سپریم کورٹ نے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی اہل سربراہی میں برادر نواز شریف اور شہباز شریف کو ان کی کرتوتوں اور حرکتوں کی وجہ سے نااہل قرار دے دیا ہے۔ ملک میں ایسے ان کے سینکڑوں بھائی بند ایسے ہیں جن کے ساتھ اوپر سے نیچے تک یہی سلوک ہونا چاہئے لیکن وہ عدالت عظمیٰ کی نظر سے بچے ہوئے ہیں۔تاہم اب لڑائی کیلئے صفیں سیدھی ہو چکی ہیں لکیریں کھینچ دی گئی ہیں لیکن فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ اس نتیجہ کیا نکلتا ہے کیونکہ دونوں فریق غیر مستقل مزاج ہیں ان کی دوستی اور دشمنی بھی ان کی طرح بھروسے کے لائق نہیں لہٰذا کچھ پتہ نہیں کہ کل پھر وہ ایک دوسرے کی بانہوں میں موجود ہوں اور پہلو بہ پہلو دیکھے جائیں۔
فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر طعن و تشنیح کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کے الزامات ایک جیسے ہیں اور سننے دیکھنے والوں کیلئے یہ امیتاز کرنا مشکل ہے کہ ان میں اصل فرق کیا ہے؟ ہمارے حادثاتی طور پر بننے والے سربراہ مملکت آصف زرداری کی قیادت میں جو جتھہ ہے اور جو شریف برادران کے حواری ہیں دونوں حقائق کو مسخ کرنے میں یکساں مہارت اور قدرت رکھتے ہیں۔ ہم یہ سنتے آئے ہیں کہ جمہوریت میں ہار جیت ہوتی ہے لیکن ہمارے ہاں جو جمہوریت کا تصور ہے اس میں جیت ہی جیت ہوتی ہے۔ ہم نے یہاں دیکھا ہے کہ ہارنے اور جیتنے والے ایک ساتھ احتجاج بھی کرتے ہیں اور جشن بھی مناتے ہیں کیونکہ ہنگامے جمہوریت کی روح ہیں۔ تاہم یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ اس مسخ شدہ آئین کی کون سی شق اس امر کی اجازت دیتی ہے کہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا جائے ؟قتل و غارت گری کا طوفان کھڑا کیا جائے اور لوگوں کی روزمرہ کی زندگی مفلوج کر دی جائے؟ افغان سرحدوں سے بحیرہ عرب کے ساحلوں تک ہمیں رواداری کہیں نظر نہیں آرہی۔ اس صفت کا ہمارے قومی مزاج اور رہن سہن میں کوئی دخل نہیںہے۔
یہ بات ہمارے لئے باعث شرم ہے کہ ہم دنیا کو بتا رہے ہیں کہ ہم ایک جاہل قوم ہیں ہمارے درمیان عدم برداشت کا کوئی تصورموجود نہیں ۔وہ لوگ جنہوں نے بیرون ملک تعلیم پائی اور جو عدم تشدد اور رواداری کا پرچار کرتے نہیں تھکتے جب عمل کی باری آتی ہے تو انہیں کوئی بات یاد نہیں رہتی۔ میرے ایک فاضل دوست جو اعلیٰ پولیس افسر بھی رہ چکے ہیں اور کتابیں پڑھنے اور جمع کرنے کا شوق بھی رکھتے ہیں اور رواداری کا مطلب بھی خوب جانتے ہیں، ان کا فرمانا ہے کہ ماضی کے کسی حکمران اور موجودہ لاٹ میں بھی اتنا حوصلہ نہیں کہ آزاد عدلیہ کو برداشت کر سکے۔ عوام انصاف کیلئے ترس رہے ہیں اور ترستے رہیں گے جب تک کہ موجودہ سیاسی سلیٹ صاف نہیں ہوجاتی۔
جہاں تک سوات اور مالاکنڈ میں تحریک نفاذ شریعت محمدیہ کے ساتھ نئی ڈیل کا تعلق ہے اور فاٹا میں ڈرون حملوں کی جو حقیقت کھلی ہے اس سے عالمی میڈیا کو اس بات کا مزید اشارہ ملا ہے کہ پاکستان ایک ناکام ریاست ہے۔ہمارا اپنا میڈیا بھی فی زمانہ اپنے پیشے سے انصاف کر رہا ہے۔ تاہم جب حکومت میڈیا سے خطرہ محسوس کرنے لگتی ہے تو اس پر پابندیاں لگانے کا سوچا جاتا ہے۔ لہٰذا میڈیا پر پابندیاں زیر غور ہیں اگر ایسا ہوا تو زرداری حکومت کی یہ سب سے بڑی اور فاش غلطی ہو گی۔
ہمارا میڈیا ایک دور میں خود ساختہ سنسر شپ کا بھی عادی رہ چکا ہے۔ امریکہ کے ایک موقر اخبار’’ وال سٹرٹ جنرل ‘‘نے جو باون لاکھ کی تعداد میں چھپتا ہے26فروری کو ایک رپورٹ شائع کی جس کا عنوان ہے’’ پاکستانی لیڈر نے انتشار کی ایک نئی لہر پیدا کر دی۔‘‘لیڈر سے مراد آصف زرداری کے سوا کوئی اور نہیں جو ملک کے صدر ہیں اور ابھی تک بہت سے لوگوں کو اس پر تعجب ہے اور سمجھتے ہیں کہ اس منصب کے وہ لائق نہیں ۔تاہم ہم نے جو گناہ کیا ہے اس کی سزاہمیں ملنی ہے۔ اخبار نے اس شخص کی بالکل ٹھیک نشاندہی کی ہے جس کا یہ سب کیا دھرا ہے اور جو کلی اختیارات کا مالک ہے ۔یہ شخص اپنے مٹھی بھر حواریوں کے ساتھ من مانی کر رہا ہے ۔اس کا یہ کہنا ہے ، جو کہ درست ہے کہ یہ پارٹی اب اس کی پارٹی ہے عوام کی پارٹی نہیں رہی۔ جب پچھلے سال آصف زرداری صدر بنے تو انہوں نے عہد کیا تھا کہ وہ اس ملک کو متحد کریں گے جسکا پچھلے دس سال فوجی حکومت نے شیرازہ بکھیر رکھا تھا۔ اس وقت جبکہ ملک میں اسلامی جہادیوں کی بغاوت زورپکڑ رہی ہے اور معیشت تباہ ہو رہی ہے زرداری کے ہاتھ میں سب فیصلوں کی کنجی ہے ۔
تاہم اب سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے رنڈوے اپنے دوستوں دشمنوں دونوں سے دور ہو رہے ہیں۔ ان کے طور طریقوں کی وجہ سے ان کی اہلیہ کے بہت سے حامی بھی نالاں ہیں۔ ان میں بعض حکومت میں بھی ہیں لیکن ان کا سامنا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ بہت سے عینی شاہدوں نے بتایا کہ وہ سینئر وزراء کا بھی احترام نہیں کرتے اور انہیں بھی مغلضات سے نوازتے ہیں۔ ایک خاتون وزیر کو انہوں نے ’’ڈائن‘‘ کہا جبکہ ایک مرد وزیر کو’’زنخا‘‘کہہ کر پکارا۔ تاہم ترپن سالہ زرداری نے اس بارے میں کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ اپنے صدارتی محل سے بہت کم باہر نکلتے ہیں ان کے معاونین کا کہنا ہے کہ صدر کو اپنی سکیورٹی کے بارے میں بہت تشویش رہتی ہے۔ بعض لوگ جو ان سے ملنے گئے انہوں نے بعد میں بتایا کہ زرداری بسا اوقات گنوار پن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں امریکی اخبار میںجو مضمون شائع ہوا اس کے کچھ حصے قومی اخبارات نے بھی شائع کئے لیکن بہت سی باتوں کو حذف کر دیا گیا ۔ اس مضمون کو ویب سائٹ پر دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ کوئی انہونی چیز نہیں زرداری ہو بہو اپنے سسر کی نقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو اپنے ساتھیوں کو اس قسم کی رنگین گالیاں سرعام دینے میں خاص شہرت اور مہارت رکھتے تھے۔ شاید ہی کوئی ان کا ساتھی ان کی تنک مزاجی سے بچا ہو۔ کسی کو شٹ اپ کہہ دینا ان کیلئے عام سے بات تھی۔ زرداری بھی ان کی طرح لوگوں کا تمسخر اڑاتے ہیں لیکن وہ اپنے سسر ذوالفقار علی بھٹو جیسے ہیں نہ ہو سکتے ہیں۔ ملک کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچ چکا ہے لیکن ابھی پوری طرح ہاتھ سے وقت نکلا نہیں ۔نیویارک اور واشنگٹن میں ہمارے دوست بہت مشوش ہیں ۔ ہمیں اپنے ایک سابق آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ کو نہیں بھولنا چاہئے جنہوں نے1993ء میں کوئی چھڑی ہلائے اور کسی بریگیڈئر کو حرکت میں لائے بغیر صدر اور وزیراعظم سے بڑے پر امن طریقے سے رخصت لی۔ سب ان جیسے روادار نہیں ہو سکتے!

Source: Daily Jinnah, 1st March, 2009

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha