احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں وہ لوگ جو یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ سوات کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل ہوگیا ۔ وقتی امن ضرور آگیا ہے لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ۔ مرکز اور صوبے کے حکمران اسی مسئلے کو ترجیح اول بنا کر دن رات اسی مسئلے کو حل کرنے میں مگن رہیں ، تب پائیدار امن کی توقع کی جاسکتی ہے لیکن یہی روش جاری رہی تو نتیجہ الٹ ہوسکتا ہے۔ ابھی تو مولانا صوفی محمد اور مولانا فضل اللہ کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے ہونے ہیں ۔ ابھی تو لوگوں کی بحالی کا مسئلہ درپیش ہے۔ ابھی تو وہاں پر حکومتی رٹ کو بحال کرنے کے لئے جتن کرنے ہوں گے اور مجھے دکھائی نہیں دیتا کہ موجودہ حکومت یہ سب کچھ کرنے کی اہلیت رکھتی ہے ہم رب کائنات کے آگے دست بدعا ہیں کہ یہ عمل کامیابی سے ہمکنار سے ہو لیکن حکمرانوں نے اپنے لئے جس طرح غلط ترجیحات کا انتخاب کیا ہے ، اس کے تناظر میں مجھے نہ صرف یہ عمل ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے بلکہ ایک بڑی تباہی بھی آتی دکھائی دے رہی ہے ۔
ارباب دانش و ارباب اختیار نے کبھی اس موقف سے اتفاق نہیں کیا لیکن اس عاجز کی شروع سے یہ رائے رہی ہے کہ سوات کے مسئلے کو افغانستان اور باقی پختون بیلٹ کے مسئلے سے الگ کرکے دیکھنا درست نہیں ۔ میں اسے وزیرستان سے لے کر باجوڑ تک اور ہلمند سے لے کروزیرستان تک جاری گیم کا حصہ سمجھ رہا تھااور اب بھی میری رائے یہی ہے کہ جب تک اس پورے خطے کے مسئلے کو ایڈریس نہیں کیا جاتا ، سوات کو الگ کرکے جنت نہیں بنایا جاسکتا اور حقیقت یہ ہے کہ پورے قبائلی بیلٹ اور صوبہ سرحد کے باقی علاقوں میں عسکریت پسندی کا مسئلہ نہ صرف حسب سابق موجود ہے بلکہ پھیل رہا ہے ۔ ابھی القاعدہ اور طالبان امریکہ اور اس کے نتیجے کے طورپر حکومت پاکستان کی نئی پالیسی کے منتظر ہیں ۔ نہ صرف بھرپور تیاریاں ہوچکی ہیں بلکہ القاعدہ نے اپنی قوت کا ایک بڑا حصہ اسی لاہور بھی منتقل کردیا ہے جس کے تخت پر ان دنوں سلمان تاثیر جیسے کو بٹھانے کی کوشش ہورہی ہے ۔ یہ بات یقینی ہے کہ امریکہ نئی پالیسی کے تحت حکومت پاکستان پر دباؤ بڑھے گا ۔ نتیجے کے طور پر سیکورٹی فورسز قبائلی علاقوں میں دباؤ بڑھائیں گی اور ردعمل کے طور پر کراچی سے لے کر لاہور تک اور پشاور سے لے کر اسلام آباد تک وہی کچھ ہوگا (اللہ کرے ایسا نہ ہو) کہ ہمیں دن میں تارے نظر آنے لگیں گے ۔ القاعدہ اور اس کے زیراثر تنظیموں کی تیاریاں اور ارادے کیا ہیں ؟ ، کوئی اس سوال کا جواب جاننا چاہے تو وہ کچھ عرصہ قبل پاکستانی حکومت اور فوج کے بارے میں اسامہ بن لادن کے ترجمان عزام امریکی کی ویڈیو تقریر ملاحظہ کرلیں ۔
صرف عسکریت پسندی کا مسئلہ نہیں ۔ یہ بدقسمت ملک اس وقت کئی حوالوں سے تباہی کے دھانے کھڑا ہے ۔ غربت اپنی انتہاؤں کو چھو رہا ہے اور نتیجے کے طور پر فرسٹیشن اور جرائم میں حد سے زیادہ اضافہ ہوگیا ہے ۔ اداروں کی زبوں حالی کا یہ عالم ہے کہ حکمران جماعت کے رہنما(چوہدری اعتزاز احسن) تک سپریم کورٹ کو نہیں مان رہے ہیں۔ میاں نواز شریف جیسے رہنما سرکاری ملازمین سے حکومتی حکم تسلیم نہ کرنے کا کہہ رہے ہیں ۔ سول ملٹری تعلق کی راہ میں ابھی بہت ساری مشکلات حائل ہیں ۔ ہندوستان کے ہاتھوں پاکستان دیوار سے لگنے کے قریب ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ملکی معیشت تباہی کے دھانے کھڑی ہے ۔ خان عبدالولی خان کے ساتھ ایک روز گپ شپ ہورہی تھی وہ اپنے ایک عزیز کے بارے میں بتارہے تھے کہ وہ قرض کو بھی آمدن سمجھتے ہیں اور اب ہمارے حکمران بھی اسی سوچ کے حامل نظر آتے ہیں ۔ آئی ایم ایف کی طرف سے بھیک کی صورت میں قرضے کی ایک قسط مل جانے سے وہ یوں مطمئن ہیں کہ جیسے یہ قرض نہیں بلکہ آمدن ہے ۔ یوں وہ ایک طرف شاہ خرچیوں میں مست ہیں تو دوسری طرف اب تخت پنجاب پر قبضے کے منصوبے بنارہے ہیں۔
اس ملک کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس کے اصل مسائل کبھی بھی سیاست اور صحافت کے موضوعات نہیں بن سکے ۔ غربت، جہالت اور انصاف کی عدم موجودگی ۔ یہی تین اس ملک کے دائمی اور بنیادی مسائل ہیں ۔ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ انہی موضوعات پر سیاست ہوتی ، یہی صحافت میں زیربحث آتے اور انہی کی بنیاد پر بحث و مباحثہ کے محافل منعقد ہوتے لیکن اس ملک کے ساٹھ سال یا تو سول اور فوجی قیادت کی کشمکش میں گزر گئے یا پھر سیاستدانوں کی آپس کے معرکوں میں ۔ نتیجتاً ہر فورم پر یہی ایشوز چھائے رہتے ہیں ۔ وقتی مسائل میں سرفہرست مسئلہ عسکریت پسندی کا ہے ۔ اب یہ دائمی مسائل پر حاوی ہوتا نظر آرہا ہے اور یہ ملکی سلامتی سنگین خطرے کی صورت اختیار کرگیا ہے ۔ بدقسمتی سے اس مسئلے کو بھی اہل سیاست اور اہل صحافت کماحقہ توجہ نہیں دے رہے تھے تاہم گذشتہ چند روز سے یہ مسئلہ سیاست اور صحافت کا موضوع بن گیا تھالیکن افسوس کہ25 فروری کے فیصلے اور حکومتی اقدامات نے ایک بار پھر اس مسئلے کو پس منظر میں دھکیل دیا ۔ سوات ، باجوڑ ، وزیرستان اور پختون بلٹ کی جو حالت کل تھی ، وہ اب بھی ہے ۔ القاعدہ اور طالبان کی جو تیاریاں کل تک جاری تھیں ، وہ اب بھی جاری ہیں لیکن الیکٹرانک چینلز کا رخ لاہور کی طرف ہوگیا ہے اور اخبارات سلمان تاثیر اور شہباز شریف کے تذکروں سے بھر گئے ہیں ۔ وہ پولیس جنہوں نے دہشت گردوں کا تعاقب کرنا تھا، اب مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں پر ڈنڈے برسارہی ہے اور میرے نزدیک اصل مسائل سے اپنی ، قوم اور میڈیا کی توجہ ہٹانے کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے پنجاب پر قبضے کا منصوبہ تیار کیا ۔تاریخ بھی انہیں معاف نہیں کرے گی اور قیامت کے روز بھی ان لوگوں کا محاسبہ ہوگیا ، جنہوں نے منصف کی کرسی پر بیٹھ کر اس گھناونے کھیل کی ابتداء کردی ۔ یہ جو ہر طرف انتشار پھیل گیا ہے ۔ یہ جو لوگوں کے کاروبار تباہ ہورہے ہیں ۔ یہ جو سوات اور وزیرستان سے توجہ ہٹ گئی ہے ۔ یہ جو کل تک بے نظیر بھٹو کو شہید کہنے والے آج ان کی جائے قتل کی بے حرمتی کررہے ہیں اور یہ جو سیاستدانوں کو ایک بار پھر گالیوں سے نوازا جارہا ہے ، ان سب کچھ کرنے والے جو بھی ہیں ، ذمہ دار بہ ہر حال وہ ہیں جنہوں نے منصوبہ بنایا اور جنہوں نے 25 فروری کو فیصلہ سنایا۔ کاش….۔ وہ توبہ کرکے راہ راست پر آجائیں ۔

Source: Daily Jinnah, 1st March, 2009

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha