میری جانب سے اہل وطن کونیاسال مبارک۔ اگرچہ کرسمس کی مانند نئے سال کی خوشی منانا ہماری روایت میںتو نہیںہے لیکن ہم کھلے دل کے لوگ ہیں اپنے عیسائی ہم وطنوں کی خوشیوں میںبرابر کے شریک ہوتے ہیں، یہ الگ بات کہ ہم اپنی فراغ دلی میںاپنے عیسائی ہم وطنوں سے بھی کہیں آگے نکل جاتے ہیں اوروہ بھی حیران اورپریشان ہوتے ہیں کہ یاالٰہی یہ ماجرا کیاہے کہ یہ لوگ ہمارے تہوار ہم سے بھی زیادہ جوش وخروش سے منانے لگے ہیں نئے سال کی رات کو شہر کے اہم مقامات پرپولیس کے پہرے ہوتے ہیں ڈنڈہ برداروں کے گروہ ہوتے ہیں اوراس کے باوجود ہمارے مسلمان اہل وطن بلندآہنگ موسیقی کی تال پرکاروں کی چھتوں پرچڑھ کر دیوانہ وار رقص کرتے ہیں ،موٹرسائیکلوں کے سائلنسر اتارکرشاہراہوں پرچنگھاڑتے پھرتے ہیںاورمہنگی کاروں میںسوار پیاس بجھاتے ہیں اورانہیں بار بار تیز رفتار کرکے بریکیں لگا کرٹائروں کاربڑ جلاتے ہیںاور جوکچھ درون پردہ کرتے ہیںاسے تو پردے میںرہنے دو پردہ نہ اٹھاؤ۔
عیسائی برادران توشرافت سے ایک دوگھونٹ بھرکرایک دوسرے کوہیپی نیوایئر کی خواہش کرکے سوجاتے ہیں لیکن ہم ساری رات جاگتے ہیں کہ مذہبی رواداری اسے کوکہتے ہیں۔
بہرطور میںسمجھتاہوں کہ اس برس ہمیں نئے سال کی آمد کوپہلے سے کہیںپرجوش انداز میں مناناچاہیے کیونکہ پچھلے برس میںوطن عزیز میںدرجنوں ایسے واقعات رونما ہوئے ہیںجوہماری خوش نصیبی کی دلیل ہیںاور قابل صد مبارک باد ہیں میں اپنے ہم وطنوں کومبارک باد دیتاہوں کہ پچھلے برس ہم نے کم ازکم سوا سو کے قریب لڑکیوںاور لڑکوں کے سکولوں کوبارود سے اڑادیا۔ انہیں ملیا میٹ کردیا میں نے سوات کے ایک بوائز سکول کی عمارت کے کھنڈر میں چند پریشان حال طالب علموں کوگھومتے دیکھا وہ اپنی کتابیں تلاش کررہے تھے اورایک مسمار شدہ گارڈر پرلکھاتھا’’علم حاصل کرو چاہے اس کے لیے چین جاناپڑے‘‘ ایک اورشکستہ دیوار پردرج تھا’’علم بڑی دولت ہے‘‘ سوات میں ہی پچھلے دنوں دوکالجوں کوزمین بوس کردیاگیا کہ ان کی بنیاد عیسائی مشنریوں نے رکھی تھی 1922ء میںسوات کے والی صاحب نے ان درسگاہوں کیلئے اپنی ذاتی زمین وقف کی تھی اوریہاں آئرلینڈ سے راہبائیں آکر تعلیم دیاکرتی تھیں اور وہ اپنی جوانی گزار کربوڑھی ہوکر اس خطے سے لوٹتی تھیں تو ان کے پاس کچھ رقم نہ ہوتی تھی کہ وہ ایک بے غرض جذبے سے کام کرتی تھیں ان دوتعلیمی اداروں کامعیار ایساتھا کہ صوبہ سرحد کے بڑے شہروں سے طالب علم پڑھنے کیلئے یہاں آتے تھے یاد رہے کہ ان تقریباً اسی برسوں میں ایک طالب علم نے بھی اپنے مذہب سے روگردانی نہیں کی یہ دونوں کالج خالی کردیئے گئے تھے کیونکہ دھمکیاں مل رہی تھیں اوراب انہیں ڈھادیاگیاہے آپ سب کوبہت بہت مبارک ۔ پشاور میں صرف ایک روز میںوہاں کے اعلیٰ ترین سکولوں میں شمارہونے والے تین بوائز سکولوں پرگرنیڈوں سے حملے کرکے انہیں جزوی طورپر نذر آتش کردیاگیا اوران کی لائبریریاں اوردفاتر جلادیئے گئے مجھے یاد پڑتاہے کہ ان میںسے ایک میںمجھے مہمان خصوصی کے طورپر مدعو کیاگیاتھا اوراس میںاس کے بلندتعلیمی معیار سے بے حد متاثرہواتھا اس کی لائبریری میں اسلامی کتابوں کاایک قابل قدر ذخیرہ تھا اس کیلئے بھی بہت بہت مبارک باد۔
سکول جانے والی بچیوں کی وین کوآگ لگاکر انہیں جلادینے پربھی مبارک۔
اورہاںاس برس قابل مبارک باد واقعات کی کچھ کمی نہیںرہی۔ بلوچستان میں تین عورتوں کوزندہ دفن کردیاگیا کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس میںمبالغہ آرائی کاعنصر شامل ہے انہیںپہلے اچھی طرح ہلاک کردیاگیاتھا اس لیے کوئی ایسا ظلم نہیںہوا۔ اگر انہیںکفن کے بغیر گڑھے میںپھینک کرمٹی برابر کردی گئی تھی تو بھی اس طرح تو ہوتاہے اس طرح کے کاموں میں۔جبکہ ایک معزز قانون ساز سینیٹر صاحب نے تو بیان بھی دیاتھا کہ یہ ہماری قبائلی روایت ہے اوردوسرے لوگ اعتراض کرنے والے مامے لگتے ہیں تو ان سینیٹرصاحب کوبھی نیاسال مبارک کہ وہ ماشاء اللہ سے مرکز میںوزیرہوگئے ہیں۔
وزیرستان آپریشن کے دوران بے گھر ہونے والے لاکھوں شہری جودربدرہورہے ہیں تو اس میںکچھ قباحت نہیں اوراگر امریکی بے پائلٹ طیارے روزانہ ہمارے بچوںاور بوڑھوں کوہلاک کرجاتے ہیںتو وہ سب کے سب غیر ملکی دہشت پسند ہوتے ہیںاس آپریشن کیلئے بھی اہل وطن مبارک باد کے مستحق ہیں۔
سوات میںبجلی بند،پانی بند اورشہری بند۔ہزاروں کی تعداد میں یہ بیوقوف لوگ ان دنوں مظاہرے کررہے ہیں کہ ہمارے حال پررحم فرمائیے ہمیں نہ آپ درکار ہیںاور نہ وہ۔ ہمیںامن درکار ہے بوڑھوں کیلئے پانی اوربچوں کیلئے دودھ درکار ہے ان کیلئے بھی تو مبارک۔
اس برس کی مبارکبادوں کاکوئی انت نہیں۔نہ ہندوستان میں نہ سوڈان میں یہاںتک کہ سکم اوربھوٹان میںبھی بجلی کی زیادہ کمی نہیں صرف پاکستان میںبجلی کی لوڈشیڈنگ جاری ہے بجلی آتی ہے چلی جاتی ہے اس کالم کے لکھنے کے دوران دوبار گئی ہے لیکن ہم کن کن نعمتوں کے شکرگزار ہوںگے بجلی دو بار واپس بھی آگئی ہے کون سی ملکی ترقی اورکون سی صنعتی ترقی۔ چھوٹے موٹے پیشہ ور لوگ درزی، لوہار، ملک شیک بنانے والے، گوشت سے قیمہ بنانے والے، ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں طالب علم اب یوں بھی کم رہ گئے ہیں کیونکہ درسگاہیں مسمار کی جارہی ہیں لیکن جتنے بھی رہ گئے ہیںموم بتیاں جلاکرپڑھنے کی کوشش کررہے ہیں اسے کہتے ہیںعلم کی روشنی پھیلنا لوڈشیڈنگ کیلئے بھی مبارک باد۔
ہندوستان کی جانب سے یہ دھمکی کہ ہم نے پاکستان کے ہزاروں ٹارگٹ نشانے کیلئے پن پوائنٹ کرلیے ہیں اورہم پاکستان کوتباہ کردیںگے اورمحسن پاکستان کی جانب سے یہ خوشخبری کہ ہم ایٹم بم برسا کرہندوستان کوسات منٹ کے اندر اندر نیست ونابود کردیںگے تو ہندوستان اورپاکستان دونوں کوبہت بہت مبارک باد۔ چونکہ اس صورتحال میں ہم دونوں ملکوںکاکوئی فرد بھی زندہ نہ بچے گا اس لیے یہ کیسے پتہ چلے گا کہ جیت کس کی ہوئی اس کاآسان حل یہ ہے کہ کسی اورملک کوجویہاں سے ذرا فاصلے پرہو ریفری مقرر کردیاجائے تاکہ وہ بعد میں کھنڈروں کے ڈھیر پرکھڑا ہوکرفاتح کااعلان کردے میری ان گزارشات کے بعد کون ہے جوپورے جوش وخروش سے نئے سال کااستقبال نہ کرے۔
اہل وطن کومیری جانب سے نیاسال مبارک۔ ہیپی نیوایئرٹویو۔
پیر دسمبر 29, 2008
Recent Comments