اداس کردینے والی خبروں اور مایوسی میں اضافہ کرنے والے تجزیوں سے قوم کے اعصاب جواب دیتے جارہے ہیں ۔ کسی طرف سے اگر کوئی خوشخبری آتی بھی ہے تو وہ عارضی نوعیت کی ہوتی ہے۔ ہمارا ا لیکٹرانک میڈیا بری خبروں کی تلاش میں رہتا ہے اور پھر سارا سارا دن ا س کی لائیو کوریج کے ذریعے ہمارے اعصاب کا امتحان لینے میں مشغول ہوجاتا ہے۔ ان حالات میں چہروں پر مسکراہٹ لانا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوگیا ہے۔ میں بھی اسی قوم کا ایک فرد ہوں جس پر چاروں طرف سے مسائل اور مصائب کی یلغار ہورہی ہے۔ میں بھی اداس ہوتا ہوں بلکہ کبھی کبھی مایوس بھی ہونے لگتا ہوں۔ اس کے باوجود میں مسکرانے کی کو شش کرتا ہوں اور میری خواہش ہوتی ہے کہ میں اس مسکراہٹ میں آپ کو بھی شریک کروں ۔آج مجھے بیٹھے بٹھائے ا پنے وہ ادیب دوست یاد آئے جن کی سنجیدہ تحریریں ہمارے دل و دماغ کو روشن کرتی ہیں ، تاہم انتہائی سنگین مسائل کا تخلیقی اظہار کرنے والا یہ طبقہ اپنی نجی محفلوں میں منہ بسور کر نہیں بیٹھا رہتا بلکہ خوش گپیاں بھی کرتا ہے۔ ان کی محفلوں میں بذلہ سنجی کے مظاہرے بھی ہوتے ہیں۔ یہ لوگ ایک دوسرے پر خوبصورت جملے بھی کستے ہیں اور دوسری طرف بعض اوقات مشاعروں وغیرہ میں ان کے ساتھ بعض ستم ظریف قسم کے لوگ ہاتھ بھی کرجاتے ہیں اور اگر یہ حرکت تہذیب کے دائرے میں ہو تو یہ اس کا برا ماننے کی بجائے اس سے محظوظ ہوتے ہیں۔ ادیبوں اور شاعروں میں کچھ ا یسے لوگ بھی گزرے ہیں جو”اصولوں“ پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے سامعین سے تصادم بھی مول لینے سے نہیں کتراتے اوراس سے مزید دلچسپ صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔ آج صبح میں خود کو اداسی کے چنگل میں پھنسا محسوس کررہا تھا مگر اپنے دوستوں کی بذلہ سنجیاں یاد آئیں تو میں اداسی کی کیفیت سے نکل آیا، اگر آپ بھی اداس ہیں تو میں آپ کے ساتھ اپنی یادیں شیئر کرتا ہوں، شاید آپ بھی” افاقہ “محسوس کریں۔
لاہور کے ایک انقلابی مگر نہایت غریب شاعر اپنے ایک شاعر دوست کے ساتھ ٹی ہاؤس کے باہر کھڑے گپ شپ کررہے تھے کہ ایک فقیر آیا اور اس نے غریب شاعر سے کہا کہ اللہ کے نام پر کچھ دو۔ اس پر اس کے دوست نے فقیر کو مخاطب کیا اور بولا”تمہیں علم ہے کہ تم آج تک فقیر کے فقیر ہی کیوں رہے“ فقیر نے جواب دیا”نہیں جی، مجھے علم نہیں ہے“ بذلہ سنج شاعر نے کہا”اس لئے کہ تمہیں ابھی تک یہ پتہ ہی نہیں چل سکا کہ کسی سے مانگنا چاہئے اور کس کو پلے سے دینا چاہئے“۔ ظہیر کاشمیری پکے سوشلسٹ تھے اور اپنی زندگی کے ایک دور میں وہ دہریہ بھی تھے۔ ان کے حوالے سے یوں تو بہت سے دلچسپ واقعات سنانے کے قابل ہیں لیکن کالم کی تنگ دامانی کی وجہ سے صرف دو واقعات ہی سنا سکوں گا۔1953ء میں قادیانیوں کے خلاف چلنے والی ایک تحریک کے دوران بیڈن روڈ کے نکڑ پر مظاہرین نے ہمارے بابا ظہیر کاشمیری کو روک لیا۔ اس زمانے میں ان کے چہرے پر فرنچ کٹ داڑھی ہوتی تھی اور قادیانی بھی عموماً داڑھی کا یہی کٹ”استعمال“ کرتے تھے، چنانچہ مظاہرین نے ظہیر صاحب کو بھی قادیانی سمجھتے ہوئے انہیں اپنے گھیرے میں لے کر کہا ”کیا تم ختم نبوت پر یقین رکھتے ہو؟ “ حضور نبی اکرم کو اللہ کا آخری نبی مانتے ہو“ ظہیر صاحب نے جواب ”تم ختم نبوت کی بات کرتے ہو، میں تمہارے خدا کو بھی نہیں مانتا“ اس پر مظاہرین نے انہیں چھوڑ دیا ، انہیں یقین ہوگیا تھا کہ یہ شخص قادیانی بہرحال نہیں ہے، بعد میں اسی ظہیر کاشمیری کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی کہ وہ مذہب کی طرف راغب ہوئے اور انہوں نے حضور کی شان میں بہت خوبصورت نعتیں کہیں، جبکہ اپنے انکار ہی کے دور میں انہوں نے حلقہ ارباب ذوق کے ایک اجلاس میں اپنی ایک نظم پڑھی تھی جس کا ایک مصرعہ تھا۔ آسمانوں سے اترتی ہے نبوت نہ کتاب
جس پر ہنگامہ ہوگیا ، احمد ندیم قاسمی اجلاس کی صدارت کررہے تھے انہوں نے حاضرین کو ٹھنڈا کرنے کے لئے کہا”آپ لوگوں کو غلط فہمی ہوئی ہے ظہیر صاحب نے
آسمانوں سے اترتی ہے نبوت نہ کتاب نہیں کہا بلکہ وہ کہہ رہے تھے ۔ آسمانوں سے اب اترے گی نبوت نہ کتاب!
چنانچہ حاضرین اس وضاحت سے مطمئن ہوگئے اور ندیم صاحب نے ظہیر صاحب کو اپنی غزل جاری رکھنے کے لئے کہا۔ ظہیر صاحب نے اپنی غزل سنانے سے پہلے حاضرین کو مخاطب کیا ا ور کہا”کامریڈ احمد ندیم قاسمی غلط کہہ رہے ہیں،میرا مصرعہ وہی تھا جو آپ نے سنا“ اس پر ایک دفعہ پھر ہنگامہ شروع ہوگیا“۔
دیوندرستیارتھی افسانہ نگار اور شاعر تھے تاہم ان کا سب سے قیمتی کام برصغیر پاک و ہند میں گھوم پھر کر لوک گیت جمع کرنے کے حوالے سے سامنے آیا ۔ ان کے چہرے پر بہت لمبی داڑھی اور گھنی مونچیں جس میں ان کا چہرہ چھپ گیا تھا ، سر کے بال بھی بے تحاشا بڑھے ہوئے تھے۔ ایک دفعہ ٹرین کے سفر کے دوران سامنے والی نشست پر بیٹھے مسافر نے کھیرا کاٹ کر اس کی ا یک قاش دیوندر ستیارتھی کو پیش کی۔ دیوندر نے شکریے کے ساتھ قبول کی لیکن جب ان کے ہم سفر نے جونہی پانچویں اور چھٹی قاش بھی دیوندر کو پیش کی تو دیوندر نے اپنے اس مہربان ہم سفر کو مخاطب کیا اور کہا” صاحب آپ بھی تو کھائیے“ اس پر اس بذلہ سنج نے جواب دیا“ چھوڑیں جناب یہ کھیرا بھی کوئی انسانوں کے کھانے کی چیز ہے“ شاعرو ادیب ایک دوسرے پر جملے کستے ہی نہیں بلکہ خوشدلی سے جملہ سنتے بھی ہیں،چنانچہ دیوندرستیارتھی نے اس خوبصورت جملے پر اپنے ہم سفر کا منہ چوم لیا۔ شعراء کے طبقے میں منیر نیازی اپنی اعلیٰ درجے کی شاعری کے علاوہ اپنی بذلہ سنجی کی وجہ سے بھی بہت مقبول اور معروف تھے۔ ایک دفعہ کسی نے ان سے کہا ”منیر صاحب آپ نے بیس سال سے کوئی شعر نہیں کہا“ انہوں نے جواب دیا ”اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ غالب نے ڈیڑھ سو سال سے کوئی شعر نہیں کہا“ منیر کا ایک پہلو بذلہ سنجی کے علاوہ خوفز دہ رہنا بھی تھا۔ ایک بار”جیو“ کے ممتاز اینکر سہیل وڑائچ 14اگست کو انتظار حسین، منیر نیازی اور احمد عقیل روبی کوریکارڈنگ کے لئے بارڈر پر لے گئے ۔ریکارڈنگ سے پہلے گپ شپ کے دوران منیر نیازی انڈیا کی شیو سینا اور پاکستان کی جماعت اسلامی کو بہت برا بھلا کہتے رہے کہ ان جماعتوں کی وجہ سے پاک ہند تعلقات نارمل نہیں ہورہے۔ ریکارڈنگ شروع ہوئی انتظار حسین اور احمد عقیل روبی کے تاثرات ریکارڈ کرنے کے بعد سہیل وڑائچ نے مائیک منیر کی طرف کیا اور پوچھا”پاک ہند تعلقات کی بہتری کے لئے آپ کے ذہن میں کیا تجویز ہے“ اس پر منیر نے جی بھر کر شیو سینا کی تنگ نظری کو نشانہ تنقید بنایا اور کہا ”انڈیا میں یہ شیو سینا اور اس نوع کی دوسری انڈین جماعتیں دلوں میں منافرت پیدا کرتی ہیں“ سہیل وڑائچ نے پوچھا” اور پاکستان میں کون سی جماعت ہے جو پاک ہند تعلقات کی راہ میں رکاوٹ ہے؟“ اس پر منیر نیازی نے اپنا ہاتھ عقیل روبی کے کاندھے پر رکھا اور کہا” یار عقیل روبی بہت عرصے سے عجیب بیماری لاحق ہوگئی مجھے کچھ یاد ہی نہیں رہتا اب دیکھو مجھے اس پاکستانی جماعت کا نام یاد نہیں آرہا ہے“۔ (باقی پھر کبھی سہی)

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=363416

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha