یہ اگست 2008ء کا پہلا ہفتہ تھا، آرمی ہاؤس راولپنڈی میں سابق صدر پرویز مشرف اپنے ایک انتہائی قابل اعتماد دوست سے محوگفتگو تھے۔ ان کے دوست نے پوچھا کہ ”سر! آپ نے اپنے مستقبل کے بارے میں کیا سوچا ہے؟“ مشرف نے بڑے اطمینان سے جواب میں کہا کہ پارلیمنٹ مجھے دوبارہ پانچ سال کیلئے صدر منتخب کرچکی ہے، نیا وزیراعظم آچکا ہے، میں نئے وزیراعظم کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کروں گا لیکن مجھے ”ق“ لیگ کی طرف سے پریشانی ہے، اگر اس پارٹی کی لیڈر شپ تبدیل ہوجائے تو پھر ایک قومی حکومت بن سکتی ہے جس میں ”ق“ لیگ بھی شامل ہوجائے گی لیکن جب تک چوہدری شجاعت حسین اس پارٹی کا صدر ہے، نہ آصف زرداری مانے لگا نہ نواز شریف قومی حکومت کیلئے مانے گا۔ یہ سن کر مشرف کے دوست نے کہا کہ ”سر! میں آپ کا جونیئر رہا ہوں، آپ نے ہمیشہ مجھ پر اعتماد کیا اور میں جو بھی کہوں گا وہ آپ کے بھلے کیلئے کہوں گا۔ سر…! جب تک آپ صدر کی کرسی پر بیٹھے ہیں، ملک میں استحکام پیدا نہیں ہوگا، ہر خرابی کی ذمہ داری فوج پر ڈالی جائے گی لہٰذا میری گزارش یہ ہے کہ آپ صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں“۔
یہ سنتے ہی پرویز مشرف بھڑک اٹھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں نے استعفیٰ دے دیا تو آصف علی زرداری خود صدر بن بیٹھے گا، کیا تمہیں میری جگہ زرداری کا صدر بننا قبول ہے؟ دوست مسکرایا اور معنی خیز انداز میں بولا کہ سر جی! ہمیں سب پتہ ہے، آپ آصف علی زرداری کو صدر بننے دیں، وہ صرف ایک سال میں اپنی پارٹی اور حکومت کو اپنے ہاتھوں سے تباہ کرے گا، صرف ایک سال میں لوگ لال مسجد آپریشن کو بھول جائیں گے کیونکہ زرداری امریکی دباؤ پر ایسے ایسے فیصلے کرے گا کہ لوگ آپ کو یاد کریں گے، یہ گفتگو جاری تھی کہ ایک اور اہم ملاقاتی آگیا۔ اس ملاقاتی کو بھی مشرف نے بطور آرمی چیف پروموشن دی تھی۔ مشرف نے اسے اپنے دوست کے مشورے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بے وقوف کہہ رہا تھا کہ صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے کر زرداری کا راستہ صاف کردو۔ نئے ملاقاتی نے نظریں جھکائیں اور بڑے احترام سے بولا کہ سر! یہ ٹھیک کہتا ہے، اب مشرف کو سمجھ آچکی تھی کہ ان کے پرانے ساتھی فیصلہ کرچکے ہیں اور عزت و احترام کے ساتھ فیصلے پر عملدرآمد چاہتے ہیں۔ مشرف نے مدھم لہجے میں پوچھا کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری تو بحال نہیں ہوگا؟ دوست نے کہا کہ سر! زرداری اسے دوبارہ چیف جسٹس نہیں بننے دے گا۔
ملاقات ختم ہوگئی۔ شام تک اس ملاقات کی کچھ تفصیل مجھ تک پہنچ چکی تھی۔ میں اسی شام آصف علی زرداری کے پاس پہنچ گیا اور پوچھا کہ کیا وہ صدر بننے کا ارادہ کررہے ہیں؟ وہ اس انداز میں مسکرائے کہ میری اطلاع کی تصدیق ہوگئی۔ میں نے پوچھا کہ آپ جسٹس افتحار کو تو بحال کردیں گے ناں؟ زرداری صاحب کھلکھلا کر ہنس دیئے اور میں نے انتہائی پریشانی میں کہا کہ ایسا مت کریں، مسلم لیگ (ن) کے ساتھ پنجاب میں آپ کا معاملہ خراب ہوجائے گا لیکن وہ ہاں یا ناں کرنے کی بجائے ہنستے چلے گئے۔دوسری طرف مشرف نے ایک آخری کوشش کی ایک نامور بیرسٹر صاحب کو نواز شریف کے پاس بھیجا اور کہلوایا کہ اگر آپ آصف علی زرداری کے صدارتی الیکشن میں امیدوار بننے کو چیلنج کردیں تو جسٹس عبدالحمید ڈوگر آپ کے حق میں فیصلہ دے گا۔ نواز شریف نے ڈوگر کورٹ کے ساتھ رجوع کرنے سے انکار کردیا۔ مشرف کی آخری کوشش ناکام ہوگئی اور یوں آصف علی زرداری کا راستہ صاف ہوگیا۔ وہ نواز شریف کی مدد سے صدر مملکت بن گئے۔ انہوں نے مارچ 2008ء میں یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم بھی اسی لئے بنایا تھا کہ آسانی سے صدر بن سکیں۔ وزارت عظمیٰ کے اصل امیدوار مخدوم امین فہیم تھے، اگر وزیراعظم سندھ سے آجاتا تو صدر سندھ سے نہیں آسکتا تھا۔ زرداری صاحب نے وزیراعظم پنجاب سے لانے کا فیصلہ کیا، پنجاب میں انکی پہلی ترجیح چوہدری احمد مختار تھے لیکن جب انہیں پتہ چلا کہ یوسف رضا گیلانی کے مسلم لیگ (ن)، مسلم لیگ (ق) اور مسلم لیگ فنکشنل سے قریبی تعلقات ہیں اور وہ صرف اپنے لئے نہیں بلکہ صدر کیلئے بھی ووٹ حاصل کرسکتے ہیں تو فیصلہ ان کے حق میں کردیا گیا اور کہا گیا کہ پانچ سال قید کاٹنے والے کو وزیراعظم بنایا جارہا ہے۔
صدر بننے کے بعد آصف علی زرداری فوری طور پر محترمہ بینظیر بھٹو کے وعدے کے مطابق معزول ججوں کو بحال کردیتے تو ملک میں کوئی عدم استحکام پیدا نہیں ہوتا۔ بدقسمتی سے انہیں مشرف کے قریبی ساتھیوں نے گھیر لیا، انہوں نے ایک طرف صدر کو معزول ججوں کی بحالی سے روکا، دوسری طرف وزیراعظم کے خلاف بھڑکانا شروع کیا اور تیسری طرف میڈیا میں ان لوگوں سے لڑانا چاہا جو معزول ججوں کی بحالی کے حق میں تھے۔ زرداری صاحب کو یہ سمجھ بھی نہ آئی کہ ان کے قلمی مصاحبین میں وہ بھی شامل ہوچکے ہیں جنہوں نے فاروق لغاری کی محترمہ بینظیر بھٹو سے لڑائی کروائی اور اب یہ لوگ زرداری صاحب کو وزیراعظم گیلانی کے خلاف بھڑکا رہے ہیں۔ وزیراعظم صاحب دل پر پتھر رکھ کر باربار کہتے ہیں کہ ان کے صدر سے کوئی اختلافات نہیں لیکن اسلام آباد میں یہ کوئی راز نہیں کہ مشرف کی ڈوبتی کشی سے آخری وقت میں چھلانگ لگا کر پیپلزپارٹی میں آنے والے ایک سینیٹر صاحب وزیراعظم کے بارے میں جو گفتگو کرتے ہیں، اس سے ان کا ”وقار“بلند نہیں بلکہ خراب ہورہا ہے کیونکہ وہ صدر کے آدمی سمجھے جاتے ہیں۔ ایک اور صاحب کسی زمانے میں ایف آئی اے کے امیگریشن سیل میں ہوا کرتے تھے، پہلے چوہدری شجاعت حسین کے خاص آدمی تھے، اب زرداری صاحب کے خاص آدمی ہیں اور لاہور کے صحافیوں میں وزیراعظم کے خلاف ڈس انفارمیشن پھیلاتے رہتے ہیں۔ زرداری صاحب نے جسٹس افتخار کا راستہ روکنے کیلئے پنجاب میں گورنر راج لگایا تو ایف آئی اے کے اس سابق افسر نے صوبے کا سیکرٹری داخلہ بننے کی ٹھان لی لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر اب خاموش خاموش رہتے ہیں لیکن اندرون خانہ وزیراعظم کے خلاف غصہ نکالتے رہتے ہیں۔ یہ سب وہ لوگ ہیں جو ”شہیدوں کی پارٹی“ پر چھائے ہوئے ہیں حالانکہ محترمہ بینظیر بھٹو انہی کے دور حکومت میں شہید ہوئیں، انہی لوگوں کی صحبت نے صرف ایک سال میں ملک کو وہیں لاکھڑا کیا ہے جہاں پاکستان 18/فروری 2008ء سے قبل کھڑا تھا۔ اگر صدر آصف علی زرداری، مشرف کے ساتھیوں اور غیر منتخب مشیروں کی بجائے پارلیمنٹ پر انحصار کرتے، میثاق جمہوریت پر عملدرآمد کرتے اور حکومتی معاملات وزیراعظم پر چھوڑ دیتے تو انہیں وزیر داخلہ کے ذریعے ای میلز اور ایس ایم ایس پیغامات روکنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ انہیں چاہئے تھا کہ اپنے رشتے داروں کی کمپنی کو کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کا کنٹرول حاصل کرنے سے روکتے۔ یہ رشتہ دار 50/لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ تو وصول کررہے ہیں لیکن عوام کی مشکلات دور کرنے میں ناکام ہیں۔ ستم تو یہ ہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں بجلی کے کھمبوں پر پیپلزپارٹی کے جھنڈے لہرا دیئے گئے ہیں اور جب بھی بجلی غائب ہوتی ہے تو لوگ سوال طلب نظروں سے ان کھمبوں پر لہراتے جھنڈوں کی طرف دیکھتے ہیں۔
یہ خاکسار آج بھی یہ سمجھتا ہے کہ بدترین جمہوریت بہترین آمریت سے اچھی ہوتی ہے لیکن عام آدمی کیلئے جینا مشکل ہوچکا ہے، وہ اپنے مسائل کا ذمہ دار صدر کو سمجھتا ہے کیونکہ صدر سب سے زیادہ طاقتور ہے۔ بہتر یہی ہے کہ زرداری صاحب 17ویں ترمیم کا جلد ازجلد خاتمہ کریں، میثاق جمہوریت پر عملدرآمد کریں تاکہ ہماری نظریں ایوان صدر سے ہٹ کر وزیراعظم ہاؤس پر مرکوز ہوں اور ہمیں پتہ چلے کہ ہمارے وزیراعظم کتنے باصلاحیت ہیں۔ سچ تو یہی ہے کہ انسان کی صلاحیت کا پتہ اسی وقت چلتا ہے جب اس کے پاس طاقت اور اختیار آتا ہے۔
Courtesy: Daily Jang, 23-Jul-09
Recent Comments