وقت وقت کی بات ہے۔ پرویز مشرف نے پورے ملک پر قبضہ کرناچاہا تونہ صرف ایساکرلیا بلکہ یہ ناجائز قبضہ برسہا برس برقرار بھی رکھا لیکن اب اپنے کچھ مہرے آگے کرکے اپنی ہی بنائی ہوئی قاف لیگ پر ہاتھ صاف کرنا چاہا تو قبضہ کی یہ کوشش بری طرح ناکام ہوگئی کہ ایسا ہونا ہی تھا کیونکہ اس طرح کے قبضے ڈرائنگ روموں میں بیٹھنے اور عام آدمی سے الٹا ہاتھ ملانے والوں کے بس کی بات نہیں۔ اب وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ چودھری چل کر آ جائیں توہمیں بھی قبول ہے۔ میں ان دوستوں سے متفق نہیں جوقاف لیگ کو ”ہاؤس آف کارڈز“قرار دیتے وقت بھول جاتے ہیں کہ باقی مقبول پارٹیوں کا حسب نسب بھی قاف لیگ سے مختلف نہیں۔ کسی کا کھرا جنرل ایوب خان اور کسی کا جنرل ضیاء کے گھر جانکلتاہے اور اگر قاف لیگ کو گزشتہ الیکشن میں ملنے والے ووٹوں کاحساب بھی رکھاجائے تو اس کا باب بند ہو نا ممکن نہیں بلکہ اس کے برعکس مجھے مستقبل میں یہ پارٹی فیصلہ کن رول میں دکھائی دیتی ہے بشرطیکہ اس کی لیڈرشپ مستقل مزاجی، صبر اور نظم و ضبط کے ساتھ صحیح سمت میں بروقت اور درست فیصلے کرتی رہے۔ میں قاف لیگ میں ڈٹے ہوئے ان تمام باضمیر لوگوں کوویسے ہی سلام پیش کرتاہوں جیسے کبھی فرح دیبا کو کیا تھا جس نے برے دنوں میں ن لیگ جائن کی تھی اور عین اقتدار کے عروج پر قاف لیگ کو چھوڑا تھا۔رنگیلامرحوم کی بیٹی کی اس ”مردانہ حرکت“ پر میں نے اس وقت اسے ”جمہوریت کی ملکہ فرح دیبا“ لکھا تھا۔ ایشویہ نہیں کہ کون کس کے ساتھ ہے اصل ایشو یہ ہے کہ کون کتنی ثابت قدمی سے اپنی جماعت یاموقف پرقائم رہتے ہوئے ”لوٹاگیری“ سے انکارکرتا ہے یعنی …”وفاداری بشرط ِ استواری اصل ایماں ہے۔ مرے بت خانہ میں برہمن توگاڑو اس کو کعبہ میں“
قارئین!
آج کے کالم میں قاف لیگ کا حصہ اتناہی بنتا تھا اصل موضوع تھا مقامی حکومتیں اور بلدیاتی نظام وغیرہ لیکن آج 13جولائی منو بھائی اس پر اتنی تفصیل کے ساتھ لکھ چکے ہیں کہ کم از کم میں تو اس میں کسی اضافے سے قاصرہوں لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ بہت ہی دلچسپ ہے کہ مقامی حکومتوں کا نظام بھی انگریز نے ہی 1688 میں مدراس میں متعارف کرایا تھا جو 1846 میں کراچی اور پھر میونسپل ایکٹ 1867کے تحت لاہور اورراولپنڈی میں متعارف ہوا۔ لارڈ رپن نے 1882میں لوکل سیلف گورنمنٹ کے قیام کے لئے قرارداد منظور کرائی جس کے سبب میونسپل کمیٹی میں منتخب ممبران کی تعیناتی اور دیہی مقامی حکومتوں کے قیام کی راہ ہموار ہوئی…کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اگر انگریز نہ آتا تو آج یہ خطہ کس حال میں ہوتا؟ جس ڈھنگ کی چیز یا کام پر ہاتھ رکھیں اس پر گورے کا ٹھپہ نظر آتا ہے… بہرحال بلدیاتی نظام کی رام کہانی میں بنیادی بات یہ ہے کہ اسے فرد ِ واحد نے بدنیتی کے تحت اپنی ذاتی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے عوام پر مسلط کیا تھا اور یہ کہ مقامی حکومتیں قطعی طورپرصوبائی معاملہ ہے اور اس بات کا سو فیصد انحصار صوبوں پر ہے کہ وہ کس قسم کا بلدیاتی نظام چاہتے ہیں۔ یہ کوئی نہیں کہہ رہا کہ بلدیاتی نظام کو ختم کیاجائے۔ اصل بات اس کی خامیاں دور کرکے اسے مزید بہتر، زیادہ موثر اور عوام کے حق میں زیادہ فعال بنانا ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہے کہ صوبے اپنی مقامی ضرورتوں اور مسائل کی روشنی میں قانون سازی کرسکیں اور انہیں بلدیاتی نظام کو اپنی مقامی ضروریات، ترجیحات، سیاسی سماجی و مذہبی روایات کے مطابق عوامی مفاد میں ڈھالنے کی اجازت ہو۔
آئین نو سے ڈرنا طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
کوئی دنیاوی قانون یا نظام آسمانی صحیفہ نہیں ہوتا جس میں ترمیم ممکن نہ ہو سو آمریت کی اس نشانی یعنی موجودہ بلدیاتی نظام کی بھی پلاسٹک سرجری یا ڈینٹنگ پینٹنگ ہو جائے تویہ دنیا میں مروجہ روایات کے عین مطابق ہوگا جس میں اچنبھے والی کوئی بات نہیں۔
 

 Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

   
© 2012 خبريں Suffusion theme by Sayontan Sinha