May 132016
 

فراز ہاشمی

پاکستان میں موجودہ سیاسی بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتا چلا جا رہا ہے اور بظاہر حکومت کے لیے اس بحران سے نکلنے کے راستے مسدود ہوتے جا رہے ہیں۔

یہ بحران پاناما لیکس میں سامنے والے حقائق سے شروع ہوا اور اب تک کیا کیا ہوا؟ Continue reading »

 Posted by at 8:32 pm
Jan 032016
 

روزن دیوار سے-عطا الحق قاسمی

سوالات ہر ذہن میں اٹھتے ہیں جن کے جواب لوگ تلاش کرتے رہتے ہیں لیکن میرے ایک دوست کے ذہن میں سوالات نہیں بخارات اٹھتے ہیں جنہیں وہ سوالات کی شکل دے کر ہر ایک سے ان کے جواب پوچھنے میں لگے رہتے ہیں! چند روز قبل وہ میرے پاس تشریف لائے اور کہا ’’ان دنوں ایک نہایت اہم قومی مسئلے کے حوالے سےایک سوال ذہن میں پیدا ہواہے مگراسکا جواب نہیں مل رہا‘‘ میں نے پوچھا ’’سوال کا تعلق داعش کے حوالے سے ہے؟‘‘ بولے ’’اس طرح کے نان ایشوز پرگفتگو تو تم لوگ ذہنی عیاشی کے لئے کرتے ہو، ورنہ ان ’’پیٹی‘‘ معاملات کا ملک و قوم کے اہم مسائل سے کیا تعلق ؟‘‘ اس پر میں نے شرمندہ ہو کر کئی اور سوالات ان کے سامنےرکھے کہ شاید وہ ان کے بارے میں سوچ رہے ہیں لیکن جب ہر سوال پر انہوں نے ناگواری سے ’’نہ‘‘ میں سر ہلایا تو میرے اصرارپراصل سوال سے انہوں نے پردہ اٹھایا اور بولے ’’جب ہم ایک دوسرے کوفون کرتے ہیں تو اصل موضوع پر گفتگو سے پہلے ہم ایک دوسرے کاحال احوال پوچھتے ہیں۔ کیوں پوچھتے ہیں؟ ‘‘میں نے کہا ’’اس لئے کہ اخلاق کاتقاضہ یہی ہے!‘‘ بولے ’’ٹھیک ہے، لیکن گفتگو کے اختتام پر ہم ایکبارپھر حال پوچھتے ہیں، کیوں پوچھتے ہیں؟‘‘ میں نے جواب دیا’’اس لئے کہ بات ایک دم ختم نہیں کی جاسکتی۔ اسے بہتر نوٹ پر ختم کیا جاتا ہے!‘‘ پوچھنے لگے ’’گفتگوکے درمیان میں بھی ہم حال پوچھتے ہیں۔ کیوں پوچھتے ہیں؟‘‘ میں نے جواب دیا ’’احتیاطاً!‘‘ بولے ’’مان لیا لیکن جب ہم یہ بات کہہ چکتے ہیں اور ہمارے پاس کہنے کے لئے کچھ نہیں رہتا پھر ہم بہت دیر تک….. ہور کیہہ حال اے؟….. کی تکرارکرتے رہتے ہیں، کیوں کرتے ہیں؟‘‘ اس بارمیں نے لاجواب ہو Continue reading »

 Posted by at 12:19 pm
Jan 032016
 

ذراہٹ کے- یاسر پیر زادہ

اگر کالم کا عنوان دیکھنے کے بعد کسی کا خیال ہے کہ اس کالم کو پڑھنے کے بعد اسے وہ تمام جوابات مل جائیں گے جن کا وہ لڑکپن سے متلاشی ہے تو ایسے ابھرتے ہوئے نوجوان سے گزارش ہے کہ وہ خوش فہمی کا شکار نہ ہو اور فوراً اپنے منہ پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مار کر فیس بک پر کسی ایسی خاتون کی ڈی پی لائیک کرے جس نے اپنی شناختی کارڈ کے لئے کھنچوائی ہوئی تصویر پوسٹ کی ہو، مولاکرم کرے گا۔ Continue reading »

 Posted by at 11:50 am
Jan 032016
 

چوراہا-حسن نثار

مبارک ہو
چوروں، ڈاکوئوں،لٹیروں، ٹھگوں، جیب کتروں، قبضہ گروپوں،رشوت خوروں، بلیکیوں وغیرہ کو نئے سال کے ساتھ ساتھ کالا دھن سفید کرنے کی کالی سکیم مبارک ہو جس سے ان کی معیشت مزید مضبوط ہوجائے گی، عوام کی مزید کمزور۔صرف ایک فیصد دے کر5 کروڑ روپے تک کالا پیسہ حکمرانوں کے خون کی طرح سفید کرالو کہ یہ عوام دشمنی بھی عوام ہی کے نام پر کی جارہی ہے۔ کیسا’’اسلامی‘‘ جمہوریہ ہے جس کے گلے میں پلی بارگیننگ کا قیمتی نیکلس ہے اور ماتھے پر جھومر اس طرح کی شرمناک سکیمیں ، کہیں حکمران آنے والے دنوں کی’’تیاری‘‘ تو نہیں کررہے ؟ یکم جنوری جمعہ کی شام کچھ تاجر کسی نجی ٹی وی چینل پر بیٹھے ماتم کررہے تھے کہ یہ چوروں کی طرف سے چوروں کو نئے سال کا تحفہ ہے۔ معیشت کو مضبوط کرنے کے نام پر معیشت کو برباد کرنے کی سکیم ہے جو رہی سہی اخلاقی اقدار کا بھی جنازہ نکال دے گی۔ یہ ہے اصل فحاشی اور بدکاری کی سرکاری ترغیب جس کے بعد کوئی پاگل دا پتر ہی حلال و حرام، جائز اور ناجائز میں فرق روا رکھے گا اور کمال دیکھو بدکار ی کی یہ زندہ مثال

Continue reading »

 Posted by at 11:42 am