پیپلزپارٹی کی مخلوط حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے چھ چیزیں بہت اہمیت کی حامل ہیں، (۱) غیر روایتی اور بغیر کسی بنیاد کی حکومت، (۲) اہم امور پر فیصلہ سازی کا کام ایک محدود حلقے میں انجام پارہا ہے جس کے صدر سے قریبی روابط ہیں، (۳) مختلف ایشوز سے نمٹنے کے لئے غیر متحرک انداز، (۴) پالیسیوں میں مسلسل تبدیلیاں، (۵) پالیسی سازی کے حوالے سے پارلیمنٹ میں بحث کرکے اسے سب سے اہم عنصر ثابت کرنے کے بجائے ایوان کو ایک مجہول ادارے کے طور پر استعمال کرنا، اور (۶) داخلی مسائل و معاملات سے نمٹنے کے لئے خارجی عناصر کا زیادہ سہارا لینا۔ ایسا ہی انداز حکمرانی سابقہ دور حکومت میں اور ہماری خراب اور اہلیت سے کم حکمرانی کی طویل تاریخ میں بارہا دیکھا جاسکتا ہے۔ لیکن صدر زرداری کی قیادت میں موجودہ حکومت کے اقدامات اور پالیسیوں نے اسے سب سے ممتاز کردیا ہے۔ حکومت کے اس غیر تشکیل شدہ نظام میں ذاتی پسند و ناپسند کا زیادہ دخل دکھائی دیتا ہے اور ایسی روایت نظر آرہی ہیں جس میں اداروں کے کردار کے بجائے ذاتی فیصلوں کو زیادہ اہمیت حاصل ہے۔موجودہ صورت حال ان غلط پالیسیوں کی پیدا کردہ ہے جو 17 ویں آئینی ترمیم کی وجہ سے پیدا ہوئی جس نے ملک میں نہ صدارتی نظام آنے دیا ہے نہ پارلیمانی ۔ اس کے علاوہ یہ بھی نظر آرہا ہے کہ ایگزیکٹیو پاورز صدر کے پاس ہیں جو اپنی پارٹی کے سربراہ بھی ہیں، حتیٰ کہ وزیراعظم بھی اپنے فیصلوں میں صدر کی مرضی حاصل کرنے کے پابند ہیں۔ اس قسم کے انداز حکمرانی نے اداروں کی مضبوطی کے بجائے ان کے کردار اور فعالیت کو بھی متاثر کیا ہے۔
یہ غیر روایتی انداز حکمرانی مختلف انداز میں نظر آتا ہے، کبھی کبھی متوازی اور کبھی مشترکہ طور پر صدر اور وزیراعظم مختلف ایشوز اور معاشی معاملات اور امن و امان کی صورتحال پر پالیسی سازی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہیں۔ تاہم اس سلسلے میں فیصلہ سازی کا مرحلہ ہمیشہ کمزور رہا ہے۔ صدر کی جانب سے ذاتی سفارت کاری اور یکطرفہ پالیسی کے مظاہرے بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔ ان یکطرفہ پالیسیوں کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ اندرون و بیرون ملک ہونے والی ملاقاتوں اور مختلف سربراہان سے کی جانے والی بات چیت کا کوئی ریکارڈ مرتب نہیں کیا جارہا۔ غیر ملکی سفارتکاروں کو اس وقت شدید تعجب ہوتا جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ دورہ کرنے والے وزراء اور صدر کی ملاقات کے دوران کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں جو اس ملاقات کے نوٹس تیار کررہا ہو۔ اس کے علاوہ بھی ہر بات بیان بازی تک ہی محدود ہے۔اس صورتحال میں کئی بار حکومت کو شرمندگی کا سامناکرنا پڑا ہے اور باربار یو ٹرن اور پالیسیوں میں تبدیلی لانی پڑرہی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ میں اہم قلمدان ان لوگوں کو سونپے گئے ہیں جن کا تقرر تجربے، مہارت اور خدمات کی وجہ سے نہیں بلکہ ”باس“ سے زیادہ قریب ہونے کی وجہ سے ہے۔اس صورتحال میں ایک ایسا سسٹم کام کرتا نظر آرہا ہے جس میں صحیح مشوروں کا فقدان ہے، ایسا ہی منظر اس وقت دیکھنے میں آیا جب سال رواں کے ابتدائی ایام میں پنجاب میں گورنر راج لگایا گیا۔ تیسری اہم بات حکومت کا ہر معاملے پر فوری اور سوچے سمجھے بغیر ردعمل کا رویہ ہے۔ فیصلے اس وقت کئے جاتے ہیں جب بیرونی سرمایہ کاروں یا امداد دینے والے اداروں کی جانب سے کوئی ڈیڈ لائن دی جائے یا عوام کی جانب سے سڑکوں پر احتجاج کی صورت میں کوئی بحران حکومت کے سامنے کھڑا ہوجائے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حکمراں اتحاد کے پاس ایسے صاف اور واضح ایجنڈے کا فقدان ہے۔ معاشی ماہرین صرف وقتی طور پر حکومت کو فائدہ پہنچانے والے اقدامات پر عملدرآمد کررہے ہیں جن کے ذریعے امراض کی صرف علامات سامنے آرہی ہیں اور معاشی بحران کی بیماری سے بچنے کا کوئی قابل عمل علاج میسر نہیں ہے۔ چوتھی اہم بات پارلیمنٹ کو ایک کمزور اور مجہول ادارے کے طور پر رکھنا ہے اس کی سب سے بڑی مثال نام نہاد سوات امن معاہدے کی پارلیمنٹ میں بغیر کسی بحث و مباحثے کے توثیق تھی۔ یہ معاہدہ پارلیمنٹ سے اپنی منظوری کے چند دن بعد ہی ختم ہوگیا تھا۔ حکومت نے یوں تو بہت کچھ کرنے کے دعوے اور بیانات جاری کئے لیکن بہت کم مواقع پر ان کو عملی شکل دینے کی صورت نظر آئی۔ اس تمام صورت حال میں حکومت اور ان کے دیگر اداروں کے درمیان بے چینی کی کیفیت محسوس کی جاسکتی ہے جو مسائل کے حل میں حکومتی اقدامات کے دیرپا نہ ہونے کو ہی بڑا مسئلہ سمجھتے ہیں۔
چھٹا اہم عنصر یہ ہے کہ حکومت ملک کو درپیش مختلف چیلنجوں اور مسائل سے نمٹنے کے لئے غیرملکی امداد اور سہارے پر زیادہ انحصار کررہی ہے۔ یہ ایک ٹریڈ مارک بن چکا ہے کہ پاکستان کو درپیش مختلف بحرانوں کے سدباب کے لئے بیرونی سہارا تلاش کیا جائے۔ حکومت خاص طور پر صدر اور وزیر اعظم بھی ہر معاملے اور ہر شعبے میں بہتری لانے کیلئے بیرونی عناصر سے امداد کی اپیلیں کررہے ہیں۔غیرملکی سہارے اور امداد پر اعتماد کا ایک بڑا ثبوت سابق وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کی اقوام متحدہ کے کمیشن سے تحقیقات کرانا ہے۔ اس سے حکومت میں خوداعتمادی کی کمی اور مختلف ایشوز پر حکومت کو عبور نہ ہونے کا اظہار ہوتا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ بیرونی مداخلت کا پاکستان کے اندرونی معاملات میں عمل دخل عروج پر پہنچ گیا ہے۔ گذشتہ سال مارچ میں اپوزیشن کے لانگ مارچ کو ختم کرانے اور اس کی وجہ سے ملک بھر میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کی حدت کو کم کرنے میں مغربی دارالحکومتوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔یہ معاملہ خود ماضی میں ملک کے سیاسی عمل میں بیرونی مداخلت کا تسلسل دکھائی دیتا ہے ۔شاید ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال حکومت کو اس بات پر مجبور کررہی ہے کہ وہ بیرونی امداد کیلئے زیادہ زور دے۔ اس سے اس چیز کا اظہار نہیں ہوتا کہ ملک کے آزاد و خودمختار علاقوں کے تحفظ کیلئے حکومتی اقدامات صحیح اور ٹھوس ہیں اور اس پوزیشن میں ملکی ایجنڈے کو بیرونی عناصر کی جانب سے بھی طے کرنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ یہ بات ذہن میں نہیں رہنی چاہئے کہ حکمراں اتحاد کب تک اور کیسے اپنا اقتدار برقرار رکھے گا۔ اصل سوال یہ ہے اسکے پاس اپنے اقتدار کی طاقت کو قومی اور عوامی مفاد میں استعمال کرنے کی صلاحیت ہے یا نہیں؟ اس سوال کا جواب حکومت کی جانب سے اس بات کو سمجھنے میں مضمر ہے کہ اس کی موجودہ پالیسیاں اور اقدام حکومتی استعداد اور قابلیت کو فائدہ نہیں بلکہ نقصان پہنچارہے ہیں۔

http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=363234

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha