May 242015
 

 

وسعت اللہ خان


BOLآپ اسے پاکستانی صحافت کا نائن الیون کہہ لیں کہ میڈیا کا بی سی سی آئی سکینڈل۔لیکن جو صحافت اربوں روپے کے بینک قرضے معاف کرانے والوں، کوآپریٹو سوسائٹیز سکینڈل میں ہزاروں لوگوں کی جمع پونجی ڈبونے والوں، انویسٹمنٹ کمپنیوں کے ہاتھوں اپنی ماؤں کی چوڑیاں اور بیٹیوں کا جہیز لٹوانے والوں، ڈبل شاہوں کے ہاتھوں پندرہ دن میں رقم دوگنی کرانے کی اندھی لالچ اور بلاسود اسلامی سرمایہ کاری کے نام پر چند دنیا پرست قاریوں اور مفتیوں کی جعلساز مضاربہ کمپنیوں کو برداشت کرگئی وہ ایگزیکٹ سکینڈل بھی لسی سمجھ کے پی جاتی اگر اس کے ساتھ بول ٹی وی پروجیکٹ نتھی نہ ہوتا۔

Continue reading »