میں ٹیلی ویژن بہت کم دیکھتاہوں اورجب دیکھتا ہوںتو چلتے پھرتے،پڑھنے لکھنے سے اکتا گئے تو ذرا آنکھیں سینکنے کے کچھ ہوش ربانوعیت کے گانے وغیرہ دیکھ لیے جن میںاکثر خواتین کو لگتاہے کہ مرگی پڑگئی ہے، آخری دموں پرتھرکتی نظر آتی ہیں،نہ لباس کاہوش اورنہ تن کا۔ بلکہ لباس سے تو اکثر اجتناب کیاجاتاہے اوربدن کابھی کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کون ساحصہ کہاں ہے کہ وہ بے چاری مرغ بسمل کی مانند تڑپ رہی ہوتی ہیں،ایک لمحے کیلئے ساکت ہوںتو کچھ اندازہ ہو کہ کیاکیا کہاں ہے اورکتناہے۔ آپ یقیناً مجھے ایک غریب الاخلاق بابا سمجھ رہے ہوںگے لیکن یقین جانئے آج کل کے اکثر بابے ان مرگی شدہ خواتین کودیکھ کرجیتے ہیں ورنہ کب کے مرگئے ہوتے البتہ میری یہ مجبوری ہے کہ اکثر مسلسل لکھتے ہوئے میری آنکھیں تھک جاتی ہیں ا س لیے میں انہیں سینکتاہوںتو وہ تازہ دم ہوجاتی ہیں میں قطعی طورپر ٹیلی ویژن پرہونے والے سیاسی مذاکرے نہیں دیکھتا جن میں کوئی ایک میزبان چند سیاستدانوں یاتجزیہ نگاروں کواپنے سامنے بٹھا کران کی خوب خوب بے عزتی کررہاہوتاہے اوروہ ڈھیٹ بنے مسکرا رہے ہوتے ہیں اورجب آپس میں بحث کرتے ہیںتو سب سے زیادہ بدتمیز اوربلند آواز میں چیخنے والاسیاتدان اپنی پارٹی کی حماقتوں کادفاع کرنے میں کامیاب ہوجاتاہے مجھے اکثر محسوس ہوتاہے کہ یہ لوگ بنیادی اخلاقیات سے یکسرعاری ہیںاوربولنے سے زیادہ ایک دوسرے کو کاٹتے ہیں مجھے ایک ٹیلی ویژن پروڈیوسر نے بتایاتھا کہ تارڑ صاحب یہ لوگ ہمیں مسلسل فون کرتے ہیں کہ کیابات ہے بہت عرصے سے آپ نے یاد ہی نہیں کیامیرے لائق کوئی خدمت ہوتو یاد فرمائیے گا بہرحال یوں ریموٹ کابٹن دباتے مختلف چینلز پر نشرکیے جانے والے پروگراموں کی جھلکیاں بھی نظر آجاتی ہیںاورمیں اپنی آنکھیں سینکنے کے لوازمات کوتلاش کرتا رہتاہوں تو اس تلاش کے دوران ابھی دو دن پہلے کی بات ہے کہ ایک ٹیلی ویژن چینل کی سکرین کے نیچے’’ابھی ابھی‘‘ اور’’تازہ ترین‘‘ کے عنوان تلے ایک خبر کی پٹی چل رہی تھی جسے میں نے پڑھاتو یقین نہ کرسکا کہ آنکھیں تھکی ہوئی ہیں انہیں دھوکا ہواہے لیکن وہ خبر مسلسل چلتی جارہی تھی اوروہ یہ تھی کہ ’’نیویارک سے آنے والی پی آئی اے کی پروازمیںسے تقریباً نوسوچوہے برآمدہوگئے‘‘ یہ چوہے اسلام آباد ایئرپورٹ پر بھاگتے پھرتے ہیںاور ان میںسے کچھ پی آئی اے کے دفاتر میں گھس گئے ہیں انہوں نے حساس نوعیت کی تاریں بھی کتر دی ہیں ایئرپورٹ کاعملہ انہیں پکڑنے کی تگ ودو میں مصروف ہے پی آئی اے انتظامیہ کاموقف ہے کہ جب ہمارا جہاز نیویارک گیاتھا تو بالکل خالی تھا یعنی مسافر تو تھے چوہے نہیںتھے تویہ چوہے امریکہ سے آئے ہیں پاکستانی نہیںہیں ان چوہوںکوتلف کرنے کیلئے کراچی سے چوہامارٹیمیں طلب کرلی گئی ہیں۔
پیارے قارئین کیایہ آپ کی زندگی کی سب سے انوکھی اوردلچسپ خبر نہیں ہے کہ دوچار نہیںتقریباً نوسو چوہے نیویارک کی فلائٹ میںگھس کرسیدھے اسلام آباد آجائیں ایک اورچینل پربھی اس چوہاخبر کوفلیش کیاجارہاتھا البتہ مجھے حیرت ہے کہ اگلے روز میرے پاس جواخبار آتے ہیں ان میں اس خبر کاکچھ تذکرہ نہ تھا شاید اسے قومی سلامتی اورپی آئی اے کے مفاد میں’’مروا‘‘ دیاگیاتھا یعنی کِل کروادیا گیاتھا لیکن جناب پورے نوسوچوہے مارڈالنا اتنا آسان کام تو نہیںجبکہ وہ پچھلی شب ٹیلی ویژن کی خبروں میں پھدکتے پھرتے تھے ویسے اس خبر سے پی آئی اے کی نیک نامی کوگزند نہیں پہنچے گی وہ تو تب پہنچتی اگر پرواز کے دوران مسافروں کوپیش کی جانے والی خوراک میںسے وہ چوہے برآمدہوتے۔ اگر وہ نہایت معصومیت سے جہاز کے کسی حصے میںسفر کررہے تھے تواس میں کیاقباحت ہے اورچونکہ وہ مسلح بھی نہیںتھے اس لیے وہ جہاز کوہائی جیک بھی نہیںکرسکتے تھے یعنی دہشت گرد چوہے نہیںتھے اگرچہ معصوم لوگوں کوہلاک کرنے والے دہشت گرد چوہے ہی ہوتے ہیں اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ اتنے ڈھیرسارے چوہے نیویارک سے پی آئی اے میں سوار کیسے ہوگئے ابھی تک یہ کنفرم نہیںہوسکا کہ چوہے سیاستدانوں کی مانند ٹکٹ ہولڈر تھے یابے ٹکٹے سفر کررہے تھے اور پھریہ چوہے صرف پی آئی اے کے جہاز میں ہی کیوں سوار ہوئے جے ایف کے ایئرپورٹ پرکھڑے دوسری ایئرلائنوں کے کسی جہاز میں کیوں نہیں جابیٹھے۔ وہ سنگاپور ایئرلائن یاتھائی ایئرلائن میں بیٹھ سکتے تھے شاید اس لیے نہیں بیٹھے کہ ان ایئرلائنوں کے زیادہ ترمسافر چینی یاکوریائی ہوتے ہیںتوان سے انہیں اپنی جان کاخطرہ تھا کہ کہیں وہ ان کی چوہاکڑاہی بناکر نوش نہ کرجائیں وہ ایئر اسرائیل لفٹ یاترا، ایئرانڈیا یاقطر ایئرلائن پربھی توسوار ہوسکتے تھے تو پھر ان کی نظرانتخاب پی آئی پر ہی کیوں پڑی۔ کیاایسا تو نہیں ہے کہ امریکہ میں ان کی زندگی خطرے میںہوں انہیں تلف کیے جانے کاخدشہ ہو وہاں رواج ہے کہ اگر آپ کواپنے اپارٹمنٹ میں کوئی لال بیگ، جھینگر ،بڑا مچھر،کوئی چھپکلی یاکوئی چوہے کابچہ نظر آجائے تو آپ فوراً انتظامیہ کواطلاع کرتے ہیں اورپھراپارٹمنٹ بلڈنگ کے داخلے پرایک نوٹس آویزاں کردیاجاتاہے کہ ہمیںفلاں فلاں نمبر کے اپارٹمنٹ سے شکایت موصول ہوئی ہے کہ وہاں کوئی جھینگر یاچوہے کابچہ وغیرہ ہے توایک ڈیتھ سکواڈ ان کوتلف کرنے کیلئے فلاں تاریخ کواتنے بجے آپ کے اپارٹمنٹ کے دروازے پردستک دے گا آپ موجود رہیے گا۔
اس نوٹس کاعنوان’’ڈیتھ وارنٹ‘‘ ہوتاہے تو شاید یہ وہ چوہے ہوں جن کے امریکہ میں ڈیتھ وارنٹ جاری ہوچکے ہوں اوروہ اپنی جان بچانے کیلئے فرار ہوکرپاکستان آگئے ہوں۔
لیکن ایک اورتوجیہہ بھی قابل فہم ہے اورمیری ناقص عقل کے مطابق جواتنی ناقص بھی نہیں ہے ان امریکی چوہوں کوخبر ہوگئی ہے کہ ہم ایک چوہانواز قوم ہیں اورخاص طور پرامریکی چوہانواز قوم اورہم کبھی کبھار امریکہ وغیرہ سے کوئی چوہا درآمدکرکے اسے اپناحکمران بنالیتے ہیںاورجب وہ ہم پرراج کرکے فارغ ہوتاہے تو اس ملک میں قیام کرنابھی پسندنہیںکرتا واپس امریکہ چلا جاتاہے اور اگر کوئی ملکی حکمران ہوتو بھی وہ ایک چوہے کے دل والاہوتا ہے اورآدھی رات کے وقت امریکہ سے آنے والے ایک فون کی تعظیم میںکھڑے ہوکراسے سیلوٹ کرتاہے اور کہتاہے کہ سرہم آپ کے ساتھ ہیں چنانچہ میں ان نوسو امریکی چوہوں کوپاکستان میں خوش آمدید کہتاہوں ہمیں ان کی حکمرانی کی شدید ضرورت ہے۔

Share and Enjoy:
  • Print
  • Digg
  • StumbleUpon
  • del.icio.us
  • Facebook
  • Yahoo! Buzz
  • Twitter
  • Google Bookmarks
  • Add to favorites
  • email

Related posts:

  1. دہشت گردوں کی سیر۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ
  2. ہم ابوہریرہؓ کی بلیاں بھول گئے ہیں۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ
  3. آل پاکستان گدھا کانفرنس – مستنصر حسین تارڑ
  4. افغانستان کتناپیاراملک تھا – مستنصر حسین تارڑ
  5. گوجرہ اور قربانی کے بکرے ۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ

Leave a Reply

(required)

(required)

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

© 2010 خبريں Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha