امیر کاکا علاقے کے بزرگ اور نیک انسان تھے۔پہلی بیوی مر چکی تھی ۔اس کی صرف دو بیٹیاں تھیںجن کی شادیاں ہو چکی تھیں۔بیوی کے مرنے کے بعدکاکا گھر میں اکیلے رہ گئے ۔ کھانا اکثر بیٹی کے گھر جاکر کھا لیتے۔کاکا نے مسجد کو اپنا مسکن بنا لیا ۔دن عبادت میں گزر جاتا۔رات کو گھر کی تنہائی سے گھبرا کر عبادت میں مشغول ہوجاتے۔رات کا اکثر حصہ بھی عبادت میں گزارتے۔کھانے پینے کے علاوہ بھی انسان کی کافی ضرورتیں ہوتی ہیں۔گھر میں بیوی نہ ہونے کی وجہ سے کاکا کبھی پڑوسن سے کہہ کر قمیص میں بٹن لگواتے کبھی کپڑے دھونے کا مسئلہ درپیش ہوتا۔ایک بیٹی کسی دوسرے گاؤں میں بیاہی گئی تھی۔دوسری بیٹی اپنے گاؤں میں تھی لیکن اس کے اپنے بھی بچے تھے ۔صبح اٹھ کر بچوں کو سکول کے لئے تیار کرنا ۔ان کے لئے ناشتہ تیار کرنا ۔پھر مال مویشیوں کا خیال رکھنا ۔ان کاموں میں اکثر کاکا کے ناشتے کو دیر ہوجاتی۔کاکا کو جلدی ناشتے کی عادت تھی ۔اس لئے اکثر بھوکے ہی گھر سے نکل جاتے۔ آہستہ آہستہ کاکا کو تنہائی اور دیگر مشکلات کا احساس ہونے لگا۔ان کے چند ہم عمر دوستوں نے بھی زور دیا ۔آخر کار کاکا دوسری شادی کے لئے تیار ہوگئے۔ان کے دہقان کی ایک بیٹی تھی۔ شکل و صورت واجبی ہونے کی وجہ سے کوئی اچھا رشتہ نہیں آیا تھا ۔دہقان نے وہ بیٹی ان کے عقد میں دے دی ۔کاکا کی عمر تقریباً ستر سال اور لڑکی کی عمر تقریباً تیس پینتیس برس۔بہرحال شادی کے بعد کاکا گھر آباد ہو نے سے خوش تھا اور دن رات اچھے گزرنے لگے۔
خدا کا کرنا کیا ہوا کہ ان کے گھر شادی کے دوسال بعد لڑکا پیدا ہوا۔دونوں میاں بیوی بہت خوش تھے اور گاؤں میں مٹھائی بھی تقسیم کی ۔دن گزرتے گئے لڑکا تقریباً دس سال کا ہوگیا ۔ رمضان کا مہینہ آیا ۔کاکا تو ابتدا سے عبادت گزار تھے۔ رات کو بھی عبادت کی عادت تھی ۔ایک دن کوئی بہت بڑا عالم دین مسجد میں تراویح کے ختم قرآن کے موقع پر آئے۔اس عالم دین نے بہت اچھی تقریر کی ۔انہوں نے کہا کہ جولوگ رمضان کے مہینے میں رات کو بھی عبادت کرتے ہیں وہ بہت خوش نصیب ہوتے ہیں۔رمضان کے آخری عشرے میں لیلتہ القدر کی بابرکت رات آتی ہے۔اس رات کی زیارت اللہ تعالیٰ ان خوش نصیبوں کو کراتے ہیں جو راتوں کو بھی عبادت کرتے ہیں۔جس خوش نصیب کواس عظیم رات کا دیدار ہوجائے ۔اس کا ایک سوال اللہ تعالیٰ ضرور قبول کرتے ہیں۔کاکا نے گھر آکر اعلان کیا کہ رمضان کے آخری عشرے میں سب عبادت کریں گے۔تاکہ خدا ہمیں اس مقدّس رات کا دیدار کرائے۔ اس طرح کاکا نے اپنے بیوی اور بچے کو بھی ساری رات عبادت کرنے پر راضی کرلیا۔تینوں رات دیر تک عبادت کرتے اور صبح بھی تہجد کے لئے اٹھ جاتے۔
رمضان کی غالباً ستائیسویں رات اچانک ان کو محسوس ہوا کہ ساری دنیا کو نور کی ایک چادر نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ باہر دیکھا تو عمارتیں اور درخت سب سجدے میں پڑے ہوئے تھے۔کاکا کو یاد آیا کہ علماء نے لیلتہ القد رکے مقدّس رات کی یہی نشانیاں بیان کی تھیں۔انہوں نے بیوی اور بچے سے کہا کہ جلدی ایک ایک سوال کرلو کیونکہ خدا نے ہمیں یہ مقدس رات دیکھنے کی توفیق عطا کی ہے۔ سب سے پہلے بیوی نے خدا سے سوال کیا ۔ یا اللہ مجھے سولہ سال کی خوبصورت نوجوان لڑکی بنا دے سوال فوراً منظور ہوگیا اور وہ سولہ سال کی ایک حسین دوشیزہ بن گئی ۔کاکا نے جب دیکھا کہ بیوی تو سولہ سال کی خوبصورت لڑکی بن گئی ۔تو اس نے سوچا کہ یہ تو اس ادھیڑ عمر میں بھی مجھے نخرے دکھاتی ہے ۔اگر سولہ سال کی خوبصورت دوشیزہ بن گئی تو مجھے کہیں چھوڑ نہ دے ۔اس نے فوراً خدا سے دعا مانگی ۔یا اللہ میری بیوی کو اسّی سال کی بڑھیا بنا دے۔ لڑکی فوراً اسّی سال کی بڑھیا بن گئی ‘چہرہ جھریوں سے بھر گیا۔بیٹے نے جب دیکھا کہ باپ نے تو اس کی ماں کو اتنا بوڑھا بنا دیا کہ وہ تو اب کسی کام کاج کی نہیں رہے گی۔اس نے فوراً دعا مانگی ۔یا اللہ میری ماں کو اپنی پرانی عمر کے مطابق کر دے ۔ماں فوراً پرانی حالت میں آگئی ۔تینوں کا ایک ایک سوال قبول ہو گیا تھا ۔ نور کی چادر ختم ہوئی اور اندھیرا پھیل گیا۔لیلتہ القدر کی رات ختم ہو گئی ۔ تینوں اس رات کے اثر کی وجہ سے مدہوش ہو گئے تھے۔
صبح گاؤں میں خبر پھیل گئی کہ کاکا اور اس کے خاندان کواس مقدس رات کی زیارت نصیب ہوئی ہے۔ لوگ مبارکباد دینے کے لئے آئے۔مبارکباد دینے کے ساتھ ساتھ وہ اس رات کے واقعات کی تفصیل بھی پوچھنے لگے۔ تیز روشنی کی نوعیت ۔کیا درخت اور عمارتیں واقعی سجدے میں پڑی تھیں۔ خدا سے کیا مانگا۔کیا سوال قبول ہوگئے۔کاکا اور اس کی بیوی مختلف بہانے بناتے رہے ۔بڑھا چڑھا کر رات کی کہانی بیان کرتے رہے۔جب سوالات زیادہ ہوگئے ۔تو اچانک کاکاکا بیٹا ایک پڑوسی سے کہنے لگا۔عالم چاچا !میری ماں اور باپ جھوٹ بول رہے ہیں۔ میں آپ کوسچ بتاتا ہوں۔کاکا اس کو آنکھوں آنکھوں میں منع کرتا رہا لیکن وہ بول پڑا۔رات تو ہم نے دیکھی، ہر طرف نور کی چادر چھائی ہوئی تھی ۔درخت اور عمارتیں سجدے میں پڑی خدا کی ثناء پڑھ رہی تھیں۔ہم نے خدا سے سوال بھی کئے اور وہ قبول بھی ہوئے ۔لیکن نتیجہ کچھ نہیں۔ پھر تم ساری رات کیا کرتے رہے چاچا نے سوال کیا ۔اصل میں ہم تینوںساری رات بے بے کو بناتے اور بگاڑتے رہے۔پھر اس نے سارا واقعہ سنایا ۔لوگوں نے کاکا اور اس کی بیوی کو برا بھلا کہا اور اتنا اچھا موقع ضائع کرنے پر افسوس کا اظہار کیا ۔
اس بدقسمت ملک میں جمہوریت تھوڑے وقفے کے لئے آتی ہے جبکہ زیادہ تر ہم فوجی آمریت کے تحت زندگی گزارتے ہیں۔قانون کی زبان میں کہتے ہیں کہ ۔ (dictatorship is a rule and democracy is exception) آمریت یہاں کا قانون ہے اور جمہوری دور ایک استشنائء ہوتی ہے۔اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ جمہوریت کی مثال لیلتہ القدر کی رات کی ہے۔ جو کسی کسی خوش نصیب کو نصیب ہوتی ہے۔ اس رات کی قدر کی جانی چاہیے۔بڑے بڑے رہنماء اقتدار اورجمہوریت کی خواہش لئے دنیا سے رخصت ہوگئے یا زندہ درگور ہوگئے ہیں۔ولی خان ‘خیر بخش مری ‘غوث بخش بزنجو ‘عطاء اللہ مینگل ‘نوابزادہ نصراللہ‘اصغر خان‘مولانا بھاشانی ‘جی ایم سےّد‘ممتاز دولتانہ اور سردار شوکت حیات کی زندگی اقتدار اور جمہوریت کی تلاش میں ختم ہوگئی۔جمہوریت اور اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کے دوران لیاقت علی خان ‘ذوالفقار علی بھٹو ‘محترمہ بے نظیر بھٹو کی جانیں چلی گئیں۔میاں نواز شریف کو جیلوں ‘اٹک قلعہ اور جلاوطنی کی زندگی گزارنی پڑی۔یہ کرسی بڑی مشکل سے ملتی ہے اور بہت کم وفا کرتی ہے۔اس کرسی پر بیٹھ کر غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی ۔صرف ایک سوال کا موقعہ ملتا ہے۔اس موقع کو غنیمت جان کر اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے ۔
یوں محسوس ہو رہا ہے کہ حکمران امیر کاکا کی طرح جمہوریت کا یہ مختصر عرصہ( فوج کی مرضی پر منحصر ہے)بھی بے بے کو بنانے اور بگاڑنے میں ضائع کر دیں گیں۔عدلیہ کو بحال کرنے اور دوبارہ تقرری کا مسئلہ ۔سترویں ترمیم کا مسئلہ ۔پارلیمنٹ کی بالادستی کا مسئلہ ہو۔اچھی حکمرانی کا مسئلہ ‘صوبائی خود مختاری کا مسئلہ ‘صدر اور وزیر اعظم کے درمیان اختیارات کا تنازعہ ۔یہ سب بے بے بنتے بگاڑتے رات گزر جائے گی ۔اور نتیجہ کچھ نہیں ہوگا۔جب فضاء میں چھائی ہوئی جمہوریت کے نور کی روشنی ختم ہوگی۔پھر حکمران کہیں گے ارے جمہوریت ختم ہوگئی اور ہم کوئی مسئلہ حل نہ کر سکے۔ وہی پرانے مسئلے منہ پھاڑے سامنے کھڑے ہوں گی۔ اگر حکمران خوش قسمتی سے باہر ہوئے تو خیر ورنہ اٹک کا قلعہ تو کہیں گیا نہیں۔اقتدار سے محروم ہونے کے بعد عقل آئی تو کیا فائدہ۔بہتر ہوگا کہ ابھی اس موقعہ سے فائدہ اٹھاکر ملک کو جمہوری راستے پر ڈالا جائے۔معاشی پالیسیوں کو مضبو ط بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ملک کے آئینی اداروں کو بھی تحفظ فراہم کیا جائے۔
معلوم نہیں حکومت ملک کو کس سمت لے جا رہی ہے۔میرٹ اور قابلیت کی بجائے وزارتیں اور مشاورت ذاتی تعلقات اور سیاسی ضرورتوں کو مد نظر رکھ کر دی جا رہی ہیں۔ڈاکٹر عاصم ایک بہترین آرتھوپیڈک سرجن ہیں۔ہڈیوں کے ماہر ڈاکٹر صاحب جناب آصف زرداری کے بہت قریبی دوست ہیں۔انہوں نے جیل میں زرداری صاحب کی بڑی خدمت کی ہے۔ جب حکومت آئی تو زرداری صاحب کا فرض تھا کہ ڈاکٹر صاحب کی خدمات کا اعتراف کیا جاتا۔ یہاں تک تو ٹھیک تھا۔ضرورت اس امر کی تھی کہ ڈاکٹر صاحب کو کسی بڑے ہسپتال میں آرتھو پیڈک سرجن لگایا جاتا۔جناب زرداری صاحب نے ڈاکٹر صاحب کو وزارت تیل و گیس کا با اختیار مشیر مقرر کر دیا۔یہ کیا تک ہے ۔ایک سینیٹر صاحب نے بڑا اچھا تبصرہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ہڈیوں کے ڈاکٹر کو تیل کا مشیر مقر ر کرکے یہ شبہ پیدا کر دیا ہے کہ شایدحکومت اب عوام کی ہڈیوں سے تیل نکالنا چاہتی ہے۔مولانا فضل الرحمان کے مطالبے پر ان کے چھوٹے بھائی مولانا عطاء الرحمان کو وزارت سیاحت دے دی ۔ انہوں نے آتے ہی اعلان کیا کہ غیر ملکیوں کے ڈانس اور شراب نوشی پر پابندی ہوگی۔یہ ان کا سیاسی بیان ہے ورنہ وہ خوب جانتے ہیں کہ سیاحت اور شراب کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔غیر ملکی اور غیر مسلم سیاح لاکھوں روپے خرچ کرکے یہاں تبلیغ کے لئے نہیں بلکہ سیر سپاٹا کرنے کے لئے آتے ہیں۔مولانا کو مذہبی امور یا زکوٰۃ وغیرہ کی وزارت دینے کی بجائے وزارت سیاحت دینے کا مطلب ہے کہ حکومت بے بے کو دوبارہ برباد کرکے دم لے گی۔کیا یہ بہترین جمہوریت اور اچھی حکمرانی کی نشانیاں ہیں؟۔
Source: Daily Jinnah, 19-Feb-09
Recent Comments