غیر ملکی قرضے، ہر شاخ پہ الو، اندرونی وبیرونی تخریب کار، طبقاتی نظام، منشیات ،ایڈہاک ازم غیر قانونی اسلحہ، رشوت ، اقربا پروری، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ، جائلانہ رسوم ورواج ، فرقہ واریث جذبایت، ہنگامے، لاقانونیت ، قابل لوگوں کا ملک چھوڑ جانا، اسمگلنگ، سرخ فیتہ بے حساب محکمے، ٹیکس چوری، کالی دولت، ذہنی و معاشی غلامی، ملکی دولت کا سیاسی استعمال، ہر لیڈر رہنما نہیں ہوتا اور ہماری تمام اسمبلیوں میں ماسوائے ایک آدھ کے سب نظام دادا گیری سے وجود میں آئے ہیں 1947ء سے لے کر آج تک تمہاری جمہوریت کے نام پر بننے والے لوگ جاگیر دار اور سرمایہ دار طبقات سے تعلق رکھتے ہیں لہٰذا ہم مثالی مملکت نہ کبھی تھے نہ ہیں اور آگے۔ ۔ ۔ اللہ ہی اللہ کیا کرو۔ ۔ ۔ اگر تو ہم مملکت خداداد سے مخلص ہیں تو ہمیں سوچنا پڑے گا کہ ہماری اسمبلی میں جاگیردار صرف اپنے طبقات کی نمائندگی کرے، خواتین خواتین کی، علماء علماء کی، کسان کسان کے لئے صنعت کار اور نئی نسل کے لوگ اور یہی جمہوریت ہے اور اسی میں بقاء ہے!
ہمارے لیڈر ہمارے رہنما تبھی وہ اہمیت اختیار کرسکتے ہیں کہ وہ مکمل طور پر سامنے آئیں عوام کو یہ علم ہو کہ 1947 میں یہ خاندان کس پوزیشن کا حامل تھا اور موجودہ سرمایہ کہاں سے آیا تعلیم کتنی ہے اور تربیت بھی، گفتار کا غازی ہے یا کردار کا کسی حویلی یا بنگلے سے آیا ہے یا گلی ومحلہ سے ۔ ۔ ۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے (ترجمہ) انسان کو وہی ملتا ہے جس کے لئے کوشاں ہے)
کیا اس بات سے انکارممکن ہے کہ ساٹھ سال سے یہاں نافذ سسٹم کو بدلنے کے محض وعدے ہوئے وہ بھی محض الیکشن کے دوران ۔ ۔ ۔ کوئی ایک بھی حلقہ بتا دیں جہاں کے منتخب ممبر نے کوئی کام کیا ہو ہمیشہ وہی کاٹا جاتا ہے جو بویا جائے بدقسمتی یہ بھی ہے کہ جو وطن عزیز کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں ان کے پاس وسائل نہیں اور جہاں وسائل ہوتے ہیں وہاں محض ہوس اقتدار۔ ۔ ۔
پاکستان ایک عظیم ملک ہے کہ اللہ نے اسکی تخلیق ہی عظمت کے نام پر کی لیکن کیا ہم ایک عظیم قوم بن سکے؟
آج۔ ۔ ۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے نئی نسل کے تیور،ارادے جو کرنا چاہا رہے ہیں اسے دیکھ کر محسوس کر کے میں اس نتیجہ پر پہنچی ہوں کہ اگر یہ دستور، یہ طریقہ کار مزید رہا تو پھر یہاں سیاست ریاکاری کہلانے لگے گی اور آئندہ آنے والا معاشرہ اس ساٹھ سالہ دور کو منافقت، نفرت اور مذہبی ہچکولوں کے نام سے پکارے گا۔ ۔ ۔
ایک حالیہ سروے کے مطابق پنجاب کرپشن میں پہلے نمبر پر ہے اسی سروے میں محکمہ پولیس بھی کرپٹ ترین محکمہ ہے گو کہ یہ سروے محض چند ہزار لوگوں سے لیاگیا ممکن ہے حزب اختلاف کا کوئی سیاسی مقصد ہو لیکن بر کیف کچھ نہ کچھ سچائی ہے اور سچائی یہ بھی ہے کہ پنجاب دوسرے صوبوں کے لئے کچھ بھی کرے بدنام رہے گا اور رہی پولیس کی بات تو جب تک برطانوی قانون(نافذ1857) تبدیل نہیں ہوتا پولیس پر الزام محض الزام ہی رہے گا اور اس قانون کو ہماری کوئی بھی حکومت بدل نہیں سکتی کہ وہ اسی طرح خود کو محفوظ سمجھتی ہے عوام کیا ہے ؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وطن عزیز میں بہتری لانے کے لئے کیا انتظامیہ، حکمران یا سیاست دانوں کے علاوہ بھی کوئی ہے اس کا آسان سا جواب یہی ہوگا کہ مندرجہ بالا لوگ ہی تمام قوت کا سرچشمہ ہیں لہٰذا یہی بہتر اقدام کرسکتے ہیں لیکن ہمارے ہاں کیوں کہ جمہوریت ہے اور جمہوریت میں ملازمت کچی یا بے یقینی ہوتی ہے لہٰذا وہ عناصر جو ایک لمبا سرمایہ لگا کر الیکشن جیتتے ہیں وہ اپنا روپیہ بمعہ سود نکالنے کے لئے عوام یا ملک کے لئے کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے ہاں محض دکھاوے کے لئے تھوڑی بہت رقم سڑکوں کی تعمیر وغیرہ پر لگاتے ہیں اور پہلی ہی بارش میں سڑک غائب ہو جاتی ہے حالیہ بارش نے پشاور سے لے کر کراچی تک کی ترقی کا آنکھوں دیکھا حال دنیا کودکھا دیا( ایل ڈی اے، کے ڈی اے اور سرحد کی انتظامیہ کی کاوشیں سامنے آگئیں اسلام آباداس لئے قدرے محفوظ رہا کہ ذرا اونچائی پر ہے اور پانی نشیبی علاقوں کی طرف نکل جاتا ہے البتہ اہلیان راولپنڈی کا جو نقصان ہوا وہ سامنے ہے!
پاکستانی سیاست اور پاکستانی محکمہ جات روز اول سے بغیر کسی منظم پالیسی کے کام کر رہے ہیں ان میں باہمی تعاون کا فقدان ہے اسکی ایک مثال یہ ہے کہ محکمہ شاہرات والے کوئی سڑک تعمیر کرتے ہیں تو چند روز بعد محکمہ گیس کے لوگ آکر جگہ جگہ کھدائی کر دیتے ہیں اور کام مکمل ہونے کے بعد وہ بڑے بڑے کھڈے یوں ہی چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اگر تمام محکمے کسی پلاننگ کے تحت کام کریں تو ہر مسئلہ حل ہوسکتا ہے !
علاوہ جو چند اہم ترین باتیں ان میں سرفہرست مہنگائی وکرپشن ہے اور یہ حقیقت ہے کہ اس کے ذمہ دار بھی ہم لوگ ہیں میں نے چند دوسرے ممالک میں جو دیکھا وہ تو بڑا تفصیلی ہے البتہ پچھلے سال میں نے (روس) میں چند دن قیام کیا وہاں کی صرف دو باتیں میرے لئے حیرت کا باعث رہیں پہلی یہ سڑک پر چند منٹ کے لئے کوئی بھی گاڑی (پرائیویٹ) رکتی اس گاڑی سے ایک عام شہری بیلچہ لے کر نکلتا سڑک سے برف ہٹاتا اور چلا جاتا اور یہ کام روس کا ہر شہری فرض سمجھ کرکرتا دوسری بات جو قابل غور رہی وہ یہ کہ وہاں خواتین نے مختلف نوعیت کی انجمنیں بنا رکھی ہیں اگر مارکیٹ میں کوئی چیز مہنگی فروخت کرنے کی کوشش ہوتی ہے تو فوراً اس کا بائیکاٹ کر دیا جاتا ہے لامحالہ وہ چیز چند روز بعد اپنی اصل قیمت سے بھی نیچے آجاتی ہے جبکہ ہمارے ہاں قصابوں کی دکانوں سے بیگمات پورے پورے بکرے خرید کر گھر لے جاتی ہیں اور عام آدمی کی دستر س سے وہ اشیاء دور ہو جاتی ہے ۔
کرپشن پوری دنیا میں ہے لیکن وہ محکمے جو براہ راست عوام سے تعلق رکھتے ہیں مثلاً پولیس ٹیکس ومیڈیکل وغیرہ ان ممالک میں رشوت کا تصور بھی نہیں یہی وجہ ہے کہ عام آدمی وہاں ہر لحاظ سے مکمل محفوظ ہے ہمارے ہاں برصغیر پاک وہند میں کرپشن کی ابتدا اور انتہاء انہی محکموں میں ہوتی ہے اور اس پر کنٹرول مشکل نہیں کہ اسلامی نقطہ نظر سے رشوت لینے اور دینے والے دونوں جہنم کی آگ میں جائیں گے تو اگر ان کو دنیا میں ہی آگ میں ڈال دیا جائے تو چند لوگوں کی سزا پورے معاشرہ کو اس لعنت سے بچالے گی۔
Courtesy: Daily Jinnah, 25-7-09
Related posts:








Recent Comments