تقسیم ہند کے بعد پہلی دفعہ کسی بھارتی وزیراعظم پر بھارت میں یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ اُس نے پاکستان کے سامنے ہتھیار پھینک دیئے۔ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ مصر کے شہر شرم الشیخ میں پاکستانی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ملاقات کے بعد واپس نئی دہلی پہنچے تو ہندی اور انگریزی اخبارات کی چیختی چنگھاڑتی سرخیوں نے اُن کا استقبال کیا۔ ”دی میل ٹوڈے“ کی ہیڈلائن میں کہا گیا تھا کہ ”وزیراعظم نے سب کچھ پاکستان کو بیچ دیا۔“ بھارتی پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر ایل کے ایڈوانی نے شرم الشیخ میں پاک بھارت وزرائے اعظم کی طرف سے جاری کئے جانے والے مشترکہ اعلامیے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کو دہشت گردی سے علیحدہ کرنا پاکستان کی کامیابی ہے۔ من موہن سنگھ پارلیمنٹ میں موجود تھے اور اُنہوں نے یقین دلایا کہ پاکستان کے ساتھ اُس وقت تک جامع مذاکرات شروع نہیں ہوں گے جب تک ممبئی حملوں کے ملزموں کو انصاف کے کٹہرے میں پیش نہیں کیا جاتا لیکن بی جے پی بہت ناراض تھی۔ روی شنکر پرشاد نے کہا کہ مشترکہ اعلامیہ تاریخ کا حصہ بن چکا، اب بھارت جب بھی پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگائے گا تو جواب میں پاکستان کہے گا کہ آپ نے بھی تو شرم الشیخ میں تسلیم کیا تھا کہ بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کر رہا ہے۔ من موہن سنگھ کیلئے سب سے زیادہ تکلیف دہ صورتحال اُس وقت پیدا ہوئی جب جمعہ کی صبح بی جے پی کے ارکان نے اُنہیں ”شرم الشیخ کا بھگوڑا“ قرار دے کر پارلیمنٹ سے واک آؤٹ کر دیا۔ جب بی جے پی کے واک آؤٹ کی خبر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی تک پہنچی تو وہ شرم الشیخ سے قاہرہ روانہ ہونے کیلئے جہاز میں سوار ہو رہے تھے۔ اُنہوں نے سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر سے مشورہ کیا کہ من موہن سنگھ کی مدد کیسے کی جائے کیونکہ من موہن سنگھ پر دباؤ بڑھتا گیا تو جامع مذاکرات کی بحالی میں کافی تاخیر ہوسکتی ہے۔ سلمان بشیر کا خیال تھا کہ شرم الشیخ میں جاری ہونے والا مشترکہ اعلامیہ پاکستان کی ایک ایسی کامیابی ہے جسے جھٹلانا اب ممکن نہیں، بھارت نے تسلیم کیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ تمام زیرالتواء معاملات پر مذاکرات کرے گا جن میں مسئلہ کشمیر سرفہرست ہے۔ من موہن سنگھ پاکستان کی بات نہ مانتے تو ڈیڈلاک پیدا ہوتا، کشیدگی میں اضافہ ہوتا اور بھارت میں غیرملکی سرمایہ کاری کی رفتار مزید کم ہو جاتی، لہٰذا من موہن سنگھ نے ہمارے مفاد میں نہیں بلکہ اپنے مفاد میں خطرہ مول لیا اور مذاکرات کو دہشت گردی کے خلاف اقدامات سے علیحدہ کر دیا۔ سلمان بشیر نے کہا کہ من موہن سنگھ بھارت جا کر جو بھی کہیں ہمیں اُن کا جواب نہیں دینا چاہئے، اُن پر تنقید نہیں کرنی چاہئے بلکہ اُن کی تعریف کرنی چاہئے۔ وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کا بھی یہی موٴقف تھا کہ من موہن سنگھ کی مدد کی جائے تا کہ جامع مذاکرات بحال ہوسکیں۔ وہ وفد میں شامل صحافیوں سے کہہ رہے تھے کہ آپ شرم الشیخ میں جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے کو پاکستان کی کامیابی قرار دینے کی بجائے دونوں ممالک کی کامیابی قرار دیں تا کہ من موہن سنگھ دباؤ سے نکل سکیں۔ ہمارے کچھ ساتھی کامیابی کے نشے میں سرشار ہو کر چھیڑخانیوں میں مصروف تھے۔ انہوں نے پوچھا کہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کہاں ہیں؟ کائرہ صاحب مسکرا کر آگے بڑھ گئے۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو بتایا گیا کہ بھارتی میڈیا نے تو من موہن سنگھ کے مقابلے پر آپ کی ڈپلومیسی کو کامیاب تسلیم کر لیا ہے لیکن پاکستان میں صدر آصف علی زرداری کے دو تین قلمی مصاحبین آپ کی کامیابی تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں۔ یہ سن کر وزیراعظم مسکرا دیئے اور کہنے لگے کہ ضروری نہیں کہ سب ہماری تعریف کریں کسی کو تنقید بھی کرنی چاہئے تا کہ ہمیں نظر نہ لگ جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ میری نہیں بلکہ پاکستان کی کامیابی ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ شرم الشیخ میں بھارتی وزیراعظم کے ساتھ مذاکرات کیلئے کئی دن تک ہوم ورک کیا گیا، سیاسی و فوجی قیادت سے مشورہ کیا گیا اور جب ہمیں پتہ چلا کہ بھارت شرم الشیخ میں ہمارے خلاف ایک ”میڈیاوار“ کی تیاری کر رہا ہے تو ہم نے بھی کچھ پاکستانی صحافیوں کو یہاں آنے کی دعوت دی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ 62 بھارتی صحافیوں کے مقابلے پر شرم الشیخ میں صرف 18 پاکستانی صحافیوں کی موجودگی تعداد کے لحاظ سے بہت کم تھی لیکن ہمیں یقین تھا کہ اگر ہم نے پاکستان کے مضبوط موٴقف کی ترجمانی کی تو ہمارا میڈیا بھی پیچھے نہ رہے گا۔ وزیراعظم صاحب نے بتایا کہ بھارتی وفد کے ساتھ مذاکرات کے دوران مسلم لیگ (ن) کی رُکن قومی اسمبلی انوشے رحمان خان نے من موہن سنگھ کے سامنے کشمیر اور پانی کے مسئلے پر اپنا موٴقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہاں حکومت اور اپوزیشن متحد ہے تو من موہن سنگھ مبہوت رہ گئے۔ یہ وہ موقع تھا جب پاکستانی وفد کو دباؤ ڈالنے کا موقع ملا اور ہم نے کہا کہ کشمیر اور پانی کے تنازعات پر بات کئے بغیر ہم کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کرسکتے۔ من موہن سنگھ خودبخود جامع مذاکرات کی طرف آ گئے اور کہنے لگے کہ یہ لمحات بڑے اہم ہیں اِن لمحوں میں کوئی خطا ہوگئی تو ہم صدیوں تک سزا پائیں گے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ بھارتی سیکرٹری خارجہ شیوشنکر مینن نے مشترکہ اعلامیے کا ایک ڈرافٹ پہلے سے تیار کر رکھا تھا جس میں صرف یہ لکھا ہوا تھا کہ پاکستان ممبئی حملوں کے ملزمان کو بہت جلد عدالت میں پیش کرے گا۔ اس ڈرافٹ کو دو مرتبہ تبدیل کیا گیا اور جب تیسری مرتبہ پڑھا گیا تو وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ اس میں بلوچستان کو بھی لانا ہوگا۔ من موہن سنگھ نے رحم طلب نظروں سے اُن کی طرف دیکھا تو گیلانی بولے کہ آپ میرے بزرگ ہیں مہربانی کریں ورنہ ہم دونوں یہاں سے خالی ہاتھ جائیں گے اور جب بلوچستان کا لفظ مشترکہ اعلامیے میں آ گیا تو بھارتی وفد کے ارکان کے چہرے لٹک چکے تھے۔ مذاکرات ختم ہونے پر وزیراعظم گیلانی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی تجویز پیش کی تو من موہن سنگھ نے معذرت کرلی۔ ملاقات کے خاتمے پر گیلانی فاتحانہ انداز میں باہر آئے اور میڈیا سے بات کی جبکہ من موہن سنگھ پچھلے دروازے سے نکل گئے۔ پاکستان واپس آتے ہی وزیراعظم گیلانی نے من موہن سنگھ کو آموں کا تحفہ ارسال کر دیا ہے تا کہ بھارتی میڈیا کی کڑوی کسیلی ہیڈ لائنز کے زہر کو ملتان کے میٹھے آموں کے ذریعہ ختم کیا جائے۔
قاہرہ میں پاکستانی وفد نے اہرام مصر کے علاوہ ایک میوزیم میں ماضی کے بادشاہوں کی حنوط شدہ لاشوں کو بڑی دلچسپی سے دیکھا۔ ان میں اُس فرعون کی لاش بھی شامل تھی جو حضرت موسی کو دریائے نیل میں غرق کرنا چاہتا تھا لیکن خود موت کے منہ میں چلا گیا۔ اس فرعون کی خوفناک لاش عبرت کا ایک نمونہ تھی۔ مسلم لیگ (ق) کی رُکن قومی اسمبلی بشریٰ رحمان نے ایسی ہی لاشوں کو دیکھ کر کہا کہ یہ میوزیم دراصل عبرت گاہ ہے، خود کو اللہ تعالیٰ سے زیادہ طاقتور سمجھنے والے انسان ہزاروں سال سے بے حس و حرکت پڑے ہیں، اُن کے جسم مسخ ہو چکے ہیں لیکن اُنہیں تاقیامت قبر نصیب نہ ہوگی اور اسی لئے اُن کی رُوحیں بھٹکتی رہتی ہیں۔ میں نے پوچھا کہ اکثر فرعونوں کی بھٹکتی رُوحیں پاکستان کیوں جا پہنچتی ہیں؟ بشریٰ رحمان نے کہا کہ ہاں اِن رُوحوں کا بسیرا اقتدار کے ایوانوں میں رہتا ہے اور جو بھی اِن ایوانوں میں آتا ہے کوئی نہ کوئی فرعونی رُوح اُس کے جسم میں داخل ہو جاتی ہے اور پھر یہ فرعون ہم سب کیلئے عذاب بن جاتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ اِن فرعونوں کو بھی ان کے انجام سے دوچار کر دیا جائے جس کا بہترین طریقہ سترھویں ترمیم کا خاتمہ ہے اور پھر ان فرعونوں کی تصویریں اکٹھی کر کے ایوان صدر میں آویزاں کر دی جائیں اور ایوان صدر کو میوزیم میں تبدیل کر دیا جائے۔
Courtesy: Daily Jang
Recent Comments