارہ پارہ کر رکھا ہے۔ ہم ایسی قوم ہیں جو قدروں سے محروم ہے۔ کسی بات پر ہمارا یقین نہیں حتیٰ کہ ہمارے گناہ بھی یقین سے خالی ہیں۔ ہم کوئی بات دل پر نہیں لگاتے۔ ذرا غور کیجئے کہ ہم 1971ء کے سانحہ کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ اس سے بڑی قیامت کسی ملک پر نہیں ٹوٹ سکتی۔
ہماری قوم کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے جمہوریت کو کبھی یہاں پنپنے نہیں دیا۔ اس کی وجہ بار بار کے فوجی انقلاب نہیں بلکہ ہمارا اپنا سیاسی افلاس اور جاگیردارانہ سیاسی کلچر ہے۔ مستقل مزاجی ہمارے سیاستدانوں میں دور دور تک موجود نہیں ہے۔ انہوںنے ہمیشہ عوام کو جمہوریت اور نظریے کے نام پر لوٹا ہے‘ اپنے منڈیٹ کا کبھی احترام نہیں کیا۔ سیاست کی بنیاد جھوٹ اور فریب پر رکھی گئی ہے۔
ہم دوبارہ حالت جنگ میں ہیں ۔یہ سیاسی جنگ ہے جس کا مقصد اقتدار اور اختیارات کا حصول ہے۔ ہمارے سیاستدانوں نے کبھی کوئی سبق نہیں سیکھا۔ جب سے ہم آزاد ہوئے ہیں وہ آپس میں لڑ رہے ہیں۔ آخر میں نقصان بھی وہی اٹھاتے ہیں۔ سیاسی حکومتوں نے کبھی دیانتداری سے کبھی کام نہیں لیا۔ جو اہم فیصلے قوم کے نام پر کرتے ہیں ان پر عوام کو اعتماد میں لینا گوارا نہیں کرتے۔ اب عوام پر یہ حقیقت واضح ہورہی ہے۔ وہ بھیڑ کی کھالوں میں بھیڑیوں پر کبھی اعتبار نہیں کریں گے۔
بازن طینی سازشیں پھر ہماری سیاست میں در آئی ہیں۔ عدلیہ بھی ان کا حصہ بنی ہوئی ہے۔ 1954ء میں آئین ساز اسمبلی کی برطرفی اس کی پہلی مثال تھی۔ اب پھر ایک عدالتی فیصلے نے ملک کے جمہوری عمل کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں میں سے ایک کی قیادت کو پی سی او ججوں نے نااہل قرار دے دیا ہے جن کی اپنی حیثیت مشکوک ہے۔ اس طرح ملک کے سب سے بڑے صوبے میں انتخابی نظام کو جڑ سے اکھاڑ دیا گیا ہے۔ قوم پھر تقسیم ہوچکی ہے اور ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئی ہے۔
یہ محلاتی سازشوں کی ابھی ابتداء ہے جس کا آغاز دو سال پہلے مشرف نے کیا تھا۔ 12 مئی کی یادیں پھر تازہ ہونے لگی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس دور کے بھوت ہمارے نظام کو تباہ کرنے کیلئے پھر نکل آئے ہیں۔ مشرف کی غیر قانونی قوت کا منبع یعنی 17 ویں آئینی ترمیم ہنوز ایوان صدر پر لٹک رہی ہے۔ یہ ایسی صورتحال ہے جو بڑی ہوشیاری سے ہم پر مسلط کی گئی۔ایک آزاد قوم کی حیثیت سے ہمیں اپنے ملک کی تاریخ پر نظر ڈالنی چاہئے اور اپنی روح کو ٹٹولنا چاہئے خواہ یہ کام کتنا ہی تکلیف دہ ہے۔ جب آپ کسی دور سے گذر رہے ہوں تو اس کی تاریخ غیر محسوس طریقے سے گزرتی ہے۔ ہم پاکستانی تاریخ کے المیوں اور بحرانوں سے گذررہے ہیں۔ یقینا موجودہ حالات کے نتیجہ میں آزمائشوں کا ایک ایسا دور شروع ہوگا جس کی دنیا میں مثال نہیں ملتی۔ہماری تاریخ شاہد ہے کہ 62 برسوں میں اس ملک میں کبھی قانون کی حکمرانی نہیں رہی‘ آئین کو بار بار پامال کیا گیا‘ یکے بعد دیگرے مختلف حکومتوں کو گرایا گیا‘ منتخب وزرائے اعظم اور ممتاز صوبائی رہنماؤں سمیت سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا‘ یہ ملک انتہا پسندی‘ نفرت‘ تشدد‘ دہشتگردی ‘ عسکریت پسندی‘ عدم برداشت اور فرقہ واریت کا آماجگاہ بن چکاہے۔
اس ہفتے جو واقعات ہوئے وہ انتہائی بدترین ہیں۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں جمہوری ڈھانچے کو لپیٹ دیا گیا۔ پنجاب میں غیر قانونی طور پر گورنر راج نافذ کرکے ان لوگوں کی حکومت بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جنہیں روزاول سے اس صوبے میں کبھی اکثریت نہیں ملی۔ یہ امر 18 فروری کے انتخابات میں عوام کے فیصلے کے منافی ہے۔ جمہوری قوتیں انتخابات کے بعد بدعنوانیوں میں سرگرم ہیں جس کا نتیجہ اس ملک میں جمہوری کی بربادی کی شکل میں نکلے گا۔
ادھر این آر او اس گھٹیا ڈرامے کی بڑی وجہ بن کر سامنے آیا ہے۔ مصالحت اور مفاہمت کی روح ختم ہوچکی ہے۔ عوام کی نظر میں سیاستدان ایک بار پھر ذلیل ہوچکے ہیں۔ جنرل مشرف نے قومی مفاہمت کے نام پر اکتوبر 2007ء میں جو بدنام ڈیل طے کی تھی اس کا نتیجہ ان کی خواہش کے عین مطابق نکلا ہے۔ انہوں نے بڑی ذہانت اور مکاری سے سیاستدانوں کو چاروں شانے چت کیا ہے۔
جنوری 1986ء سے 12 اکتوبر 1999ء تک سیاستدانوں پر کرپشن کے تمام الزامات ختم کرکے اس نے ایک تیر سے دو شکار کئے۔ ایک یہ کہ سیاستدانوں کا امیج تباہ کیا جیسا کہ اس نے اپنی کتاب میں بھی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو عوام کی نظر میں گرانے کی کوشش کی۔ اس وقت سب سے زیادہ نقصان پیپلزپارٹی کو پہنچا ہے جو دوبارہ الیکشن لڑنے اور عوام کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی۔
بدقسمتی سے پاکستان میں اس وقت میکاولی کی روح پھر سے گردش کررہی ہے ۔جو حکمران ہر قیمت پر اپنا اقتدار برقرار رکھنا چاہتے ہیں ان کیلئے نظریہ ضرورت ایک شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان میں اس نظریے کو ہمارے سول اور فوجی ڈکٹیٹروں نے بار بار تقدس بخشا تاکہ وہ آئین کی بالادستی ختم کرسکیں۔بدقسمتی سے ہر بار عدلیہ میں سے کوئی شخص اٹھا جس نے غیر آئینی اقتدار کو قانون کی چھتری فراہم کی جس سے ڈکٹیٹروں کو ہماری سیاست مسخ کرنے اور اقتدار کو طول دینے کا موقع ملا۔ اب ایک بار پھر بازن طینی سازش ہماری سیاست کو سبوتاژ کررہی ہے۔ ہارس ٹریڈنگ کی ایک نئی لہر اپنا کرشمہ دکھانے والی ہے۔ عوام ششدر ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ انجام کار کیا ہوگا۔ لیکن قوم کی کسے پروا ہے؟
Courtesy: Daily Jinnah
Related posts:








Recent Comments